آج کی بات اللہ تیرا شکر ہے

آج کی بات اللہ تیرا شکر ہے

      No Comments on آج کی بات اللہ تیرا شکر ہے




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ۔ ایک اور نئی صبح نئی امید کی کرن روشنی سے روشن یہ طلوع ہونے والی صبح جو نورِ جمال سے منور ہے اور جو ہماری روح میں ایک تازگی بھر رہی ہے اور ہمارے اندر سے آواز آتی ہے کہ تو غور کریں ہر چیز ایسی نعمت ہے کہ ہم پروردگار کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتے۔ یہ پلکو ں کا چھپکنا، یہ سانس کا آنا ،یہ دل کا دھڑکنا یہ غذا کا کھانا اور اُسے زندگی ملنا اور جسم کے اندر پورے نظام کا چلنا ۔ اور ہمارے اندا یہ اتنا بڑا نظام خود بخود چل رہا ہے اور اگر ہم اس نظام کو باہر نکال کر چلانے کی کوشش کریں تو ہم اُس میں ناکام ہو جائیں۔ اور ہمیں علم بھی نہیں ہو رہا کہ ہماری سانس جو ہے یہ کیسے آرہی ہے، کیسے چل رہی ہے کیسے جا رہی ہے۔ ایک انسان کو زندہ رہنے کے لیے روزانہ تقریباً تین سلنڈروں کے برابر آکسیجن استعمال کرنا ہوتی ہے۔ اور اس کی قیمت تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے یومیہ بنتی ہے۔ اور تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے۔ او ر سالانہ تیرہ لاکھ روپے۔ اور اگر ہم ایک انسان کی اوسطاً عمر ساٹھ سال لگائیں تو یہ رقم سات کڑوڑ اسی لاکھ بنتی ہے۔

تو آپ یہ سوچیں کہ آجکے اس دور میں ہرانسان کو یہ سانس لینا تو میسر ہے جس سے زندگی کا وجود ہے ہرانسان تو سانس لے کر ہی زندہ ہے اور اگر وہ سانس نہ لے تو اسکی زندگی کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ توکیا انسان ساڑھے تین ہزارروپے یومیہ خرچ کر کہ سانس لے سکتا ہے۔جب کہ یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ساڑھے تین ہزار ماہانہ کمانے کے بھی قابل نہیں ہوتے اور ساڑھے تین ہزار روپے یومیہ ایک انسان کی سانس کے خرچ ہوں تو یہ آپ قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ اُس نے بغیر کسی خرچ کے یہ فضا،یہ ہوا مہیا کر رکھی ہے جو ہم اپنی سانس کے ذریعے اندر لے جاتے ہیں۔ اور ہمارے جسم کی ٖضروریات کو وہ پورا کرتی ہے۔ تو کیا کوئی ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے؟ جس نے یہ نظام انسانوں کے لیے، جانوروں کے لیے، پرندوں کے لیے بھی بنایا۔ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ اگر اس بات پر بھی ہم اللہ کا شکر ادا نہ کریں کہ بغیر کسی خرچے کے ہم زندہ ہیں زندگی کی طرف رواں دواں ہیں اور تمام امور خود بخود اللہ کے حکم سے انجام پاتے جا رہے ہیں۔ تو کیا ہمیں اُس کا شکر ادا نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں اُس کی رضا میں راضی نہیں رہنا چاہیے۔ اگر ہم اُس کی رضا میں راضی نہ رہیں تو بھی وہ ہمارا رزق نہیں روکتا، ہماری سانس نہیں روکتا،ہماری دھڑکنوں کو بند نہیں کرتا۔ وہ تو رزاق ہے،مولیٰ کل ہے رب العالمین ہے ،ماں ہے ممتا ہے تو اُس کی نعمتوں کے لیے ہم جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے ،ہم ادا کر ہی نہیں سکتے تو کم از کم ہمیں یہ تو چاہیے کہ ہر وقت گلہ کرنے سے ہم اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کر کہ اُس کی مہربانیاں بھی حاصل کریں اور اپنے دل کو بھی اطمینان بخشیں۔ شکر کرنے سے جو اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے رب کی قربت ملتی ہے اور جو خوشی ملتی ہے اُس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے۔ جو اس کی لذت سے آشنا ہو۔ یہ زندگی جو اس کی امانت ہے وہ کس طرح اس کی حفاظت کر رہا ہے اور جب تک اُس نے لکھا وہ اسی طرح ہمیں یہ سب کچھ عطا کرتا رہے گا۔اور اس سب عطا کے لیے وہ ہم سے کچھ طلب نہیں کرتا۔ صرف اور صرف وہ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ایک روشن راستے کی طرف،اُس راستے کی طرف جو اُس کی طرف لے جائے اور ہمیں اُ س کے شکرانے پہ مائل کرے اور ہمیں اُ س کی رضا حاصل کرنے کی ترغیب ملے اور پھر جو بندہ شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے مولیٰ کے اتنے ہی قریب ہو جاتا ہے ۔ جب وہ قریب ہو جاتا ہے یہ قربت رب کو اپنا لینے کے لیے اُس کا انعام ہوتی ہے۔ تو پھر جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *