آج کی بات نفرت کا زہر مٹا دیں

آج کی بات نفرت کا زہر مٹا دیں




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ ایک اور پیارا اور خوبصورت نورانی دن، نور کی روشنی سے منور ہمارے دل میں روشنی بن کر اترنے والا، ہمارے رب کی عطا ہے۔ ہمارے رب کا کرم ہے کہ اُس نے اپنے اس دارالامتحان میں گزارنے کے لیے ایک اور دن ہمیں عطا کیا۔اور یہ دنیا یقیناًدارالامتحان ہے۔یہاں امتحان ہم دے رہے ہیں۔اور سب سے زیادہ امتحان ہمارے قریبی رشتہ داروں اور ملنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔جو جتنا قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی سخت ڈنک بھی مارتا ہے۔کیونکہ رشتہ دار بچھوؤں کی مانند ہوتے ہیں۔رشتے داروں کے ڈنک کے زہر کو رگوں میں لیے پھرنا ایک نقصان دہ عمل ہے۔ او ر یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈنک اس دارالامتحان میں آپ کے عزیز وں اور رشتہ داروں سے ہی ملے۔آپ کے قرابت دار آپ کے دوست،آپ کے ملنے والے جو آپ سے آپ کی ترقیوں اور کامرانیوں کی وجہ سے حسد اور جلن رکھتے ہیں تو وہ آپ کو نقصان پہنچانے کی بھی کو شش کرتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی رضا کو نہیں سمجھتے اور اسی بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے عزت عطا کرتا ہیاور کسی کے برا چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔تو آپ بھی اگر دیکھ رہے ہیں اور ان مراحل سے گزر رہے ہیں اور آپ کے عزیز و اقرباء ،بچھو بن کر آپ کو ڈنک مار رہے ہیں تو سب سے پہلی فرصت میں آپ اس عمل کو اگر برا سمجھ رہے ہیں آپ کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو اس سے باہر نکل جائیں۔ وہ اس طرح کہ آپ ان لوگوں سے دل میں محبت کرنا شروع کردیں۔ نفرت یا برائی جو آپ کے دل میں ہے اس کو نکال دیں ۔ اور آپ کی طرف سے پوزٹو کرنیں ان کو پہنچنا شروع ہوں گی تو دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے اور دوسرے آپ کے اندر کی جو صحت ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی۔کیونکہ ہم روحانی طور پر بھی بیمار ہوتے ہیں۔ جب ہم لوگوں کی نفرتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں۔انھیں محسوس کرتے ہیں۔ان کا زہر اپنے اندر اُتار لیتے ہیں۔تو وہ زہر ہمارے لیے بیماری کا باعث بن جاتا ہے۔ اور اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مثبت سوچنے اور نفرت کو دل سے نکالنے سے ہماری دنیاوی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے اور آخرت کی منزل بھی آسان ہو جاتی ہے ۔ اور بوقت موت جان بھی آسانی سے نکلتی ہے۔ڈیٹا کم ہوتا تو شٹ ڈاؤن جلدی ہو جاتا ہے۔ ورنہ فرشتوں کو پروگرام بند کرتے کرتے کافی دن لگ جاتے ہیں۔ہم اللہ پاک سے معافیاں مانگتے ہیں،معافی کی امید رکھتے ہیں مگر یقین جانیں کہ اللہ بھی معاف کرنے والوں کو معاف کرتا ہے،اگر آپ کسی کو معاف نہیں کر سکتے تو اللہ بھی آپ کو اتنی آسانی سے معاف نہیں کرے گا۔جو لوگ ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے اللہ انھیں معاف نہیں کرتا ،عام توعام،خاص موقعوں پر بھی اللہ پاک فرشتوں کو کہتا ہے کہ ان کا کیس ایک طرف رکھ دو۔ جب تک یہ ایک دوسرے کو معاف نہ کر دیں۔

اس میں سوموار،جمعرات،نصف شعبان اور لیلۃ القدرکے مواقع ایسے ہیں جن کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتے ہیں مگر شحن والوں کی فائل ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور شحن چارج کو کہتے ہیں یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر وقت چارج رہتے ہیں اور وہ ہی بلڈ پریشر کا شکار ہوتے ہیں اور ان کو سوتے بھی ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔تو یہ ڈراؤنے خواب یہ آپ کی اندرونی نفرت کی پیداوار ہیں جو آپ کے اندر ایک فلم چل رہی ہے اور آپ معاف نہیں کر پا رہے۔ اور آپ کسی کو معاف نہیں کر رہے بلکہ آپ اپنے آپ کو معاف نہیں کر پارہے۔ تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ بیماریوں سے دور رہیں،تکلیفوں سے دور رہیں تو آپ اس فائل کو ریمو کرنے کی کوشش کریں اور معاف کریں تو اللہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کرے گا۔چاہے کسی نے آپ کو کتنی تکلیف دی ہو آپ اس کو معاف کر دیں۔ یقین کیجئے رتی برابر نفرت یا نغض و حسد اور کینہ دل میں ایک اُبال ڈال کہ رکھتا ہے۔ اور یہ اُبال اندر اندر ایک خطرناک بیماری کو جنم دیتا ہے۔ اور جس طرح سے آپ معاف کرتے چلے جائیں گے آپ کا رب آپ کو معاف کرتا چلا جائے گا۔آپ کے اندر جو منفی ریکارڈنگ ہے وہ ختم ہوتی جائے گی۔ اور ایک خوشی کی فائل کھلتی جائے گی۔ اور یہ خوشیاں آپ کے ریکارڈ میں بھی جمع ہوں گی آپ کے دل کے اندر بھی جمع ہوں گی۔ آپ کے باہر بھی نظر آئیں گی۔ اس کا اثر آپ کی شخصیت پر بھی نظر آئے گا اور آپ ایک محبت بھری ،دل پسند شخصیت بن کر ابھریں گے۔اور آپ کے اند رسے نکلنے والی محبت کی ریڈیشن دنیا میں خوبصورتی پھیلائے گی۔اور آپ کو ایک بہت ہی پیارا انسان بنا د ے کی ،جو رب کا بھی پسندیدہ ہے اور دنیا کا بھی پسندیدہ ہے۔آپ اس حیثیت میں دوسروں کے سامنے آئیں گے کیونکہ آپ کا رب آپ سے راضی ہو جائے گا۔ اور پھر جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *