کالم: کھلی بات علم کی تشہیر

کالم: کھلی بات علم کی تشہیر

      No Comments on کالم: کھلی بات علم کی تشہیر




کالم نگار: صائمہ جبین مہکؔ

آج تعلیمی اِدارے ہمارے پاس بے شمار ہیں۔ سہولیات بھی بے شمار ہیں، یہ بات درست ہے کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ اساتذہ کی بھی کمی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا بچہ ایسا تربیت یافتہ کیوں نہیں ہے کہ پھر سے ہمارے ملک میں وہ عظیم شخصیات پیدا ہو جائیں۔ جنکا نام آج سے سات دہائیاں پہلے تاریخ کے مضمونوں میں قلم بند ہوا تھا اور جن کے تعلیمی نظریات آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب بچہ ایک سادہ سے ماحول میں زمین پر چٹائیوں پہ بیٹھ کر پڑھتا تھالیکن اُس بچے کے تعلم کا عمل ایسا پختہ ہوتا تھا کہ سیکھا ہوا علم اُس کے لیے ہتھیار بن جاتا۔ اور اُس وقت اہلِ علم کی قلم اور زبان سے نکلنے والی ہر بات تاثیر رکھتی تھی،علم والوں کی ایک آواز پر دُنیا جمع ہو جاتی تھی اُس تعلیم سے ہمارے رہنما بنے۔ اُنکی قلم سے جو تحریر نکلی وہ لوگوں کے دل و دماغ میں نقش ہوتی گئی۔ آج! علم کی تشہیر کے لیے ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے،آج بہت سے لوگ اعلی تعلیم یافتہ مل جائیں گے،لیکن اِن تعلیم یافتہ لوگوں میں سے ایسا کوئی شاذو ناز ہی ہو گاجس کے دلائل کی دنیا قائل ہوگی۔ اول ان افراد کے پاس دلائل ہی نہیں ہوں گے کیونکہ یہ لوگ تو صرف کتابی علم کی پیدا وار ہیں یہ لوگ تو ایک سسٹم کی پیداوار ہیں جہاں مقصدصرف ڈگریاں حاصل کرنا اور معقول تنخواہ والی نوکریاں حاصل کرنا ہے۔آج کے میڈیا کے اِس دور میں علم کی تشہیر بہت ہی عام ہو گئی ہے لیکن ہمارے بچے علم کی روح سے خالی ہیں۔ہمارے بچوں کی باتوں میں وزن اور دلائل میں وضاحت نہیں ہے،مو بائلز،کمپیوٹر اور میڈیا صرف سوشل نیٹ ورک کی حد تک محدود رہ گئے ہیں،دس میں سے چھ لوگ میڈیا کا استعمال صرف تفریح کے لیے کریں گے،کون ہے جو علم کو اپنے ذاتی مقصد سے ہٹ کر محبت کے ساتھ حاصل کرے۔ بچہ جب پہلے دن سکول جاتا ہے تو والدین کے سامنے ایک مقصد ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ پڑھ لکھ کر اچھا روزگار حاصل کرے گا، اپنے قدموں پہ کھڑا ہوگا،اچھا انسان بنے گا،لیکن کیا ہو جاتا ہے کہ بیس سال بعد جب وہی بچہ اداروں سے نکلتا ہے تو ایک اُلجھی ہوئی تصویر کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے پاس ڈگری ضرور ہوتی ہے مگر وہ ہوتا صرف اپنی اغراض کا فرد ہو ہے۔ اس کے علم میں طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اقوام کو بدل سکے۔ روزگار نہ ملنے پر وہی تعلیم اُس کے لیے مایوسی بن جاتی ہے۔ آخر یہ سسٹم ہمیں لے کر کہاں جا رہا ہے؟ قیامِ پاکستان سے پہلے ہمارے رہنماؤں کی چند باتیں اخباروں رسالوں میں شائع ہوتیں تو پور ے برصغیر میں پھیل جاتی تھیں،آج جب کہ میڈیا اتنا عام ہو گیا ہے،بچے بچے کے ہاتھ میں مو بائل ہے،ہر ایک کی پہنچ تک مواصلاتی نظام موجو د ہے،لیکن بیشتر افراد آج کے رہنما ؤں کی آواز سننے کو تیار نہیں۔اور آج کے دور کا فارغ التحصیل کوئی بھی فر د لیاقت علی خان، مولانا محمد علی جوہر ،علامہ محمد اقبال اور سرسید بننے کو تیار نہیں،یا پھر ہمارا نظام تعلیم ہمیں ایسے افراد مہیا ہی نہیں کر رہا۔

ہمارا نظامِ تعلیم ایک منتشر نظامِ تعلیم ہے۔ ہمارے ادارے منظم ہونے کے باوجود متنشر ہیں کہ ہر تعلیمی ادارہ دوسرے سے مختلف ہے۔ تمام اداروں کا نصاب اور طریقہ ہائے تدریس میں اتنا فرق ہے کہ ایک ہی گلی میں دو مختلف سکولوں سے پڑ ھنے والے بچوں میں اس قدر تضاد ہو گا کہ وہ الگ الگ قوم کے افراد معلوم ہوں گے۔اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہمارے ملک میں نجی اداروں کی کس قدر بھر مار ہے۔اور پھر تمام اداروں میں نصاب ایک جیسا نہیں ہے۔سرکاری ادارے نصاب اور طریقہ ہائے تدریس میں یکجا ضرور ہوتے ہیں، مگر پرائمری سطح پر بیشتر سر کاری اداروں کی کار کردگی مایوس کن ہے۔اگر اُن وجوہات کا جائزہ لیں کہ لوگوں کا رجحان نجی تعلیمی اداروں کی طرف کیوں ہوتا ہے تو اس کی بڑی وجہ پرائمری سطح پر بیشتر سر کاری اداروں کی ناکا می ہے۔ با شعور والدین پرائمری سطح پر سر کاری اداروں کی کار کردگی سے مایوس ہو کر نجی اداروں کا رُخ کر لیتے ہیں حتی کہ اعلی تعلیم کے لیے بھی نجی اداروں کو اپنے بچوں کے لیے فلاح سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اعلی تعلیم کے لیے نجی اداروں کی نسبت سر کاری ادارے زیادہ منظم اور کا میاب ہو تے ہیں۔نجی اداروں کی آزادی کا خمیازہ ہما ری نسلوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہرادارہ اپنا نصاب ترتیب دینے اوراپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہے حتی کہ ایک ادارے کا لگایا گیانصاب دوسرا ادارہ لگانا اپنی تو ہین سمجھتا ہے، ہمارا نظامِ تعلیم جنگ کا میدان بنا ہوا ہے جہاں ہر ادارہ آگے نکلنے کی کوشش میں دوسرے اداروں کو مات دے رہا ہے۔ہمارے ہاں ادارے کو کامیاب بنانے کی بھر پور کو ششیں کی جاتی ہیں لیکن بچے ناکام رہتے ہیں۔ پتہ نہیں لو گوں کو اس بات کا اندازہ کیوں نہیں ہوتا کہ ادارہ جو بھی ہوآخر پڑھنے کے بعد بچے نے آنا اسی معاشرے میں ہے جس معاشرے کے مسائل نوعیت کے اعتبار سے یکساں ہیں۔تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طلباء کو یہ معاشرہ ہڑپ کر جاتا ہے،کیونکہ جب طلباء مختلف تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں توان کی سوچ ہم آہنگ نہیں ہوتی اور ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ ہمارے بچے توایسے اداروں سے پڑھ کہ نکلتے ہیں جہاں مقاصد ہی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یہ امرحقیقت ہے کہ وہ معاشرہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جہاں مسائل کے حل کے لیے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو۔ اور ہمارے بچے جب تک مختلف اداروں سے پڑھ کر آتے رہیں گے ہمارے مسائل جوں کے توں رہیں گے ہاں اِن مسائل میں اضافہ ضرور ہوتا جائے گا۔طلباء کے درمیان اس اجنبیت کا نتیجہ انتشار کی صورت میں نکلتا ہے اور معاشرہ منظم ہونے کی بجائےمنتشر ہو جاتا ہے۔ آج معاشرےمیں جتنے بھی مسائل موجود ہیں۔ اُنکی جڑیں کہیں نہ کہیں جا کر نظامِ تعلیم سے ضرور ملتی ہیں۔ میں گلہ کرتی ہوں کہ ہمار ا نظامِ تعلیم ہمیں ایسے افراد مہیا کیوں نہیں کرتا جن کے نظریات کی دنیا قائل ہو،قصور ہماری تعلیم کا بھی نہیں ہے قصور ہے تو اس ما حول کا جو شدید انتشار کا شکا رہو چکا ہے،پہلی صورت تو میں بیان کر چکی ہوں کہ جب تمام اداروں کے مقاصد ہی مختلف ہوں گے تو ان اداروں سے آنے والے طلباء کو معاشرہ قبول نہیں کرے گا اور ان طلباء کے تعلیمی نظریا ت معاشرے کی تنگ گلیوں میں دم توڑ جائیں گے اور یہ تعلیم یافتہ افراد بیشتر اِس کے کہ دوسروں کے مسائل حل کریں اپنی جان بچانے کی فکر میں پڑ جائیں گے اور معاشرہ اِس قدر سنگین مسائل پیدا کرے گا کہ آخر تعلیم ہی سب مسائل کی جڑ معلوم ہو گی۔پھر بیشتر افرا د کی زبان سے یہ کلمات نکلتے ہیں کہ یہ ڈگریاں لینے سے تو بہتر تھا کہ ہم کوئی ہنر ہی سیکھ لیتے ،کم از کم مزدوری کر کہ دو وقت کی روٹی توکما لیتے۔اِن مسائل کو حل کرنے میں نجی ادارے کسی حد تک اپنا کر دار ادا کر سکتے ہیں،نجی اداروں کو اس امر کی انتہائی ضرورت ہے کہ کہ وہ ایک جیسا نصاب اپنائیں،اور اِس سلسلہ میں سر کا ری و نجی اداروں کویکجا ہو جا نا چاہیے کہ سوال ہماری نسلوں کی بقاء کا ہے۔کار کردگی کے لحاظ سے نجی و سر کاری ادارے ایک دوسرے کو مات ضرور دیں لیکن نصاب اور تعلیمی مقاصد میں سر کاری و نجی اداروں کو یکجا ہونا پڑے گا۔ورنہ نتیجہ انتشار ہی ہو گا اور ہم تعلیم یافتہ ہو کر بھی خواندہ نہیں کہلائیں گے۔ آجکے اس جدید دور میں تعلیم اور بھی بے شمار مسائل سے گھِر چکی ہے جدید دورکی سہولیات اور برق رفتاری سے پھیلتے مواصلاتی نظام نے بھی طلباء کے اذہان میں ہلچل مچا دی ہے۔ہمارا بچہ ذہنی طور پر جس چیز کے زیادہ قریب ہے وہ مواصلاتی نظام کی پیدا کردہ تفریحات ہیں۔ٹیلی ویژن، موبائلز اور انٹر نیٹ کو ہمار ی زندگیوں میں سو فیصد اہمیت حاصل ہو چکی ہے،لیکن ان تمام کا استعمال ہماری تعلیم میں اتنا عام نہیں ہے،والدین نے بھی سکول کے بستوں کے ساتھ مو بائلز فون کی اجا زت دے دی ہے،پھر ہمارے ملک میں تو تفریح کا سامان سستے داموں بکتا ہے،رہی سہی کسر مختلف مو بائلز سر وسز کمپنیوں نے سستے پیکچز فراہم کر کہ پوری کر دی۔حکومت بھی میڈیا کو قابو کرنے میں ناکام نظر آتی ہے،آپ خود اندازہ لگائیں کہ ٹیلی ویژن کے کتنے چینلز آپ کے بچوں کے لیے تعلیمی پروگرام نشر کر رہے ہیں،اول تو گورنمنٹ کیبل اور پرائیویٹ چینلز کو قابو کرنے میں ناکام ہے،دوسرا اگر گورنمنٹ کوئی اقدام کرے بھی تو میڈیا اس کا غلط مطلب لیتا ہے کہ اُس کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے،بہت سے ٹی وی چینلز پر صرف سیاست کی دھچیاں اُڑا ئی جاتی ہیںیا گلیمر کے فریب کی دنیا دکھائی جاتی ہے۔لیکن تعلیم کو کبھی اتنا نشر نہیں کیا جاتا اور نہ تعلیمی مسائل کو اُجاگر کرنے کی کو شش کی جاتی ہے۔میں آج کے مواصلاتی نظام کی مخالفت نہیں کرتی مگراس نظام پہ مجھے بے شمار اعتراضات ہیں۔ کہ اگر یہ نظام ہمارے بچوں کے ہاتھ میں آ ہی گیا ہے اور ہمارے بچے اِن کھلونوں سے کھیلنے کے لیے بضد ہیں تو کم از کم اسی نظام کو بچوں کے لیے مفید اور با مقصد بنا دیا جائے۔تا کہ ہمارے بچے سوشل میڈیا سے آزاد ہو کر اس ٹیکنالوجی کا تعلیم میں فائدہ اُٹھائیں۔اور بیشتر اداروں کو اس کے لیے بھر پور کو شش کرنی چاہئیے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام کو مواصلاتی نظام سے بھی مر بوط کریں تا کہ ہمارے بچوں کی علمی فضا قائم رہے اور وہ اپنے مقصد سے بھٹک نہ جائیں۔ تمام نجی ادارے بھی تعلیم کے سلسلہ میں مثبت رویہ اپنائیں،تعلیم کو روزگار نہ سمجھا جائے،تعلیم کے قدموں میں بیڑیاں تو اُن اداروں نے بھی ڈال رکھی ہیں جن کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، جو لو گ محض پیسہ کمانے کے لیے اداروں کی تشہیر کر تے ہیں ۔کیونکہ تعلیم کوئی کم سر مایہ کار ی نہیں، پڑ ھائی ہو نہ ہو یہ ادارے ہر ماہ بھار ی فیسیں وصول کرتے رہتے ہیں،بچہ چلے نہ چلے اُن کا چولہا اور گاڑیوں کا پٹرو ل ضرور چلتا رہتا ہے۔ پھر والدین کو بھی ضرورت ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ لگن سے چلتے رہیں،آج سے کچھ دہائیاں پہلے جن بچوں کی مائیں ناخواندہ تھیں اُنکے بچے اعلی تعلیم یافتہ تھے، آج ماں بھی خواندہ ہے، تعلیم کے لیے بھی سازگار ماحول موجود ہے لیکن بچے کی کار کردگی مایوس کن ہے۔ مائیں بے چاری بھی کیا کریں چھ گھنٹے سکول کے بعد تین چار گھنٹوں کے لیے بچہ ٹیوشن اکیڈمیوں کے حوالے کر دیتیں ہیں،وہاں سے فارغ ہو کر ہمارا بچہ سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتا ہے اور ماں کو خود ٹی وی کیبلز سے فرصت نہیں ملتی،الغر ض بچہ ماں سے دور رہتا ہے۔باپ کا کام تو پیسہ کمانا ہے،تھکے ہارے والد صاحب نے کبھی بھی بچوں سے نہ پوچھا کہ کیا پڑ ھ رہے ہیں، حتی کہ والدین کی بے جا مصروفیات کی وجہ سے والدین خود بھی تعلیمی عمل سے لا تعلق رہتے ہیں، اور ہمار نظام تو پہلے ہی اُلجھا ہو ا ہے، والدین جن کے ذمہ بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا ہے خود اپنے مسائل میں اُلجھے ہیں،اسا تذہ بھی تذبذب کا شکار ہیں تو ہمارا بچہ کہاں جائے؟ اِن تمام حالات میں بچوں کے افکار و نظریات کی نمو میں کون ساتھ دے گا۔ علم کی تشہیر نے لوگوں کو اِس قدر مطمئن کردیا ہے کہ وہ خود کو معاشرے کا کامیاب فرد سمجھتے ہیں،لیکن ہماری تعلیم کن سنگین مسائل کا شکار ہے اُس کی تشہیر کو ئی نہیں کرتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *