آج کی بات اللہ سراپا محبت

آج کی بات اللہ سراپا محبت




انتخاب۔ صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ ایک اور نورانی صبح جو معطر ہو کے فضاؤں میں نور کی طرح بکھری ہوئی ہے اور ان ہواؤں اور ان فضاؤں میں درودو سلام کی آوازیں آ رہی ہیں۔ہمیں رب اور نبی کریمﷺ کی قربت محسوس ہو رہی ہے۔ اوروہ رب جو ہمارے کعبہء دل میں مکین ہے اور جس کے لیے ہمارادل اور ہماری روح کعبہ بننے کے لیے ہر وقت دھلائی کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔اور باطنی دھلائی ظاہری دھلائی سے زیادہ مشکل کام ہے لیکن یہ عمل رب جن بندوں کو اپنی محبت سے عطا کرنا چاہتا ہے یہ لونڈری انکے اندر لگا دیتا ہے تا کہ بندہ دھلائی کے اس عمل سے گزر کر ہر وقت نور کی روشنی کو اپنےاندرمحسوس کرتا رہے اور رب کی قر بت جو شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ دل کے آئینے میں اس کونظر آتا رہے۔ تو کس طرح سے شکر ادا کریں کہ اس نے اپنے جلوے کو ہم پر عیاں کر دیا اور آپﷺ کو ہمارا رہنما کر دیا۔ اور ہمیں درود پاک کی نعمت سے نواز ا اور دنیا کی ابتداء کر کہ محبت کی اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر لوح قرآنی یعنی لوح محفوظ پر قرآن پاک کو رقم کیا اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایسا مقدس لفظ ہے کہ اگر آپ سوتے وقت اس کو پڑھیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کے لیے تمام رات نیکیاں لکھو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر ربِ کائنات نوازنا چاہتا ہے اجر دینا چاہتا ہے اور جودوسخا کی بارش کرنا چاہتا ہے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان عطاؤں کو کیسے سمیٹتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ انسان ٹوٹتا ہے تو پھر رب سے جڑتا ہے اگر اس کو کوئی دکھ نہ ہو تکلیف نہ ہو الجھن نہ ہو، اس کا دل نہ ٹوٹے تو اُسے رب کی محبت کا یقین ہی نہ آئے کیونکہ ٹوٹنے کے بعد جب وہ رب سے جڑتا ہے اورپھر جو محبت اور عنائیات کی بارش ہوتی ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے اور جب وہ اپنی خالی ہاتھوں میں اپنی ٹوٹی ہوئی کرچیاں لے کر اپنے ہاتھوں میں پکڑ کے اپنے ریزہ ریزہ وجود کو اُس کے سامنے پیش کرتا ہے جسے کوئی نہیں سمیٹ سکتا وہ رب سمیٹ لیتا ہے اور خالی سمیٹتا ہی نہیں خالق بھی وہ ہے مصور بھی و ہ ہے وہ دوبارہ اسے بناتا ہے ان ٹکڑوں کودوبارہ جوڑتا ہے اور اسے وہ ایسی دوبارہ شکل دیتا ہے کہ جس کا وجود دنیا کے لیے نعمت عظمی ہوتا ہے اور وہ بہترین مصور ہے اس لیے پہلے سے خوبصورت بناتا ہے اور یہ خوبصورت انسان اگر یہ جان لے کہ اس کو دوبارہ سے کرچیوں سے جوڑ کے بنانے والا رب کیسا ہے،کون ہے کیا ہے ۔۔سراپا محبت ہے ممتا ہے پیار ہے رحمت ہے تو وہ باوجود شکر ادا کرنے کے اس کا شکر ادا نہیں کر پائے گا۔کہ ۔فباَی الآء ربکما تکذبن۔۔ بہت مشکل ہے زبان کا اس کا شکر ادا کرنا لیکن جب آپ رب ربوبیت میں عجز و انکسار کو اپناتے ہیں اور اُس کے آگے اپنا سر تسلیم خم کر دیتے ہیں تو وہ رب کائنات نہ صرف آپ کو سمیٹ لیتا ہے بلکہ آپ کا بن جاتا ہے اور پھر جس کا رب اُس کا سب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *