آج کی بات معاف نہ کرنے کے نقصانات

آج کی بات معاف نہ کرنے کے نقصانات




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ ایک اور دن اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اپنی اصلاح کے لیے انسانوں کو ایک اچھا اور خوبصورت عمل کرنے کے لیے اور اس نور سے لطف اندوز ہونے کے لیے جو اس وقت چاروں طرف چھایا ہوا ہے اور ایک اچھی بات سب تک پہنچانے کے لیے یہ دن ملا ہے آج ہم بات کریں گے کہ معاف نہ کرنے کے کیا نقصانا ت ہیں اور ہمارے اندر بیماریاں کیسے جنم لیتی ہیں۔ آپ نے جانوروں کو دیکھا ہو گا کہ وہ جُگالی کرتے ہیں کیونکہ اُن کا معدہ ملٹی مراحل ہوتا ہے اُن کا کھانا بار بار معدے سے واپس آتا ہے پھر وہ جُگالی کرتے ہیں اور باربار اس طرح کرنے سے وہ صحت مند رہتے ہیں۔ اور اکثر اُن کا ڈاکٹر جو پوچھتا ہے کہ یہ جانور جُگالی کرتا ہے یا نہیں کرتا تو اگر جو جانور جُگالی نہیں تو وہ بیمار تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر انسان کا معدہ بھی صحیح کام کر رہا ہے تو اس کو جُگالی کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ اگر انسان جُگالی کرتا ہے یعنی اپنے اندر کی چیزوں کو بار بار باہر لاکر اُس کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اُس کے بیمار ہونے کی علامت ہے تو انسان کو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول پاکﷺ نے بار بار جُگالی کرنے سے منع فرمایا ہے اور نقصانا ت بیان کیے ہیں۔انسان نفسیاتی جُگالی کرتا ہے یعنی وہ دوسروں کی گئی تمام زیادتیاں اپنی ہارڈ ڈسک پر محفوظ کر لیتا ہے۔اور انھیں بار بار ریفریش کرتا رہتا ہے جنہیں وہ بظاہر حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر معاف کر چکا ہوتا ہے۔ یقین کریں وہ ری سائیکل بِن کبھی بھی خالی نہیں کرتا انھیں حسبِ ضرورت ری سٹور کرتا رہتا ہے۔ جب ہم کمپیوٹر آن کرتے ہیں اور سیٹنگز لوڈ ہوتی ہیں تو ری سائیکل بِن میں پڑا ہوا گند بلا بھی اُسے لوڈ کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کمپیوٹر کے پروسیسر پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

اس طرح زیادتیاں نہ معاف کرنے والوں کے اندر ہر وقت گھوں گھوں چلتی رہتی ہے اور یہی بیماریوں کی فیکٹری ہے ۔ہر بیماری یہیں سے پیدا ہوتی ہے اور پھر بڑھتی ہے اور جب اللہ کی خاطر کسی کو معاف کر دیتے ہیں تو کم از کم اللہ سے شرم کرتے ہوئے اُسے دوبارہ ری سٹور نہیں کرنا چاہیے۔ اور اپنے اندر آگ کا انگارہ لگانے والی بات ہے ۔اب آپ یقیناًاس بات کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے کہ اپنے اندر ہم جو یہ گند جمع کرتے رہتے ہیں اور بظاہر ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے معاف کر دیا یعنی ہم جب دعا بھی کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم نے اپنے دل کو صاف کر لیا ،سب کو معاف کر دیا بس اب صرف تُو ہمارے سامنے ہے اب ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے،کوئی ہمیں تکلیف نہیں پہنچائے گا لیکن ہم پوری طرح ایسا نہیں کر پاتے یعنی جُگالی کرتے ہیں۔وہ جُگالی ہمارے اندر کی چیزیں باہر نکالتی رہتی ہے۔ اور یقین کریں بیماریوں کا سبب یہی اند ر پیدا ہونے والی نفرت ہے،ہماری منفی سوچ ہے جو ہمارے اندر بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ جب ہم پوری طرح کسی کو معاف نہیں کر سکتے جب اپنے دل پوری طرح صاف نہیں کر سکتے ۔تو صرف کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ دل سے اُسے ماننا، تسلیم کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا اور پھر سب بندوں سے اللہ کی مخلوق سے بے لوث محبت کرنا اور پھر اُس محبت کے بدلے میں کچھ طلب نہیں کرنا۔اگر آپ کسی کے لیے دعا کرتے ہیں جانے میں انجانے میں تو یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ شخص بھی اُس کے بدلے میں کم از کم آپ کو دعا ہی دے گا۔ یا محبت دے گا ،پیار دے گا یا آپ کو کسی قسم کی کوئی نوازش کرے گا،یا آپ کو خوش کرنے کا کوئی اہتمام کرے گا۔جب آپ نے دعا دے دی جب آپ نے معاف کر دیا جب آپ نے بے لوث ہو کہ اُس سے پیار کر لیا تو اُس کے بدلے طلب کچھ نہ کریں ۔اور وہ دینے والا خدا ہے اور جب یہ سب چیزیں ہمارے اندر سے نکل جاتی ہیں تو ہمارے اندر کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ہماری روح بیمار ہوتی ہے۔ روح بیمار ہوتی ہے تو ہمارا جسم بیمار ہوتا ہے۔اور یہ ہمارے اندر جو نفرت ہے یہ بیماریوں کی جڑ ہے اور جو ہم لوگوں کو معاف نہیں کر سکتے تو ہمارے دل صاف نہیں ہوتے تو اگر آپ اپنے اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو اپنا اندر صاف کر لیں جُگالی نہ کریں ۔ اوراپنے رب کو راضی کریں کیونکہ رب اُس سے راضی ہوتا ہے جس سے سب راضی ہوتے ہیں۔اور سب اُس سے راضی ہوتے ہیں جو بے لوث چاہت کرتا ہے۔ جس کے ذہن میں اُس کو کوئی بھی بدلے کا تصور نہیں ہوتا کہ چاہت کے بدلے میں چاہت ملے گی۔تو پھر اُس اطمینان کا آپ مزہ لے کردیکھیں اُس سکون کو آپ محسوس کر کہ دیکھیں اپنے اندر جب دنیا کی مخلوق یہاں تک کہ زمین پر رینگنے والی چیونٹی یا کسی کاٹنے والے جانور سے بھی آپ نفرت محسوس نہیں کریں گے ۔محبت، محبت ،محبت اور سراپا دعا بن جائیں گے اور جو سراپا دعا بن جاتا ہے تو اللہ اُس کا ہو جاتا ہے تو جس کو رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *