آج کی بات اللہ کی رحمت

آج کی بات اللہ کی رحمت

      No Comments on آج کی بات اللہ کی رحمت




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

کس قدر خوبصورت نور کے ساتھ ایک ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا جو مکہ اور مدینہ کو چھو کر ہم تک پہنچ رہی ہے۔ اور ہمارے دل میں ایک محبت کے احساس کو جگا رہی ہے اور بتا رہی ہے کہ اللہ ہے۔۔اللہ ہے۔۔اللہ ہے۔ اور دور سے آتی ہوئی اللہ اکبر کی صدائیں بھی یہی بتا رہی ہیں کہ اللہ ہے، اللہ ہے، اللہ ہے، اورآؤ بھلائی کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف، پکار پکار کہ فضائیں کہہ رہی ہیں اوراللہ کے بندے جنکواللہ توفیق دیتا ہے وہ اُسے کے حضور حاضر ہیں اوراپنے ربِ کائنات کی پیار بھری سرگوشیوں کو سُن رہے ہیں۔ اللہ ہی تو ہے جو دل کی خاموشی کہ بھی سُن لیتا ہے اُسکو لفظوں میں اپنا مطلب بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور وہی رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جو پکا اور سچا اور سُچا رشتہ ہے۔ وہی تو پیار ہے جو بے لوث پیار ہے، غیر مشروط پیار ہے وہ ہمارے رب کی محبت ہے ہمارے رب کا پیار ہے۔ دنیا میں تو یہ جذبہ شرائط پر مشتمل ہوتا ہے۔

کبھی تو رشتے بن جاتے ہیں اور لوگ قریب آجاتے ہیں اور کبھی جب ذرا رویوں یا سلوک میں فرق آتا ہے تو یہ دور چلے جاتے ہیں اور کبھی قریب آجاتے ہیں اور کبھی آہستہ آہستہ دور ہو کہ ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ربِ کائنات کے ساتھ ہم جُڑ جاتے ہیں تو وہ کبھی ہمیں اپنے سے الگ نہیں کرتا۔ ہم لاکھ کوشش کریں وہ رحمان اپنی رحمتوں کے حصار میں ہمیں جکڑ کہ رکھتا ہے۔ اُس وقت تک ہمیں اپنی رحمتوں سے محروم نہیں کرتا جب تک ہم بالکل ہی سرکشی پہ نہ اُتر آئیں۔ اور اُس کے باوجود وہ بار بار ہمیں موقع دیتا ہے، معافی کا، لوٹ آنے کا، محبت کرنے کا، محبت پھیلانے کا۔ اوردلوں میں امید کی شمعیں روشن کرتا رہتا ہے۔ یقین کی شمعیں روشن کرتا ہے۔ اور وہ یقین کی شمع جس کے دل میں جل جاتی ہے اوراُس نور کا یقین دل میں پھیل جاتا ہے تو انسان ہر ایک گمان سے نکل کر یقین کواپنا کر رب کو پا لیتا ہے۔ اور ہمارا زندگی کا سب سے بڑا نصب العین اللہ اور اللہ کی رضا کو حاصل کرنا ہے ۔کیونکہ کوئی بھی امر اُس کی رضا کے بغیر انجام نہیں پاتا۔ جب ہم اُس کی رضا کو اپنا لیتے ہیں۔ تو وہ پھر ہماری ہر خوشی کو ہر تمنا کو ہر خواہش کو پورا کرتا ہے۔ پھر وہ رب ہمار ا ہو جاتا ہے۔ تو پھرآپ سمجھ لیجئے جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *