آج کی بات دُعا

آج کی بات دُعا

      No Comments on آج کی بات دُعا




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ، اللہ نے ہمیں ایک اور خوبصورت، روشن اور نورانی دن عطا کیا۔ اور اس کے اذن سے اتنی خوبصورت صبح عطا ہوئی کہ جس نے چاروں طرف روشنیاں ہی روشنیاں بکھیردی اور ہر شے اپنے رب کی حمدو ثناء بیان کررہی ہے۔ کتنا خوبصورت سماں ہے۔ دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھے ہیں جھولیاں پھیلی ہیں اور بارگاہِ رب العز ت میں پیش ہونے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس رب کے حضور جس نے اپنے اذن سے اپنی رضا پہ راضی رہنے کا طریقہ سکھا دیا۔ اور ہمیں یہ شعور عطا کیا کہ ہم یہ جان لیں کہ وہ ہمارے دلوں میں موجود ہے اور ہمیں اپنے دلوں کو صاف رکھنا ہے۔ اور وہ رب العا لمین ہے اس لیے اس کی رضا کے لیے اُس کی محلوق سے پیار کرنا ہے اور دعا سب کے لیے مانگنی ہے سب کا بھلا مانگنا ہے۔ جگ کا بھلا جگ کی خیر مانگنی ہے۔

ہم حاضر ہیں آقا تیری چوکھٹ پہ دعا کی دستک دینے کے لیے اور تُو بھی منتظر ہے ہماری دستک کا تاکہ تُو اپنی شانِ کبریائی دکھا سکے اور عطا جودوسخا کیا ہوتی ہے یہ بتا سکے۔ ہم نے بھی تو اسی مان سے تیرا درکھٹکھٹایا ہے۔ اور تو ان شاء اللہ ضرور ہمارے مان کو پورا کرے گا اس مان کی لاج رکھے گا یا رب۔ ہم اس امید سے تیر ے در آئے ہیں کہ تیرا در بہت بڑا ہے تو دونوں جہانوں کا رب ہے۔ تُو ہماری جھولیاں بھر دے گا۔ میرے مالک ہم تیرے احساس کو اپنے دلوں میں محسوس کر رہے ہیں۔تیرے سامنے گردن جھکائے سر جھکا ئے کھڑے ہیں۔ کیونکہ دل میں تُو نظر آرہا ہے اور تیرے سامنے پیش ہو کر تیرا جلو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تاب عطا فرما۔ ہم حاضر ہیں۔ لبیک اللھم لبیک، لبیک اللھم لبیک، لبیک اللھم لبیک۔ اور ہم مل کہ پکارتے ہیں۔ تُو یقیناً ہماری آواز کو سنے گا اور ہمیں اپنے در سے عطا کرے گا۔ ہمارا مان رکھے گا۔ اللہ، اللہ، اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *