آج کی بات اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائیںآج کی بات اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں

آج کی بات اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ ایک اور روشن سفید نور سے بھر پور اور دل و دماغ کو ٹھنڈ ک پہنچاتا ہوا دن جو اس رات کے بعد طلو ع ہو ا ہے۔ جو اس رات کی سچائیوں کو دنیا میں روشن کر رہا ہے اور روشن چہرے والے، روشن دماغ، روشن سوچ والے اللہ کے لوگ اللہ کے پیغام کو لے کر آگے بڑھیں گے۔ خود کو بھی پہچانیں گے دوسروں کو بھی پہچان کے عمل سے گزرنے کا مشورہ دیں گے۔ رسول پاکﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ آپﷺ نے فرمایا اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور اُسکے سینے کو اپنے علم سے اپنے حلم سے اپنی محبت سے روشن کر دیتا ہے اور اسکو صراط مستقیم دکھا دیتا ہے۔ تو یہ رستہ جس کو مل جاتا ہے وہ قابلِ رشک ہے کہ اللہ نے اُسے اپنے کام کے لیے چن لیا۔ کہ جو اُس نے اپنے انبیاء کرام کو سکھانے کے لیے بھیجا، پیغمبروں کو سکھانے کے لیے بھیجا وہی کام خاتم النبین کے بعد اللہ کے نیک بندے انجام دیتے ہیں۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ صرف دو آدمی رشک کے قابل ہیں ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا اور پھر اُس نے اُسے حق تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی دی۔ اور دوسر ا وہ آدمی جس کو اللہ نے دانائی سے نوازا پس وہ اس کے ساتھ فیصلے بھی کرتا ہے اور دوسروں کو بھی سکھاتا ہے تو یہ سب رب کی عطا ہے کہ وہ جس کو اختیار ہے منتخب کرتا ہے، رستہ دکھاتا ہے توفیق عطا کرتا مال دیتا ہے دولت دیتا ہے، علم دیتا ہے، عقل دیتا ہے اور اُس کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ اُس کو صرف وہ اپنی عیاشیوں پہ یا بخیل عالم کی طرح دل میں سنبھال کہ نہیں رکھتا بلکہ وہ اس سے دوسروں کو راہِ راست پر لاتا ہے اور اپنے مال کو اللہ کی رضا کی خاطر اللہ کے بندوں پر خرچ کرتا ہے۔

اب ہم اگر مثال دیکھیں حضرت عمر فاروقؓ کی کہ نہ اُن کے پاس علم و دانش نہ مال و دولت کی کمی تھی اور معاشرے میں اُن کو بلند مرتبہ حاصل تھا اور آپ جب خلیفہ بنے تو حضرت عمر فاروقؓ کی بیوی عاتکہ فرماتی ہیں کہ آپؓ لیٹتے تو نیند ہی اُڑ جاتی، ببیٹھ کر رونا شروع کر دیتے، میں پوچھتی کہ اے امیر المؤمنین کیا ہوا کہتے مجھے حضرت محمدﷺ کی امت کی خلافت ملی ہوئی ہے۔ اس میں مسکین بھی ہیں ضعیف بھی ہیں، یتیم بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھ سے ان سب کے بارے میں سوال کریں گے اور مجھ سے جو کوتاہی ہوئی تو میں اللہ کے رسول کو کیا جواب دوں گا۔ یہ تھا طریقہ ان روشن دماغ، روشن خیال اللہ کے منتخب کردہ بندوں کا کہ جن کو خوفِ خدا سے نیند نہیں آتی تھی۔ کہ جو کچھ ان کو دیا گیا جو منصب ان کو دیا گیا چاہے وہ دولت کی وجہ سے تھا، علم کی وجہ سے تھا، دانش کی وجہ سے تھا۔ اللہ کے حکم سے ان کو چنا گیا تو کہیں وہ ذمہ داریاں جو انکو سونپی گئی اُن میں کوتاہی نہ ہو جائے۔ میرے پیارے نبی کریمﷺ کیا ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور معتبراللہ کا پیارا اللہ کا منظور نظر، جن کے لیے کائنات بنائی کوئی اور تھا۔ اور آپﷺ تمام رات کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے اور اپنی امت کے لیے دعا مانگتے آپ ﷺ کے پاؤں مبارک سُوج جاتے آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتیں اللہ پاک آپ ﷺ کو یا ایھاالمد ثر، یاایھا المزمل کہہ کر پکارتے اور تسلی دیتے۔ تو ہم سب کیا ناچیز اپنے دین کی تھوڑی سی بھی خدمت انجام دے سکتے ہیں یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم اگر دجلہ کے دور دراز علاقے میں بھی کسی خچر کو راہ چلتے ٹھوکر لگ گئی تو مجھے ڈر لگتا ہے کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے یہ سوال نہ کریں کہ اے عمر! تُو نےوہ راستہ کیوں نہیں ٹھیک کروایا تھا۔ یا وہاں پہ کوئی کتا مر جائے تو اُس کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ تُو نے اُس کی دیکھ بھال کیوں نہیں کی۔ تو ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے رب کائنات کی بنائی ہوئی اس دنیا میں جس وقت میں پیدا کئے گئے ہیں جس دور میں پیدا کیئے گئے ہیں اور جو کچھ اپنے رب کی طرف سے ہمیں عطا کیا گیا ہے وہ ہم سب تک پہنچا دیں۔ وہ شعور، وہ آگہی، وہ علم، وہ محبت، وہ مذہب وہ دین اور وہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ جنت اور دوزخ کے معاملے تو بعد کے معاملات ہیں۔ ہم اپنے پیارے نبی کریمﷺ کا اتباع کس طرح کرتے ہیں عشق مصطفی تو کرتے ہیں، وصفِ مصطفی کا بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن اُس پرعمل کتنا کرتے ہیں؟ کیا ہمارے دل ہر قسم کے میل کچیل، بر ے خیالات سے، نفرت سے، انا سے، تکبر سے، خواہشوں سے، حسد سے، پاک ہیں؟ کیا ہمارے دل میں اللہ کی خلقت کے لیے محبت ہے؟ کیا ہمارے دلوں کو سکون حاصل ہے؟ وہ سکون جو اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کے بعد میسر آتا ہے۔ تو اے اللہ پاک! تُو رحمان و رحیم ہے اور جو کچھ تُو نے ہمیں ہمارے رسول پاکﷺ کے ذریعے سکھایا یا قرآن پاک کے ذریعے سمجھایا ہمیں توفیق دے کہ ہم اُس کو دوسروں تک پہنچا سکیں تو اللہ ہم اس کے لیے تیری محبت طلب کرتے ہیں۔ تیرا ہاتھ مانگتے ہیں تجھ سے سوال کرتے ہیں تجھے اپنا بنانا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے دل کے اندھیرے مٹا دے اور اس کو اپنے نور سے منور فرما دے کیونکہ ہم تجھے ہی چاہتے ہیں کہ جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *