آج کی بات منفی و مثبت سوچ اور رویے

آج کی بات منفی و مثبت سوچ اور رویے




کالم نگار: صائمہ جبین مہکؔ

آن لائن اردو نیوز: انسان کی شخصیت اُس کی سوچ کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ انسا ن کی منفی و مثبت سوچ اُس کی شخصیت کے بناؤ اور بگاڑمیں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس طرح کھائی جانے والی خوارک کے انسانی جسم کی نشونما پہ اثرات ہوتے ہیں اسی طرح انسانی سوچ اُسکے افکار کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے میں زندگی کا تسلسل اس طرح جاری رہتاہے کہ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ کس طرح خود کا آلہ کار ہے۔ ہماری زندگیوں کا بیشتر وقت دوسروں کے مرہون منت گزرتا ہے اس لیے ہمارے شخصیت میں داخلی و خارجی دونوں عناصر اثر انداز ہوتے ہیں، پیدائش کے بعد انسان ماں باپ خصوصاً ماں کی نگرانی میں ہوتا ہے، تب بچہ اپنے تحفظ و بقاء کا محور صرف ماں باپ کو سمجھتا ہے۔ پھر جیسے ہی اسکا سماجی حلقہ بڑھتا ہے تو یہی بچہ معاشرے میں اپنے والدین کے ساتھ بہن بھائیوں، عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو اپنے گرد گھرا ہوا پاتا ہے اور لا شعوری طور پر اُنکی تقلید میں لگ جاتا ہے۔ اسکے بعد بچے کی تعلیم و تر بیت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور معاشرتی حلقہ مزید وسیع ہو جاتا ہے پھر اس کی سوچوں کے محور میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اُن میں اساتذہ کا رویہ، ہم جماعتوں کا رویہ اور مزید دوسرے بچوں کے والدین کے رویے اور افکار اثر انداز ہونے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح بچوں میں ذہنی و جسمانی نشونما کے اس بڑھوتری کے عمل میں بواسطہ یا بلاواسطہ دوسرے لوگو ں کے افکار و رویے اثر انداز ہوتے ہیں۔

جب بچوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ مزید وسیع ہوتا ہے تو سکولز، کالجزحتیٰ کہ یونیورسٹیز لیول پر لوگوں کے میل جول سے جو اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ مزید پختہ ہوتے جاتے ہیں۔ جب یہ بچے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو اُس وقت ان کو اپنی تمام ترصلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے افکار و نظریات کو زیرِ استعمال لانا ہوتا ہے۔ اس اسٹیج پر انسان کے منفی و مثبت رویے کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ شخصیتی نشونما کا وہ بیج جو بچے کی پیدائش کے وقت بویا جاتا ہے وہ کئی سالوں کے طویل سفر کے بعد اب اپنا پھل دینا شرو ع کرتا ہے، اور یہ ایک ایسا شجر ہوتا ہے جو شریں یا کڑوا پھل تا وقتِ مرگ دیتا رہتا ہے۔ اب اگر انسان کی شخصیت میں مثبت پہلو نمایاں ہوں گے تو یہ پھل یقیناًشریں ہو گا اور منفی پہلو تو جنم ہی کڑوے پھل کو دیں گے۔انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو تنہا نہیں رہ سکتا، معاشرے میں اپنی بقاء کے لیے ہر انسان کو سماج کا مرہون منت رہنا پڑتا ہے۔اس لیے انسانی شخصیت تغیر و تبدل کا شکا رہتی ہے۔ اگر تو انسا ن کو مناسب تربیت ملے، اچھے دوستوں کی صحبت ملے، اچھے تربیت کرنے والے اساتذہ ملیں تو یقیناً اُسکی شخصیت میں مثبت پہلو زیادہ نمایاں ہوتے جائیں گے۔ اور اگر انسان کی صحبت کے دائرہ کار میں منفی سوچ رکھنے والے افراد ہوں گے تو وہ خود بھی اسی سوچ کا حامل ہو جائے گا۔ مگر وہ انسان کبھی یہ جان نہیں پائے گا کہ یہ منفی پہلو اُس کی شخصیت میں کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے یقیناًہم میں یہ تجسس پیدا ہو رہا ہے کیسے جان سکیں کہ منفی و مثبت سوچ رکھنے والے افراد کو کیسے تلاش کیا جائے۔ اس کا سوال جتنا پیچیدہ ہے جواب اتنا ہی آسان ہے۔ سب سے پہلے جو چیز ہمیں متاثر کرتی ہے وہ انسان کا اخلاق ہوتا ہے، اخلاق اور رویہ بھی یقیناً انھیں افراد کا اچھا ہو سکتا ہے جو مثبت سوچ کے حامل ہوں۔ مگر منفی سوچ رکھنے والے بھی اکثر اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر ان میں فرق یہ ہو گا کہ مثبت سوچ کا حامل کبھی بھی عجلت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرے گا، اُسکا رویہ ہمیشہ ہی نرم و لطیف رہے گا جب کہ منفی سوچ کا حامل اپنی فطرت سے مجبورہوکرجلد ہی غصے کا مظا ہرہ کردے گا وہ کبھی بھی تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکے گا، جب بات اُسکو اپنے مطلب سے نکلتی یا اپنے خلاف ہوتی دکھائی دے گی تو وہ آگ بگولہ ہو جائے گا۔ منفی سوچ کا حامل فرد ایک طرح سے بیمارانسان ہوتا ہے مگر وہ خود کبھی اس صورتحال کو نہیں سمجھ پاتا۔ یہ منفی سوچ نہ صر ف اُسکی اپنی شخصیت کو تباہ کرتی ہے بلکہ یہی افراد معاشرے میں بھی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ نہ وہ خود خوش رہ سکتے ہیں اور نہ کسی کی خوشی اُن سے دیکھی جاتی ہے۔ اور انکے اندر یہی جلتی ہوئی آگ حسد کو جنم دیتی ہے، اور حسد کی آگ کیسی ہوتی ہے، مجھے اسکی زیادہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں، ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم بخوبی جانتے ہیں کہ حسد کس طرح انسان کو تباہ کرتا ہے۔منفی سوچ رکھنے والوں پر جسمانی و روحانی بیماریوں کے حملے تیزی سے اثر انداز کرتے ہیں۔ انسان فطری طور پر صرف محبت برداشت کر سکتا ہے،نفرت اور غصہ برداشت کرنا گویا انسانی فطرت کے خلاف بات کرنا ہے۔ جس انسان کو گھر سے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، دوست احباب سے محبت وعزت نہیں ملتی تو اُسکی شخصیت میں منفی پہلو ازخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ پھر گھر کا ماحول اس میں اولین کردار کرتا ہے، اکثر گھروں میں دیکھا جاتا ہے کہ والدین کے جھگڑے شدید نوعیت اختیار کر جاتے ہیں اور والدین اپنے ذاتی مفاد میں بچوں کو ناسمجھ سمجھتے ہوئے اُنکے سامنے لڑتے ہیں۔ رشتہ داروں کی برائیاں کرتے ہیں، جو کہ یہ پختہ بری عادت خواتین میں زیادہ ہوتی ہے کہ بچوں کے سامنے رشتہ داروں کی، لوگوں کی برائیاں کرنا، مگر یہ سب بھول جاتے ہیں کہ ان باتوں کے بچوں کے اذہان پہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہیں سے بچوں میں نفرت اور انحراف کے رویے جنم لیتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پہ اُس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں ،پھر یہی بچے معاشرے میں دوسرے افراد کو بھی نفرت اور شک و شبہہ کی نظروں سے دیکھتے ہیں، نہ وہ کسی پہ اعتماد کر پاتے ہیں اور نہ کبھی خود کو بااعتماد دکھا سکتے ہیں۔جب منفی رویے رگ و پے میں بس جاتے ہیں تو مایوسی، ڈیپریشن، اور مختلف جسمانی امراض جنم لیتے ہیں۔ مثبت سوچ کے حامل افراد نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ وہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، وہ دوسروں کی فلاح کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں، اُ ن کے دل بھی خشیت الہی سے لبریز ہوتے ہیں،وہ حقوق العباد کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ عملی طور پر بھی مخلوقِ خدا کی بھلائی میں کوشاں رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وہ خوشحال رہتے ہیں بلکہ اس کے اثرات سے ان کی شخصیت دوسروں کے لیے مثالی بن جاتی ہے۔ چونکہ منفی سوچ انسان میں مایوسی پیدا کرتی ہے اس صورت میں انسان کمزور ہو جاتا ہے اور اپنا بچاؤ نہیں کر پاتا آپ خود سوچیں ایک بیمار انسان کس طرح دوسروں کی فلاح کے لیے کام کرسکتا ہے اُسے تو خود سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے جو گزر چکا سو گزر چکا۔۔آیئے اپنا معائنہ کریں آیا ہم بیمار تو نہیں،ہمیں دوسروں کی خوشیاں کتنی راس آتی ہیں، اپنے من کا حال تو ہمیں پتہ ہے ہم خود کے اندر تو جھانک سکتے ہیں، کہیں ہم منفی سوچ کے حامل تو نہیں۔۔۔۔۔ اگر ہیں تو ہم کوشش کرکہ خود کو بد ل بھی تو سکتے ہیں، جس طرح صابن اور پانی کپڑوں کے میل کچیل کو صاف کر دیتا ہے اس طرح مثبت سوچ ہمارے اندر کی بھی تو صفائی کر سکتی ہے۔۔۔ زندگی چار دن کی ہے، دو دن گزر گئے دو دن باقی ہیں، ہم آج بھی تو خود کو بد ل سکتے ہیں۔ اپنے اندر کی اس جلتی آگ کو بجھا سکتے ہیں، ہم دوسروں کو معاف کر سکتے ہیں، ہمیں دوسروں سے حسد کر کہ کرنا ہی کیا ہے۔ اپنے رب کے حضور تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اُس رب کے حضور جا کر اپنے گناہوں کا اقرار کر کہ ہاں وہ گنا ہ جو اللہ کی مخلوق سے حسد کر کہ ہم نے کیے،ان کی تلافی کر سکتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کر کہ اپنے اخلاق کو عمدہ بنا سکتے ہیں۔ تو آیئے آج سے اپنی سوچ اور رویے کو شفاف پانی کی طرح صاف رکھیں۔ یاد رکھیں پانی اپنا رستہ خود بناتا ہے۔ اب پانی صاف ہو گا تو اسکی تاثیر بھی شیریں ہوگی اور اگر ہماری سوچیں گدلے پانی کی طرح ہوئیں تو یہ پانی جہاں سے بھی گزرے گا گندگی ہی پھیلائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *