آج کی شخصیت رب کی رضا

آج کی شخصیت رب کی رضا

      No Comments on آج کی شخصیت رب کی رضا




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

ایک مشہور تابعی قیس ایک دن بیٹھے تلاوت قرآن سن رہے تھے کہ ایک آیتِ مبارکہ نظر سے گزری، جس میں کہا گیا تھا “اور ہم نے قرآن کو تمہارے لیے اُتارا جس میں تمہار ا ذکر کیا گیا ہے” آپ نے قرآن کی آیات کو دیکھنا شروع کیا اور اپنے آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کی کہ میں کہاں ہوں۔اور دیکھا کہ اُس میں اُن لوگوں کا ذکر تھا جو کچھ رات سوتے تھے اُس کے بعد اُٹھتے ہیں اور اللہ کی عبادت میں لگ جاتے ہیں اور اپنے مال کو مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں دونوں میں برابر خرچ کرتے ہیں۔ اور پھر وہ تابعی آگے بڑھے کہ یہاں تو میں نہیں نظر آتا اور دوسری جگہ لکھا تھا کہ “وہ لوگ جو اپنے بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور اپنی راتوں کو اور دن کو عبادت میں گزارتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے لوگوں پر خرچ کرتے ہیں” یہاں پر بھی وہ ذرا حیرت کا شکار ہوئے اور تیسری جگہ ارشاد تھا”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کر کے عجز و ادب سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔اور پھر کچھ لوگوں کا ذکر آیا سورہ العمران میں “جو آسودگی اور تنگی میں اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے ہیں اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں۔اور خدا نیکوں کاروں کو دوست رکھتا ہے”اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اخلاق سے جن کی زبان سے کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچتی اور یہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے نظر آئے جن کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ اُس پہ نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے تکبر میں نعوذبا للہ خدا کو بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو شیطان کے پھندے میں پھنسے ہو ئے ہیں۔

شیطان اُنکو جس طرف چلاتا ہے وہ اُسی رستے پر چلتے ہیں اور اپنے نفس کے غلام ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو بھی مانتے ہیں لیکن دنیا میں بھی اُ ن کا دل پھنسا ہوا ہے دنیا کے کاموں میں بھی وہ لگے ہوئے ہیں اور غلطیاں بھی کرتے ہیں معافی بھی مانگتے ہیں اور اللہ تعالی اُن کو اُن کی معافی مانگنے پہ معاف بھی کر دیتا ہے اور ان کے لیے بہتری کے راستے ڈھونڈتا ہے تو اُن تابعی نے کہا شاید میں خود کو اس مقام پہ پاتا ہوں جہاں سے میں اللہ تعالی سے بخشش کا طلب گار ہوں ۔اب آپ دیکھیں کہ اللہ کے جو نیک بندے ہیں اُن میں کس قدر عجزو انکسا ری ہے اور اپنی میں کی نفی وہ کس حد تک کرتے ہیں اور اپنے آپ میں کوئی تکبر کوئی غرور پیدا نہیں ہونے دیتے اور اپنے مقام کا خود تعین نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالی اور دنیا والے خود اُن کے مقام کا تعین کرتے ہیں۔اور یقیناًوہ لوگ بہترین مقام پر ہیں جو اپنے رب کی رضا کو مقدم سمجھتے ہیں اور اُس کے بتائے ہوئے رستے پہ چلتے ہیں۔اور اُس کے بتائے ہوئے رستے سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ توشکر الحمدللہ کہ ہمیں رب نے ایک اور روشن خوبصورت دن عطا کیا تا کہ ہم اپنے اعمال کو اُسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھال سکیں۔ قرآن کریم کے مطابق زندگی بسر کر سکیں تا کہ ہمارا رب ہماری طرف متوجہ ہو اور وہ ہمارا ہو جائے اور جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *