آج کی بات عشقِ اللہ اور عشقِ رسولﷺ | شکر الحمد للہ کس قدر خوبصورت سماں ہے

آج کی بات عشقِ اللہ اور عشقِ رسولﷺ




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ کس قدر خوبصورت سماں ہے، نور سے یہ روشن جہاں ہے اور خلق ڈھونڈتی ہے خدا کہاں ہے، خدا کہاں ہے، اللہ کہاں ہے وہ اس وقت نچلے آسمان پہ جلوافروز ہے آپ کے دلوں میں، آپ کے کعبہء دل میں مقیم ہے آپ کی شہہ رگ کے قریب ہے۔ اس نے آسمان پر جلوہ گر ہوکر دنیا کو روشن کر رکھا ہے۔ اور دلوں میں روشن ہو کر دلوں کو اپنے نور سے منور کر رکھا ہے اور یہ منور دل والے لوگ جن کے ماتھے نور الٰہی سے چمک رہے ہیں عشقِ رسولﷺ سے د مک رہے ہیں اور دورد و سلام کی آواز سے یہ فضا گونج رہی ہے۔ اللہ اوراللہ کے فرشتے آپﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان والوں تم بھی آپﷺ پر درود بھیجا کرو۔اللہ کا اور اللہ کے فرشتوں کا مقبول ترین فعل جب انسان اپناتا ہے تو اس کا اندر روشن ہو جاتا ہے اس کے روئیں روئیں سے نور کی کرنیں نکلتی ہیں اور نور کی یہ کرنیں تمام زمانے کو روشن کر دیتی ہیں اُس کے اندر ایک بہادری، ایک قوت، اوراللہ کی مدد ہونے کی وجہ سے اُس کو مضبوط، بہادراور ہرچیز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیتی ہیں۔

وہ انسان جس کے دل میں رب ہوتا ہے رسول پاکﷺ ہوتے ہیں وہ انسان شیر کی طرح دلیر ہوتا ہے وہ اپنے رب کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا تو یہ لفظ سن کے مجھے یاد آیا کہ عربی لغت میں شیر کے لیے بہت سے لفظ استعمال ہوتے ہیں۔شیر جب اپنے کچھار میں اپنے پاؤں کو سمیٹ کر بیٹھا ہوا ہوں تو اُس کیفیت کو “اسد”کہتے ہیں تو وہی اسد جب اپنے کچھار سے نکل کر چہل قدمی کرنے لگے تو اس کیفیت کو ۔زرغام۔ کہتے ہیں۔ اور وہی زرغام جب چہل قدمی کرتے وقت کسی خاس سمت کی جانب دیکھنا شروع ہو جاتا ہے تو اس کیفیت کو ۔غضنفر۔ کہتے ہیں اور جب وہی غضنفر دھاڑ تے وقت اپنے کچھار سے کسی مخصوص سمت چل پڑے اس کیفیت کو ۔ضیغم۔ کہتے ہیں اور جب وہی ضیغم اپنے شکار پر حملہ آور ہو جائے تو اس کیفیت کو ۔حمزہ۔ کہتے ہیں اور جب حمزہ اپنے شکار کو اپنے پنجے میں اس طرح کَس لے کہ اس کا سانس لینا دشوار ہو جائے تو اس کیفیت کو۔عباس۔ کہتے ہیں اوروہی عباس جب اپنے شکار کو ٹکڑوں میں بانٹ دے تو اسے ۔حیدر۔ کہتے ہیں اور ہمارے قرآن پاک میں یہ جو ناموں کا ذکر کیا گیا تو یہ نام شیر کی بہادری کے ساتھ ساتھ ان کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں جو ایک دلیر انسان کے اندر ہوتی ہے۔ اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا شخص خوف زدہ نہیں ہوتا اس کو صرف اپنے خدا کا ڈر ہوتا ہے اور وہ ہر کام سے ،برے کام سے برے فعل سے ،برے عمل سے گھبراتا ہے۔تو اپنے رب سے ڈرنے کی وجہ سے اپنے رب کے خوف کی وجہ سے کوئی کام ایسا نہ ہو جس سے اس کا رب اس سے ناراض ہو جائے اور وہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے اپنے ہر عمل کو اس کے مطابق کر لیتا ہے۔ اور جب اس کا ہر عمل رب کی رضا کے مطابق ہو جاتا ہے تو پھر رب اس کا ہوجاتا ہے تو جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *