آج کی بات اللہ سے ہی مدد مانگو

آج کی بات اللہ سے ہی مدد مانگو




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ ایک اور نورانی صبح میں رب نے ہمیں زندگی، صحت و سلامتی اورتندرستی کے ساتھ بیدار کیا تاکہ ہم صبح کا جلوہ دیکھ سکیں اور اسکی قدرت کی تعریف کر سکیں اور تمام دن کو ایک اچھے کام میں صرف کر سکیں اور کچھ اور نیکیاں اور بھلائیاں کر سکیں۔ جس سے ہم خلقِ خدا کی کچھ مدد کر سکیں تو یہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے”کہ بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور اموال نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کے اعمال کو دیکھتا ہے” کیونکہ خالق وہی ہے شکلیں بنانے والا وہی ہے مصور وہی ہے اور اس نے ہمیں زندگی کا رستہ بتانے کے لیے قرآن کریم عطا کیا۔ احادیث مبارکہ ہمارے لیے علمائے دین نے جمع کیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال پر نظر رکھتا ہے، نیتوں کو دیکھتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ ہم میں سے کون شخص ہے جو دکھاوا کررہا ہے یا نیک کام شہرت کے لیے کر رہا ہے یا اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم انسانوں کو کان کی طرح پاؤ گے جو لوگ دور جاہلیت میں بہتر اور اچھے صفات والے تھے۔ وہ اسلام کے بعد بھی بہتر ہیں جب کہ وہ دین کا علم حاصل کرلیں اور جیسا کہ ہم بار بار ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے علم نافع پر زور دیا ہے وہ علم جس سے دوسروں کو فیض پہنچے اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ طاقتور مومن، کمزور مومن سے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ کو زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں بہتری ہے اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد طلب کرو اور ہمت نہ ہارو اور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ مت کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ہو جاتا ،یہ کہو کہ اللہ کی تقدیر یہی تھی تو اس نے جو چاہا کیا کیونکہ اگر کا لفظ شیطان کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

یعنی اگر ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم ایسا کرتے تو ایسا ہوجاتا تو ہم ہمارا اپنے رب سے یقین اٹھ جاتاہے کیونکہ ہر کام دنیا کا اس کی رضا کے مطابق ہو رہا ہے تمام عمل اس کی رضا کے مطابق انجام دیے جارہے ہیں اور ہر بندے سے جس سے وہ کام لینا چاہتا ہے وہ اس کو چن لیتا ہے اور اس کے دل میں اپنی آواز کو سنا دیتا ہے اس کے دل میں اتر آتا ہے اور اس کو وہی فیصلے کرنے کو کہتا ہے جس سے وہ راضی ہوتا ہے اور آپ زندگی کے معمولات ہی دیکھ لیجئے اور چھوٹا سا تجربہ کر کے دیکھیں کہ جو کام آپ کر رہے ہوں اور اس میں آپ کو کئی الجھن آ رہی ہو اور آپ کہیں کہ اللہ تعالیٰ میں نے تو یہ کام تیرے سپرد کیا یقین کریں وہ کوئی گھر کا کام ہو کوئی مرمت کا کام ہو،کوئی صفائی کا کام ہو،کوئی سلائی کا کام ہو،گھر سے نکلنے کا کام ہورزق کی تلاش کا کام ہو ،وہ جب آپ رب کے سپرد کر دیتے ہیں تو آپ سوچئے کہ ایک دھاگے میں پڑنے والی چھوٹی سی گانٹھ بھی جس کاکھولنا دشوار ہو جاتا ہے اور جب آپ اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہیں تو وہ گرہ ایسے کھل جاتی ہے جیسے کبھی لگی ہی نہ تھی،اب ضرور تجربہ کیجئے یہ بلکہ میرے آج کا ہی تجربہ ہے اور جب میں نے کہا کہ میں اللہ کسی سے مدد طلب کیوں کروں ،مدد مجھے تجھ سے ملے میں تیری مدد چاہتی ہوں،تو اللہ نے وہ مسئلہ اسی وقت حل کر دیا اور اس کا حل مجھے بتا دیا،تو جب ہم اس کی رضا کی خاطر اس کی مدد طلب کرتے ہیں تو زندگی کی الجھنیں،گرہیں سب غیر محسوس طریقے سے کھلنا شروع ہو جاتی ہیں اور جیسے آپ نیت کرتے ہیں اور جیسے آپ بھروسہ کرتے سب مسا ئل وہ حل کرتا چلا جاتا ہے تو زندگی کا کوئی بھی میدان ہو ،تعلیم کا میدان ہو نوکری کا میدان ہو،گھر کا کام کاج ہو،کسی سے ملاقات ہو ،کسی فرض کی انجام دہی ہو کسی کی تیماداری ہو، اور کوئی بیماری کا مسئلہ ہو،آپ اپنے رب کے سپرد کر دیں اور پھر اس کے بعد دیکھیں اور ہاں اس میں خلوص کا ہونا بہت ضروری ہے ،ذرہ برابر بھی کوئی بت ہمارے اندر نہ ہو،یعنی ۔اگر۔ کا لفظ نہ آئے ۔اگر۔ تو شیطان پیدا کرتاہے ۔ہم نے کہنا ہے کہ بس رب تُو نے ہی کرنا ہے اور تو ہی مدد کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے کوشش سے منع نہیں فرمایا کوشش ضرور کرنی ہے اور مدد اس کی طلب کرنی ہے ،رضا اس کی مانگنی ہے اور پھر راستوں کو بنانے والا اور راستوں کوکھولنے والا ،وہ آپ کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے کیونکہ جب آپ نے مکمل بھروسہ کیا تو آپ نے اس کو پا لیا جو رب ہے۔تو پھر جس کا رب اس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *