آج کی بات یا رب

آج کی بات یا رب

      No Comments on آج کی بات یا رب




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ۔میرے رب کا نور فضا میں پھیلا ہوا، سرروجمال، جلال اور رب کے انوار کے کمال رورح کو روشن کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اورہم کشاؤں کشا ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کا انتظار کر تے ہوئے رب کی بارگاہ کی طرف بڑھنے چلے جا رہے ہیں۔الحمد للہ ،الحمدللہ،الحمدللہ۔کہ ایک اور روشن صبح اُس نے عطا فرمائی اور ہمیں شکر گزاری کا مزید موقع فرہم کیا۔ہم جو اُس کی مخلوق ہیں،ہم جو اُس کے بندے ہیں وہ ہمارا معبود ہے اور ہم اُس کے عبد ہیں،ہمیں اُس کی بندگی میں لطف آتا ہے کیونکہ وہ لطف و کرم کرنے والا ہے ۔وہ اپنی رحمتوں کی اس طرح بارش کرتا ہے کہ ہم اُس کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔کس قدر پیارا ہے ہمارا رب کہ اُس نے وہ کچھ عطا کیا جس کے یقیناًہم حقدار نہیں تھے۔اور ہمارے قلب سے شکر الحمدللہ کے علاوہ ہر وقت یہ آواز بھی آتی ہے (فبای الاء ربکما تکذبان) اور یہ حق ہے، سچ ہے اور ندائے رب ہے ۔اس ندائے ربی سے ہماری آنکھیں اشک بار ہیں۔ایک خمار ہے ایک نشہ ہے،ایک مستی ہے ،ایک کیف ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ یہ کیفیت تو ہر ایک بندے کو عطا کر اور ہمارے دل میں بھی پوری مخلوق کے لیے محبت جلوہ گر فرما۔اور ہمیں بھی ہمارے سینوں کو بھی اپنے نور کا رستہ بتا دے۔

بے شک تُو زمینوں اور آسمانوں کا نور ہے۔یا رب ہمیں بھی جادۂ عرفاں عطا کردے اور منزلِ نور کا رستہ بتا دے۔ہمارا شکر قبول کر کے ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شامل کر دے جن سے تُو راضی ہوا۔ہم تجھ سے تجھ کو مانگتے ہیں رب۔اور تجھ کو پا کہ اُس کرم کو اور اُس عطا کو بھی مانگتے ہیں جو تُو ہم پہ کرتا ہے۔تا کہ ہم بھی اِ س قابل ہو جائیں کہ ہم بھی اپنے ملنے والوں میں اپنے قرب و جوار میں تیری خلقت میں تھوڑا بہت ایک رتی برابر بھی یہ صفات ہمارے اندر داخل ہو جائیں جو تیری رحمانیت کا ثبوت ہیں۔تو ہم بھی شاید ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کو تُو پسند کرتا ہے۔ ہمیں قبول فرما لے تو ہمارا رب ہے۔ اور جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *