آج کی بات یقین ِ کامل

آج کی بات یقین ِ کامل

      No Comments on آج کی بات یقین ِ کامل




انتخاب: صائمہ جبین مہک

آن لائن اردو نیوز: دنیاوی خواہشات سے بچنے کے لیے دنیا سے بے رغبت ہونا پڑتا ہے۔ جو لوگ حق کی راہ پر چل رہے ہوتے ہیں انکو دنیا سے بے رغبتی ایسے مقام پر لے جاتی ہے جو شکر کا مقام ہوتا ہے۔ صبر کا مقام ہوتا ہے اور اُس سے جو سکون اورفیض ملتا ہے اس کا اندازہ صرف اُس شخص کو ہو سکتا ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو کر اپنے آپ کو اپنے مالک کے سپرد کر دیتا ہے اور پھر مالک اس کو جو سکون عطا فرماتا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اور پھر جیسے وہ خود فرماتا ہے کہ جیسا میرے بارے میں گمان کرو گے مجھے ویسا ہی پاﺅ گے اور پھر وہ آپ کو عطا بھی ایسی جگہ سے کرتا ہے جو آپ کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ دنیا سے بے رغبتی ہے لیکن قربت الہی آپ کو حاصل ہو رہی ہے۔ قربت الہی ایسی چیز ہے کہ اللہ کے قرب سے ہمیں کسی چیز کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی ۔ علم بھی اگر آپ کو ملتا ہے وہ بھی قربتِ الہی سے ہی ملتا ہے چاہے وہ دنیاوی علم ہو یا دین کا علم ہو۔ وہ سب کچھ دینے والا رب کائنا ت ہے۔ وہ اس طرح سے کہ اگر اُس کا حکم نہیں ہو گا تو آپ اس کے حصول تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اور جب اس کا حکم ہوتا ہے اور اُ س کی رضا ہوتی ہے اور بندے کی بھی رضا ہوتی ہے۔ بندہ چاہتا ہے کہ میں وہ علم حاصل کروں جو قرب الہی کا باعث بنے تو رب پھر اُ س کے پاس دوڑ کہ آتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہے،اُ س کی آنکھیں بن جاتا ہے۔ اُس کے کان بن جاتا ہے اور پھر آپ یقین کریں کہ بند کتاب میں سے بھی وہ اپنے بندے کو علم عطا کرتا ہے وہ جو کچھ اس کے دماغ میں اتارتا ہے وہ اس کے لیے اُس کا جو پہلے کا مشاہدہ اور مطالعہ ہوتا ہے اُس مشاہدے اور مطالعے کو قدرت عطا کرتا ہے۔

اور وہ اُس کے پیش ِ نظر پتہ نہیں دماغ میں کیا کچھ کہاں سے لے آتا ہے، کیسے بول دیا جاتا ہے اور کیسے وہ اثر کرتا ہے اور اُس کو جواپنا علم آگے بڑھانے کا تقسیم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بزرگان دین کہتے ہیں کہ اے فقیر تو غنی بننے کی تمنا مت کر کیا عجب کہ وہ تیری بربادی کا باعث ہو۔ اور اے مبتلائے مرض تو تندرستی کی آرزو مت کر شاید وہ تیری ہلاکت کا باعث ہو۔ اور صاحب عقل بن اپنے ثمر کو محفوظ رکھ تیر انجام محمود ہو گا اور قناعت کر اس پرجو تجھ کو حاصل ہے اور اس پر زیادتی کا خواہاں مت ہو۔ حق تعالی جو چیز تجھ کو تیرے مانگنے پہ دے گا وہ مقدر ہو گی۔ ہم نے بھی اور بہت سے بزرگان دین نے اس کو آزمایا ہے کہ اگر بندے کو قلب کے اعتبار سے مانگنے کا حکم کیا جائے تو سوال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ حکم کے وقت مانگے گا تو اُس میں برکت دی جائے گی اور اُسے تنگیاں دور کر دی جائیں گی۔ اور مناسب ہے کہ تیرا اکثر سوال عافیت دارین، دین و دنیا اور آخرت میں دائمی فلاح ہو۔ فقط اسی سوال پہ قناعت کر اللہ پر کسی چیز کا انتخاب نہ کر اور نہ اپنی طرف سے تخصیص کر۔ اور نہ و ہ شے مانگے جو حق تعالی نے ازخود تیرے لیے انتخاب نہیں کی اور متکبر مت بن ورنہ اللہ تعالی تجھ کو توڑ دے گا۔ اب غور کریں کہ کیسی باتیں ہیں کہ تکبر نہ کریں اپنی انا کو توڑیں اپنے گھمنڈ کو توڑیں ۔اپنے علم کا غرور نہ کریں ،کیونکہ اگر تو اس کے مطا بق طلب کرے گا تو تجھے ملے گا نہیں بلکہ تیر ا سب کچھ تیر ا ذہن ،تیرا علم تیری عقل بھی تجھ سے چھین لی جائے گا اور یہ سب تیرے رب کے کارنامے ہیں۔ اور رب جس کو چاہتا ہے اُس کو عطا کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی مانگنے والے کی کبھی خواہشات کا دخل ہو تا ہے ۔ جو دنیا مانانگتا ہے وہ اسے دنیا دیتا ہے۔ جو دین مانگتا ہے وہ اس کو دین دیتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی قربت مانگتا ہے وہ اس کو وہ قربت عطا کرتا ہے۔ جو اپنے اہل و عیا ل کی قربت مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس کو وہی قربت عطا کرتا ہے۔اور دوسرا مقصد یہ بات کہنے کا کہ جب اللہ سے مانگیں تو بڑے یقین کے ساتھ مانگیں کہ یہ اللہ نے ہمیں دے دیا ہے۔ اور ہمیں دے گا کیونکہ وہ رب ہے اور وہ ستر ماﺅں سے بڑھ کہ پیار کرنے والا ہے۔وہ آپ کو واپس نہیں پلٹائے گا۔وہ آپ کو عطا کرے گا۔ لیکن آپ پہلے تو کہتے ہیں اللہ تعالی ہمیں آپ یہ عطا کر دیں پھر کہتے ہیںکہ پتہ نہیں یہ ملے گا بھی یا نہیں۔ تو یہ پھر آپ کے یقین کی کمی ہے،،،یقین کامل ہونا چاہیے ۔جتنا آپ کا یقین کامل ہو گا آپ کا بھروسہ کامل ہوگا اس رب پر آپکا ایمان واعتقاد ہو گا تو آپ سمجھ لیں کہ جو کچھ آپ نے مانگا ہے آپ کو ملے گا کیونکہ وہ رب ہے۔ وہ عطا کرنے والا ہے۔ وہ کبھی آپ کو اپنے درسے مایوس نہیں لوٹائے گا۔ بس یقین کامل ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *