Love for the cause of Allah

آج کی بات اللہ کی خاطرمحبت کریں




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

اے ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ ہم شکر گزار ہیں آپ کے کہ آپ نے شکرگزاری کے لمحات میں شکر کے کلمات سکھائے اور اپنے رب کی نعمتوں کا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ شکر الحمد للہ ایک اور نورانی صبح ہمیں عطا ہوئی۔ اے اللہ ایک خوبصورت دن کے طلوع ہونے پر ہم ہر روز تیری نعمتوں ،تیری رحمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ایک اور دن تُونے ہمیں عطا کیا جو روشن ہے ،نور سے بھر پور ہے اور یہ نور ہمارے دلوں میں منتقل ہو رہا ہے اور ہمارے دلوں کو بھی منور کر کے ایک ایسا رستہ دکھا رہا ہے جس پر چل کر ہم بھلائی کی طرف بڑھیں گے۔ ان شاء اللہ

اور کوئی نہ کوئی ایسا نیک کام ضرور کریں گے جس سے رب راضی ہو جائے گا۔ اور کتنی بڑی بات ہے کہ تیری رحمتیں، جودوسخا ہمارے لئے ہیں اور تو عطا کرتا ہے ،سنتا ہے تو کرم کرتا ہے، تو محبت کرتا ہے اور اس کا صلہ دیتا ہے، نیکیوں پر صلہ عطا فرماتا ہے۔ اور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت تو وہ بھی آئے گا کہ نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جو کے، بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جنکی اللہ تعالیٰ کو ذرا بھی پروا نہ ہو گی تو یہ حدیث مبارکہ آپ پڑھنے کے بعد دل خوف سے اور ڈر سے بھر جاتا ہے کہ اللہ نہ کرے کہ وہ وقت آئے لیکن جو بات اللہ نے کہی ہے وہ ضرور پور ی ہو گی اور ایسا وقت ضرور آئے گا تو اللہ تعالیٰ ہم کو اس برے وقت سے، اس آزمائش کے وقت سےمحفوظ رکھے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں پناہ دے جہاں پر وہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے بڑے بڑے صلے عطا کرتا ہے اور الحمد للہ ابھی دنیا میں وہ لوگ موجو د ہیں جو لوگوں کو راستہ دکھا رہے ہیں، صراط مستقیم کی طرف لے جا رہے ہیں رب کی رحمتیں اور رب کی عطائیں ان پر ہو رہی ہیں۔ ایسے نیک لوگوں کی بدولت ہی زندگی میں خوشیاں ہیں،رحمتیں ہیں کرم ہے، فضل ہے تو یہ وقت الحمد للہ بہتر ہے کہ ابھی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں،اور جن پر پوری طرح دنیاوی معاملات میں، دنیاوی خواہشات میں ،یا دنیاوی آلائشوں نے اپنا قبضہ نہیں جمایا۔اور وہ اللہ کا ،رسول اللہﷺ کا بتلایا ہوا محبت کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔اور جن کے دل اللہ کی رضا کی خاطر دھڑکتے ہیں۔اللہ کی رضا کی خاطر وہ کام کرتے ہیں اللہ کی رضا کی خاطر اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں اللہ کی رضا کی خاطر ہر درد کو محسوس کرتے ہیں اللہ کی رضا کی خاطر اس درد کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے آپ کو ختم کر کے اپنی “میں”کو ختم کر کےاپنی انا، تکبر اور غرور کو ختم کر کے ہر کام اللہ کے لیے ،اللہ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں اور یہی غیر مشروط محبت ہے، بے لوث محبت ہے ،بے لوث خدمت ہے، بے لوث جذبہ ایمانی ہے جس میں نہ صلے کی تمنا، نہ ستائش کی پروا ہے۔

اے اللہ دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلتی ہے کہ خالق کائنات اس دنیا میں سب کو ایسا بنا دے جو ایک دوسرے سے بے لوث محبت کرتے ہوں جہاں یہ نفرت کی دیواریں گر جائیں یہ شر ختم ہو جائے یہ فساد ختم ہو جائے یہ دہشت دگری ختم ہو جائے، یہ آپا دھاپی ختم ہو جائے ۔امن و امان قائم ہو جائے اور تیرے نام کاڈنکاساری دنیا میں بجے اور تیری عطاؤں کی بارش زمین کے چپے چپے پر ہو اور ہر طرف سے شکرانے کی آوازیں آئیں،شکر ادا کریں اور تو سب کا ہو جا۔تیرے سب ہو جائیں کیونکہ بات تو صرف یہی ہے کہ ہم تو تجھ سے تجھ ہی کو مانگتے ہیں کیونکہ جس کا رب اس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *