آج کی بات اللہ کی رضا کا حصول

آج کی بات اللہ کی رضا کا حصول




انتخاب: صائمہ جبین مہک

نورکا وقت ہے اور ایک نئی صبح طلو ع ہو رہی ہے اور ایسے لمحات میں بہت سارا نور دلوں سے نکل کہ اللہ عزوجل کے نور میں ضم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں حق تعالی میں رغبت بڑھ جاتی ہے اس پر توکل قوی ہو جاتا ہے۔ اور مخلوق سے اشیاءکا لینا دینا ختم ہو جاتا ہے۔ اور بندہ صرف اپنے رب سے مانگتا ہے۔ اور جس وقت کوئی شخص انکو کوئی چیز دے تو وہ سمجھتے ہیں کہ جس نے دی اُس نے خدا کو دی اور خدا کے ہاتھ سے ہم نے لی۔ یعنی وہ ہرعطا جو ہے وہ اسکو رب کی ہی عطا سمجھتا ہے اور یقینا ہوتا بھی یہی ہے۔ اسکی عقل میں ایک عقل کا اضافہ کیا جاتا ہے اور وہ اللہ عزوجل کی طرف سے خاص عقل ہے جو اسکے تقوی کو ایمان کو پختگی عطا کرتی ہے۔ اور اسکا توکل اللہ پر بڑھ جاتا ہے۔ جب مولیٰ کے ساتھ خِلوت خانے میں جاگزیں ہوتا ہے تو مخلوق کو بھی وہ نظر انداز نہیں کرتا۔ خدا کی پیدا کی ہوئی ہرمخلوق اسکے پیار کا مرکز بن جاتی ہے۔ اور وہ نفس کو اس چیز کا اہل نہیں سمجھتا کہ جس چیز کی اہلیت حق تعالیٰ نے اُسے عطا نہیں کی۔ جو چیز حق تعالیٰ عطا نہیں فرماتا تو وہ خود اور ساری مخلوق مل کر بھی وہ اہلیت اسکو نہیں دلا سکتی۔ جب انسان کو صحیح باطن نصیب نہیں ہوتا اور نہ ماسوائے اللہ سے خالی ہو جانے والا قلب حاصل ہوتا ہے جو اس کی علامت ہے خدا نے تجھ کو خلوت کا اہل نہیں بنایا۔

تو محض خلوت جو ہے یہ مفید نہیں ۔تو دعا کرنا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو بھی کریں اُس پہ توکل بھی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کو بھی نفع پہنچائیں۔ اور ساتھ میں اللہ کی رضا کو بھی حاصل کریں اور راضی بارضا بھی رہیں اپنے نفس کی پیروی بھی چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کریں۔ بے شک یہ بات صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو اپنی مخلوق سے جلدی ناراض ہوتا نہ نعمتوں کو چھینتا ہے اور نہ اس پہ فوری طور پہ اپنی سزاﺅں کو آزماتا ہے اور نہ اس سے بدلہ لیتا ہے کیونکہ وہ تو ماں ہے ممتا ہے اور کتنا پیارا ہے وہ رب کہ وہ بہت جلد راضی ہو جاتا ہے۔ آپ بندوں میں دیکھیں اپنی ماںکو بھی دیکھیں اُس کے سینے میں بھی کوئی بات کسی وقت آ جاتی ہے تو وہ کچھ دیر ناراض ہو جاتی ہے لیکن سب سے جلدی راضی ہونے والی رب کی ذات ہے اور جب ہماری ندامت کا ایک آنسو بھی بہتا ہے تو وہ بڑھ کہ ہمیں تھام لیتا ہے اور وہ ہمارا قریبی دوست بن جاتا ہے۔ وہ ہمارے دل میں سما جاتا ہے۔ ہمارا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور ہمیں گرنے نہیں دیتا اور وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ میرے بندے نے کتنے پیار سے مجھے پکارا ہے کتنے پیار سے مجھ سے توبہ کی ہے کتنے پیار سے مجھ سے مانگا ہے تو وہ عطا کی بارش کر دیتا ہے اور نفرتیں جب ہمارے دلوں سے نکل جاتی ہیں تو ہمارا ہر لفظ جو ہے وہ دعا بن جاتا ہے۔ اور یہ دعائیں رب کا جلو دکھا تی ہیں اور ہم رب کے مقرب بن جاتے ہیں۔اور کتنی پیاری ہے وہ ذات جو ہماری خطاﺅں کو بخش دیتی ہے اور ہماری مخلوق سے محبت کرنے پرا پنی ذات کی نفی کرنے پر ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز دیتی ہے تو پھر ہمیں وہ کوشش کرنی چاہیے جس ہم پنے رب کی رضا کو حاصل کر لیں۔ تو جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *