آج کی بات عشقِ حقیقی

آج کی بات عشقِ حقیقی

      No Comments on آج کی بات عشقِ حقیقی




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

ایک اور نئی صبحِ نور طلوع ہو رہی ہے اور اس کی روشنی ہم سب مل کے اس دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ ہم اپنے عمل سے اس دنیا کو فیض پہنچا کر روشن کر سکیں۔ ہم بات کرتے ہیں پھر اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور جو بھی ہمارا عمل ہوتا ہے وہ اللہ ہی کی رضا کے لیے ہوتا ہے اور اس وقت بات کو پھیلانا بھی اللہ ہی کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے۔ ہم بات کرتے ہیں اللہ کی،اللہ کہاں ہے،انسان سوچتا ہے کہ اللہ کون ہے اللہ کیا ہے۔ اللہ ماں ہے، اللہ ممتا ہے، اللہ عشق ہے اور ہم عشق کی بھی بات کرتے ہیں تو آپکوعلم ہے کہ عشق کیا چیز ہے۔ اپنے نفس کو مار دینے کا نام عشق ہے۔ عشق وہ چیز ہے جس کی کانچ سے دل ہر وقت سوزش میں مبتلا رہتا ہے اور جب تک عشق میں خود سے باخبر رہیں گے تو معاملہ خوف و خطر بھی رہے گا اور جب خود سے بے خبر ہو جائیں گے تو آب و آتش سے بھی کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔اور جب ہم اپنی ہستی سے آزاد ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا وصال نصیب ہو جائے گا۔ عاشقانِ الٰہی ہر گز اس بات سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی وہ کسی کی ملامت سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔مومن کا سرمایہ ایمان ہے لیکن عاشق کے لیے یہ ادنیٰ منزل ہے عشق کی اصل منزل وصالِ حق ہے جو صرف عشقِ حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔

عشق کی تپش جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو ہجر و فراق کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور محبوب کے لیے طلب اور تڑپ میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے اورہجر کی یہ آگ عاشق کو دن رات بے چین اور بے قرار رکھتی ہے اور جس کے دل میں یہ آگ بھڑک اٹھتی ہے تو وہ ہر وقت اپنے ولی اپنے دوست اپنے ساتھی کا منتظر رہتا ہے اور اس سے ملنے کا منتظر رہتا ہے۔عبادات بھی بے انتہا ضروری ہیں لیکن جو عاشق ہے وہ عبادات کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات کو بھی بطریقِ احسن نمٹایا کرتے تھے اور اللہ کے عشق میں ان کو ولایت ملی یعنی وہ اللہ کے ولی بنے اللہ کے دوست بنے اور جو اللہ کا دوست ہے اس کے پیشِ نظر نہ جنت ہوتی ہے نہ دنیا ہوتی ہے اور صرف اس کے نزدیک اس کے محبوب کی ذات کی رضا ہوتی ہے جس کو پانا اس کی منزلِ مراد ہوتی ہے اور جو شخص اللہ کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اللہ کی مخلوق سے بھی محبت کرتا ہے اور نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔اورہمیں نبی کریمﷺ کی زندگی میں نظر آتا ہے کہ آپﷺ سے بڑھ کر تو کوئی اللہ کابڑا عاشق نہیں آپﷺ کی زندگی میں عبادات کا معمول بھی نظر آتا ہے اور اسکے ساتھ ان کی زندگی میں انسانوں سے بہت زیادہ محبت ،پیار اور ان کو اپنانا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، اور انکے دکھ درد کو دور کرنے کی کوشش کرنا اور منفی سوچ ان کی زندگی میں نظر نہیں آتی۔تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم عاشق بھی بنیں ،اللہ کی ذات میں گم بھی ہوں اور دن رات ہجر و فراق کی تڑپ بھی ہمارے اندر ہو۔ہر وقت اس کا جلوہ یارانہ بھی ہمارے سامنے ہو۔اور رسول اللہﷺ یعنی وصفِ مصطفی بھی ہواور عشقِ مصطفی بھی ہو اور جس کے پاس عشقِ مصطفی بھی ہے وصفِ مصطفی بھی ہے تو پھر رب بھی اسی کاہے تو پھر جس کا رب اس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *