کالم: کھلی بات احساس ذمہ داری

کالم: کھلی بات احساس ذمہ داری




کالم نگار: صائمہ جبین مہکؔ

دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں اگر دیکھا جائے تو انھوں نے سب سے پہلے تعلیم کے میدان میں ترقی کی۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ لے لیں اُس شعبے کی بنیاد تعلیم میں ہی پڑتی ہے۔ ایک ملک اس وقت ترقی یافتہ ہو گا جب اس کی صنعت ،تجارت اور زراعت ترقی کرے گی، اور جب اس کی سیاست اور میڈیا پر با شعور اور ذمہ دار لوگ فائز ہوں گے۔ کسی بھی شعبے کی باگ ڈورغیر تعلیم یافتہ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔ بظاہر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں مختلف شعبوں میں تعلیم یافتہ لوگ بھاگتے دوڑتے نظر آتے ہیں۔مگر تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک چیز باشعور ہونااور احساس ذمہ داری بھی ہے، ایسا کون دل اور دماغ کا بادشاہ ہے جو اپنی اغراض و ضروریات سے ہٹ کر عوام الناس کے بارے میں دردِ دل رکھے۔ہمارے ہاں جو طبقہ امراء کا ہے وہ امیر سے امیر تر ہوتا جا تا ہے،وسط طبقے کا خون محنت کی چکی میں تیل بن کر چلتا ہے اور غریب طبقہ غربت کی چکی پیستا ہے۔ جہاں غریب کمائی کے لیے خون پسینہ بھی ایک کر دیا جائے تو بمشکل سے دو وقت کی روٹی کما سکتا ہے۔سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر غریب پڑھ لکھ جاتے تو کوئی اچھی سی نوکری کر لیتے،مگر غریب تو غریب جو پڑھے لکھے بے روزگار افراد دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اُن کا احساس مند اور ذمہ دار کون ہے، آئے دن بس وہ اخباروں میں نوکری تلاش کرنے کے اشتہارات ہی پڑھتے رہتے ہیں اور ہر جگہ اپنی قسمت آزماتے رہتے ہیں،نوکری مل گئی تو قسمت نہ ملی تو قسمت۔۔پتہ نہیں یہ قسمت کا محاذ صرف پاکستان میں ہی کھلا ہے یا دنیا کے ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

آپ خود اندازہ لگائیں دی گئی آسامیوں کی تعداد 28ہو اور امیدوار 2800ہوں تو کاتب تقدیر سے کیسا گلہ۔ ہمارے راہنماؤں کو صرف اعتراضات کی سیاست کرنا آتی ہے، عام انسان کے مسائل چاہے جمہوری حکومت ہو یا مارشل لاء لگ جائے ،اُن کے مسائل، مسائل ہی رہتے ہیں۔ اگر نوکری نہیں ملی تو اس کی ذمہ دار حکومت نہیں بنتی۔ کیونکہ حکومت کے پاس عوام کو دینے کے لیے نوکریاں ہیں ہی نہیں۔ جہاں تک بات ہے تعلیم حاصل کرنے کی وہاں تک تو ہمارے ملک کی عوام اپنے سر پیر کا زور لگا ہی رہی ہے، سکول، کالجز، یونیورسٹیاں تو طلباء کی فیسوں سے چل رہے ہیں،مگر وہ ادارے کہاں ہیں جہاں ان تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے ایک امید کی شمع جل رہی ہو، کہ فارغ التحصیل ہوتے ہی اپنی ذہانت،عقل و شعور اور ہنر کو استعمال کر کہ عزت سے روزگار کما سکیں۔ سڑکوں کی تو پاکستان میں تنگی نہیں ہے مگر سڑکوں پہ چلنے والی گاڑیاں کہاں سے آئیں گی یا یہ سڑکیں چنگ چی رکشوں سے بھرتی جائیں گی جہاں دس روپے کی امید لیے سواریاں ڈھونڈتا، اپنی لاکھوں کی ڈگریوں پہ خون کا پسینہ بہاتا کوئی نو جوان قسمت کی چکی پیس رہا ہو گا۔ خدارا! یہ وقت کوئی اہم قدم اُٹھانے کا ہے، یہ وقت پارٹی بازیوں کا نہیں ہے، یہ وقت سر جوڑ کر بیٹھنے اور عوام الناس کے مسائل کو ڈھونڈنے اور حل کرنے کا ہے۔ ہمارے لوگ عزت سے روزگار کمانا چاہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اُنھیں روزگار کمانے کے مواقع دیے جائیں، اگر پیشہ وارانہ تعلیم دی جاتی ہے تو ملک میں ایسے ادراے کثیر تعداد میں کھولے جائیں جہاں یہ لوگ اپنے ہنر کا استعمال کریں۔سرمایہ کاری کروانی ہی ہے تو اپنے ملک میں فیکٹریوں، کارخانوں، صنعتوں کی تعداد کو بڑ ھائیں تا کہ لوگوں کے پاس روزگار کے مواقع ہوں۔ کالجز ،یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھائی جائے تا کہ تعلیم کے شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے آسامیوں کی تعداد زیادہ ہو، اور اگر یہ ادارے استادوں اور پروفیسروں سے بھر جائیں تو تعلیمی نظام میں ترمیم کر دی جائے جہاں مقصد کلرک بنانا اور استاد بنانا نہ ہو، بلکہ لوگوں کو پیشہ وارانہ تعلیم کی طرف راغب کیا جائے۔ صرف خاندانی منصوبہ بندی کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مسائل حل کرنے ہیں تو عوام الناس کو مواقع دینے ہوں گے۔ کتنے سینکٹروں لوگ مالی انتشار اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ،کیا ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی باہرکی دنیا سے رہنما آئے گا یا یہ بے بس لوگ اپنے منتخب کیے نمائندوں کے رحم و کرم پہ رہیں گے، اور نوکری کے انتظار میں اپنی عمر کی حد بھی گنوا دیں گے، اور سڑک کے کنارے مزدوری کرتے اور سرد موسم میں اپنی ڈگریوں کو جلاتے سردی کی شدت کم کرتے نظر آئیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *