always thankful - aaj ki baat

آج کی بات شکر نعمتوں کو بڑھا دیتا ہے




آج کی بات

انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر نعمتوں کو بڑھا دیتا ہے

اے نور، اے رحمت، اے رب کریم، اے خالق و رحیم، اے سمیع الدعا، اے ستارالعیوب جو اس نور میں تاریکی کو ڈھانپ لیتا ہے اور دنیا میں روشنی پھیلا دیتا ہے اور یہ روشنی بہت سے گمراہوں کے لیے منزل کا نشان بن جاتی ہے، اے پیارے رب اس روشنی کو دلوں میں منور کرنے والے پیارے نبی کریمﷺ اور قرآن کی روشنی عطا کرنے والے رحمان، رحیم کریم رب ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ایک اور خوبصورت صبح تو نے ہمیں عطا کی اور یہ بھی تیری جودوسخا کی بارش ہے کہ تو چاہتا ہے کہ تیرے بندے کچھ اور نیک کام کریں کچھ اور نئے طریقے سوچیں ،کچھ اورنئی راہیں نکالیں جس سے معاشرے میں بھلائی کا سبب پیدا ہو۔یہ روشنیاں اور آگے پھیلتی چلی جائیں۔ اے اللہ ہم تیرے شکر گزار ہیں اور پیارے نبی کریمﷺ کا اتباع کرتے ہوئے تیرے دربار میں حاضر ہیں، ہماری حاضری کو قبول فرما اور ہمارے دلوں کو نور عطا کر دے۔ اور وہ شعورو آگہی جو تو نے پیارے نبی کریمﷺ کو بخشی وہ ہمیں بھی عطا کر وہ میانہ روی ،وہ محبت، وہ اخلاص ،وہ ہمدردی ،وہ احسان، وہ مثبت سوچ جو ان کی ذات کا حصہ تھی اور جو آپ کی ذات مبارکہ کو بالکل سب سے الگ ایک انفرادیت عطا کرتی تھی جس پر کوئی کسی کو تکلیف نہیں ملتی ہے۔ کوئی تکبر نہیں تھا،کوئی غرور نہیں تھا۔آپ سب کے سامنے ایک مثال پیش کرتی ہوں کہ ایک بار آپﷺ صحابہ کرامؓ کے سامنے دنیا کا ذکر کر رہے تھے تو آپﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں سنتے کہ بے شک سادگی ایمان کا جز ہے۔ اب آپ دیکھیں کہ یہ پیغام ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہے کہ نہ تو اس سے تکبر پیدا ہو اور نہ کوئی نیچے والوں کو تکلیف ہو اور پھر صفائی کو نصف ایمان بھی کہا ،سادگی کہا،صفائی کہا گندگی نہیں کہا کہ اسی طرح یہ روایت بھی ہے کہ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص آیا اُس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھے آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس مال نہیں ہے اس نے کہا یا رسول اللہﷺ ہر قسم کا مال موجود ہے آپﷺ نے فرمایا جب اللہ نے تجھ کو مال دیا ہے تو اس کا اثر تیرے اوپر نظر آنا چاہیے اب یہاں دیکھیں یہاں تکبر کی تعلیم بھی نہیں مل رہی، ادھر سادگی کی مثال دے رہے ہیں، صفائی کی مثال دے رہے ہیں لیکن یہ چیز بھی پسند نہیں فرما رہے کہ اگر اللہ نے عطا کیا ہے تو آپ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر گندے حالوں میں پھرتے رہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا آپ پر نظرآنی چاہیے۔

لیکن وہ اس طرح سے نہیں جس میں آپ میں تکبر یا غرور کی جھلک نظر آئے تو اس کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہو گا ۔ ایک آدمی سے سوال کیا گیا کہ آدمی کو پسند ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو، اس کے جوتے اچھے ہوں تو آپﷺ نے فرمایا یقیناًاللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے ،تکبر حق کو ٹھکراتا اور لوگو ں کو حقیر سمجھتا ہے اب یہ دیکھیں اس میں بہت تھوڑا سا فرق ہے، وہ رحیم کریم ذات جو ہے وہ آپ کی دنیاوی نعمتوں کو نہ استعمال کرنے کا حکم نہیں دے رہا کہ اگر اس نے عطا کیا ہے تو اس کو استعمال کرو، صاف ستھرے رہو جو اس نے اگر حُسن بھی عطا کیا ہے، جمال بھی عطا کیا ہے تو وہ بھی نظر آئے وہ بھی اللہ کے شکر کے لیے ہو کہ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں صحت بھی دی،زندگی بھی دی،مال بھی دیا، پیسہ بھی دیا اور ہمیں سہولت بھی دی اور ہم نے اس کو استعمال بھی کیا لیکن اس میں ہم نے تکبر نہیں کیا اس کا مقصد لوگوں کو نیچا دکھانا ہر گز نہیں ہے بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ زندگی، یہ صحت ،یہ تندرستی، یہ شکل و صورت، یہ رزق یہ دولت اور علم یہ سب اللہ کی عطا ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ان سب کو استعمال کرواور بے شک یہ لوگوں کو ں نظر بھی آئے لیکن اس طریقے سے کہ اس سے کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچے یا باعثِ آزار نہ ہو،تکبر کا باعث نہ ہو،بلکہ اللہ کی نعمتوں کے شکر کے طور پر آ پ یہ سب چیزیں استعمال کریں اور ہر وقت اس کا شکرانہ ادا کرتے رہیں ۔اللہ ہمیں جو بھی نعمت عطا فرماتا ہے اس کے لیے ہمیں اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔اور جتنی بھی چیزیں ہمارے جسم میں موجود ہیں اور جو ہماری ضرورت ہیں اور جن کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اس نے ہمیں عطا کہ ہیں اور ہمیں صحت مند رکھا ہے ہم ان چیزوں سے استفادہ کرسکتے ہیں تو کیوں نہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ تُو نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا اور ہمیں ان کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا اب یہ ایک صحت مند توانا جسم تو اللہ تعالیٰ نے الحمد للہ نقریباً سب لوگوں کو چند ایک ماسوائے چند کے سب کو عطا کیا ہے تو اس کے لیے بھی کیا ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ تو جب ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں تو وہ ہمیں اور عطا کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارا بن جاتا ہے اور ہمارا مقصد اُس کو ہی تو اپنا بنانا ہے تو جس کا رب اس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *