آج کی بات امید اور حقیقت میں توازن

آج کی بات امید اور حقیقت میں توازن




انتخاب: صائمہ جبین مہک

آن لائن اردو نینوز: شکرالحمدللہ۔ ایک اور روشن اُمید کی کرنوں سے بھرپور، رب کے جاو وجلال سے روشن دن جو ایک اور امید دلاتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کچھ اچھے کام کرنے کے لئے یہ دن عطا کیا اور ہم اُس کی ہر نعمت پر اُس کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اور اُس ربِ کریم کے دربار میں حاضر ہو کرسجدئہ شکر ادا کرتے ہیں۔ اور اس بات پر بھی اُس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ امیدوں اور حقیقتوں کے درمیان توازن رکھنے کا سلیقہ اُس نے ہمیں سکھا دیا، کیونکہ اس نے ہمارے اندر سے منفی سوچوں کو نکال کہ مثبت سوچوں کو ڈال دیا۔ امیدوں اور حقیقتوں کے درمیان توازن رکھنے والا شخص کبھی غمگین نہیں ہوتا۔ کیونکہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے اور امید دھندلکوں میں گم ہوتی ہے۔ ہونے نہ ہونے کے درمیان کی کیفیت جو انسان کو عجیب سے مخمصے میں گرفتار رکھتی ہے اور جو شخص ان کے درمیان فرق کو سمجھ لیتا ہے وہ حقیقی طور پر حقیقت کے اور رب ِ حقیقی کے قریب ہو جاتا ہے اور اُس کا اعتماد اپنے رب پر بڑھ جاتا ہے تو وہ جس کا اعتماد رب پر ہو جاتا ہے وہ غمگین نہیں ہوتا کیونکہ اداس پریشان یا ڈیپریشن کا شکار وہی ہوتا ہے جس کو خالق پہ، مالک پہ ،اپنے رحمان پہ،ستر ماﺅں سے بڑھ کر پیار کرنے والے پہ بھروسہ نہیں ہوتا۔

اور بہت خوش قسمت ہیں وہ جو زوال کی طرف جائیں یا کمال کی طرف صرف اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ تو کتنی مہربانی ہے اُس رب کی کہ جس نے ہمارے دل میں اپنی نعمتوں کے لیے شکر ہی شکر بھی دیااور ہر چیز کو توازن کو پررکھنے کا طریقہ سکھا یا کہ ہماری زبانوں پہ شکر جاری کر دیا۔ اور ایک اور پیاری حقیقت یہ ہے کہ عاجزی میں کامیابی ہے،تکبر میں ناکامی ہے، سچ میں خوشی ہے جھوٹ میں پریشانی ہے۔ گناہ میں بیماری ہے اور استغفار میں شفا ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہیں اور ان حقیقتوں کو اپنا کر جب ہم اپنے رب کے شکر گزار بن جاتے ہیں تو رب ہمار ا ہو جاتا ہے تو پھر جس کا رب اس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *