آج کی بات دوسروں کی عزت کیجئے

آج کی بات دوسروں کی عزت کیجئے




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ کہ بہت رحمت والاکرم والا اور روشن دن تُو نے عطا فرمایا۔ اور بے پناہ عزتوں اور کرم سے نوازنے والے رب میرے پاس تیرے شکر کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔اور جتنی عطا کرتا ہے ہم اس قابل تو نہیں ہیں۔ لیکن تُو تو مالک ہے،رحمان ہے اور ممتا ہے اور ماں تو اپنے بچوں کے لیے زندگی کی ہر نعمت مہیا کرتی ہے۔ اور یقیناًتُو نے اپنی خلقت کے لیے دنیا کی ہر نعمت کو پیدا فرمایا ہے اور اللہ کا کتنا کرم ہے کہ ہماری رہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺ کو بھیجا اور اُن پر قرآن پاک بھی ہماری رہنمائی کے لیے نازل فرمایا۔ اور بہت سی باتیں ہمیں نبی پاکﷺ کی تعلیمات سے سیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور اے ربِ کائنات ہر چیز میں تیر کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اور مصلحت ہوتی ہے۔ اور یہی مصلحت ہوتی کہ اگر جہاں کسی بات کی قدر نہ کی جائے تو وہاں خا موشی بہتر ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ اور اس سے مسائل حل بھی ہو جاتے ہیں۔ اور ماحول خراب ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اپنی بھی عزت نفس بچ جاتی ہے اور دوسروں کو بھی تکلیف نہیں پہنچتی ۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگر ہم صرف اپنی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں لیکن بعض دفعہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بتا نا ضروری ہوتی ہیں۔ اور جن کو بتانے سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ لیکن اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ جو بات ہم کریں وہ ایسی نہ ہو کہ جس سے دلوں میں میل آئے۔ اور جو تنقید ہم کریں وہ برائے تضحیک نہ ہو۔ بلکہ ہم مثبت تنقید کریں۔اور لوگوں سے جو بات کریں، انکی غلطی دیکھیں، انھیں سمجھانا چاہیں تو اُن کو اس صورت سمجھائیں کہ کسی طرح کسی کا بھی دل نہیں دکھنا چاہیے۔ دل آہ زاری نہیں ہونی چاہیے۔ اور دل کے بارے میں تو کہتے کہیں کہ دل تو کعبہ ہے وہاں تو رب رہتا ہے۔ اور کسی کے دل کو توڑنا کعبے کو توڑنے کے برابر ہے۔رب کے گھر کو توڑنے کے برابر ہے۔ وہ رب اس دل میں مکین ہے تو اس دل کی ضرور قدر و منزلت کرنی چاہیے۔ اور اپنی عزت نفس تو جبھی ختم ہو جاتی ہے جب آپ اپنی ذات کی نفی کر دیتے ہیں۔ تو پھر میں تو ختم ہو گئی ناں۔۔۔ جب میں اپنی نہیں رہی تو پھر جو کوئی مرضی آپ کو کہتا رہے کیونکہ نہ آپ کے اندر انا ہے،نہ تکبر ہے۔لیکن خدانخواستہ یہ بے حسی نہیں ہے یہ صرف ا س طرز سے ہے کہ آپ کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔

اب دیکھیں یہ بھی بڑائی کی بات ہے کہ آپ نے دوسروں کی خاطر اپنے اوپر تکلیف برداشت کر لیتے ہیں۔اپنے غصے کو ضبط کر لیتے ہیں۔خامو ش ہو جاتے ہیں۔ اور سب کچھ اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔اور یہ اپنے اندر غصے کوجذب کر لینا یا کسی کی کہی ہوئی بری بات پی جانا یہ بہت بڑا کام ہے۔ اور یہ کوئی بہادری نہیں کہ کسی نے آپ سے کچھ کہا اور آپ نے فوراً بدتمیزی سے اُس سے بڑھ کہ جواب دے دیا۔تو پھر آپ میں اور اُس میں فرق مٹ گیا۔ آپ نے بھی وہی بات کر دی اور اُس نے بھی وہی بات کر دی۔ اور پھر آپ دونوں تو برابر ہو گئے۔ جیسا کہ واقعہ ہے میں اُس واقعے کا مفہوم بیان کرتی ہے کہ ایک بار آپ ﷺ کے زمانہ میں دو شخص لڑ رہے تھے اور ایک شخص خاموش بیٹھا تھا۔تو نبی کریم ﷺ ہنستے رہے اور ان دونوں کی بات سنتے رہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ جب تک تُو نے جواب نہیں دیا تھا اللہ کی طرف سے فرشتے اُسے جواب دے رہے تھے۔لیکن جب تم نے جواب دینا شروع کیا تو وہ ہٹ گئے۔۔اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جب بندہ خود سے خاموش ہو جاتا ہے ،نفس پہ قابو پا لیتا ہے تو اللہ کی طرف سے اُس پہ رحمت کی جاتی ہے۔ اور فرشتے اُس کی طرف سے دوسرے انسان کو اُس کی بات کا جواب دیتے ہیں۔تو ہمیں کوشش بھی یہی کرنی چاہیے کہ غصے کو پی جائیں کیونکہ بہتری کے لیے اپنے غصے کو پی جانے والا بہت بڑا مومن ہے ۔ اور ضرور ضبط کی عادت ڈالیں۔اور خاموشی بھی بہتر ہے صرف اس لیے نہیں کہ آپ کی قدر نہیں صرف اس لیے کہ اس سے ماحول سازگار ہتا ہے اور یقیناًاللہ ان لوگو ں کو پسند کرتا ہے جو غصے کو رب کی رضا کی خاطر پی جاتے ہیں۔ تو جب رب آپ کا تو پھر کیا غم۔ کیونکہ جس کا رب اُ س کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *