آج کی بات اپنا دل صاف رکھیں

آج کی بات اپنا دل صاف رکھیں




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ پیارے رب العالمین ایک اور خوبصورت دن ہمیں اپنی محبت کے لیے،اپنے پیار کے لیے ،اس وقت کو حاصل کرنے کے لیے،اس وقت سے لطف اندوز ہونے کے لیے اور اس دن کی فضیلتیں حاصل کرنے کے لیے تُو نے عطا کیا۔ اور یہ سب تیری رحمتوں کا کمال ہے اور تیری رحمتیں تیری عطا ،تیری جودوسخا ازل سے جاری ہے۔ یہ ہماری تنگ نظری ہے،ہماری کو تاہ نظری ہے کہ ہمیں نظر نہیں آتا جو تُو ہمیں دکھاتا ہے۔اور جو تُو عطا کرتا ہے ۔بس یہ سب چیزیں ہمیں بنی کریمﷺ کی زندگی میں بھی نظر آتی ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سب لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنی کریمﷺ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا جو کہ دروازے سے داخل ہو رہا تھا کہ کیا آپ لوگوں نے چلتا پھرتا جنتی دیکھا ہے،تو سب کی نگاہیں دروازے کی طرف لگ گئیں۔تو ایک آدمی جس کی داڑھی تھی اور جس کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھااور اُس نے ہاتھ میں جوتے پکڑے ہوئے تھے۔ وہ آکہ سب کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا۔تو جس صحابی نے یہ واقعہ لکھا ہے وہ فرماتے ہیں کہ بنی کریم ﷺ نے تین دن تک یہی بات کی تو پھر مجھے جستجو ہوئی کہ میں دیکھوں کہ اس کو زندگی میں جنتی ہونے کی بشارت مل رہی ہے۔اس شخص کا عمل کیا ہے۔ تو میں نے اُن سے کہا چچا میرے گھر میں کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔تو میں دو دن تک آپ کے ساتھ آپ کے گھر رہنا چاہتا ہوں۔وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئے اور میں نے ان کے عمل کا مشاہدہ کیا۔میں دیکھتا رہا کہ یہ کیا کرتے ہیں تو کوئی خاص عمل تو مجھے نظر نہیں آیا بس یہ تھا کہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتے تھے۔اور پھر اُس کے بعد سوتے تھے۔تو کبھی آنکھ کھلتی توسبحان اللہ کہہ دیتے اور کروٹ بد ل کر سو جاتے ۔اور صبح اُٹھ کر فجر کی نماز پڑھ لیتے۔تو یہ صحابی فرماتے ہیں کہ جب اس عمل کی اکارت میرے دل میں آنے لگی تو میں نے وہ اصل بات بتا دی کہ حضور ﷺ نے آپ کوجنتی ہونے کی بشارت دیتے رہے ہیں اور تینوں روز آپ مسجد میں داخل ہوتے رہے اور آپ کے لیے جنتی ہونے کی بشارت ملتی رہی۔اس کی وجہ سے میں آپ کا عمل دیکھنا چاہتا تھا تو انہوں نے کہا کہ عمل تو آپ نے دیکھ لیا جو میرے پاس ہے ۔ میں جب واپس جانے کے لیے پلٹا تو انہوں نے آواز دے کر بلایا اور کہا کہ ایک بات یہ ہے کہ میں رات کو اپنا سینہ صاف کر کے سوتا ہوں ۔کسی کے بارے میں میرے دل میں کوئی رنجش نہیں ہوتی اور جب نبی کریمﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ میری سنت ہے تم میں سے جس سے بھی ہو سکے رات کو سونے سے پہلے سینہ صاف کر کے سوئے۔اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سونے سے پہلے تو سینہ صاف کر لیا اور صبح جاگ کہ اس کوری سٹورکر لیا۔ تو آپ دیکھیں کہ کتنی بڑی بات ہے اللہ تعالیٰ آپ سے کوئی بہت بڑے بڑے کام نہیں لینا چاہتا کوئی بہت بڑی بڑی مشکل بھاری تنگیاں جس میں آپ کو اپنا جان ،مال،دولت اور سب کچھ قربان کرنا پڑے اور اُس کے لیے محنت کرنا پڑے اور جدو جہد کرنا پڑے۔ کتنا آسان طریقہ ہے کہ دل کو صاف کرنا سب کو معاف کرنا ،اپنے دل کو صاف کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ آپ ہر ایک کو معاف کر دیں،کوئی تعصب نہ ہو آپ کے دل میں۔جو بات بھی کریں صفائی سے کریں اور کوئی اُس کے درمیان آپ کے روپے پیسے کی بندش، نہ آپس کے تعلقات کی بندش ہو۔ اور نہ ہی رشتہ داری اور اقرباء پروری کی بات آئے۔اب اللہ کی رضا کی خاطر سب کو معاف کر کے اپنا سینہ صاف کر کے، اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیں، اللہ کی رضا پہ راضی ہو جائیں، اللہ کی رضا کی خاطر کام کریں تو جو کام بھی آپ اللہ کی رضا کی خاطر کریں گے اور سینے کو صاف کر کے کریں گے اور نہیں کہ رات کو تو آپ نے سینہ صاف کر لیا کہ سب کو معاف کر دیا ،اور کہا کہ میرے دل میں کوئی رنجش کوئی تعصب نہیں ہے لیکن عمل ہمارا وہی رہے، مقصد بات کرنے کا یہ ہے کہ سب کو معاف کر کے اس کو اپنے عمل سے بھی ظاہر کرنا ہے۔

آپ خود کو دیکھیں کہ ہم دوسروں کو معاف کر کے اس عمل کو اپناتے ہی کتنا ہیں۔ہم اس بات پہ عمل کس قدر کرتے ہیں۔ اور یقین کیجیے اگر آپ عمل کرکے دیکھیں گے تو آپ کو اپنے اندر اتنی بڑی تبدیلی نظر آئے گی کہ آپ خود حیران رہ جا ئیں گے اور آپ کے اندر یہ معاف کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی چلی جائے گی پہلے یہ زرا قدرے کم ہو گا اور پھر دوبارہ آپ کے اندر در اندر آئے گا۔لیکن آہستہ آہستہ آپ کو اس عمل میں مسرت ملنے لگے گی۔خوشی ملنے لگے گی۔اور جو کوئی آپ کو نقصان بھی پہنچائے گاتو آپ کا دل اُس کو دعا دے گا۔آپ کا دل مسرت سے بھر جائے گا۔ بلکہ آپ اپنے رقیب کے لیے یہ بھی دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ تُو اس کو بھی ہدایت دے اور اُس کو بھی اس رستے پہ چلا جو رستہ تُو پسند کرتا ہے۔اور یہ سب تجربے کی باتیں ہیں اور بہت سے لوگ تجربات کو شئیر کرتے ہیں اور آپ نے سنا ہو گا کہ کتنی واضح تبدیلی انسان کے اندر آتی ہے۔جب وہ وصفِ مصطفی کو اپناتا ہے۔ صرف زبان سے کہہ دینا کہ میں عاشقِ رسول ہوں ،کافی نہیں ہے بلکہ اُن کے اوصاف کو کتنا اپناتا ہوں یہ سچا عشقِ مصطفی ہے ۔اور کتنا ہی آسان اور سادہ عمل ہے۔صرف ایک دل کی بات ہے اور اپنے نفس کو مارنا ہے۔اور اپنی نفی کرنی ہے اپنی ذات کی نفی کرنی ہے پھر آپ معاف کر سکیں گے۔اور جب ایسا آپ معاف کر سکیں گے تو آپ اپنے رب کو راضی کر لیں گے اور پھر جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *