ہسپتالوں میں دوا نہ ہونے پر گیارے بچے موت کی آغوش میں چلے گئے

ہسپتالوں میں دوا نہ ہونے پر گیارے بچے موت کی آغوش میں چلے گئے




پشاور (آن لائن اردو نیوز) ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ صحت کے پاس خناق مرض کے متاثرہ بچوں کے لیے دوا انٹی ڈیپ تھیریا سیرم کے آخری چار وائلز بھی ختم ہوگئے اور اس بیماری کی دوا میسر نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ خیبرپختونخواہ میں متاثرہ بچوں کی زندگی خطرے میں گھری ہوئی ہے۔ تفصیل کے مطابق متاثرہ بچوں کے والدین اسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت بڑے بڑے ہسپتال جو کہ ایم ٹی آئی کا درجہ رکھتے ہیں نے دوائیوں کا کوئی انتظام نہیں کیا اور نہ ہی ان سے کوئی انتظام ہو رہا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں اب تک گیارے بچے موت کی آغوش میں سو چکے ہیں اورمزید معلوم ہوا ہے کہ جنوری دو ہزار سترہ میں گیارہ ضلعوں سے اس بیماری سے متاثر بچوں کی تعداد اک سو پندرہ ہو گئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ متاثر بچوں کی تعداد سینتالیس ہے اور یہ سینتالیس بچے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتے ہیں۔ صرف قبائلی علاقوں میں خناق کے متاثرہ بچوں کو اے ڈی سی دوا کے اٹھارہ سو چوبیس وائلز دیے گئے تھے لیکن خناق کے وبائی صورت اختیار کرنے پر کے پی کے حکومت کو مزید اے ڈی سی دوا منگوانا پڑی جو کہ اکتوبر میں چھ سو اکاون وائلز محکمے کو دیے گئے جو کہ گزشتہ روز ختم ہو گئے ہیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *