آج کی بات کی آخرت کو نہ بھولیں

آج کی بات کی آخرت کو نہ بھولیں




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

الحمد للہ ایک اور نورانی صبح نور سے روشن اور اس کی نورانی کرنوں سے تمام مخلوق کے دل روشن ہیں جو اس وقت جاگ رہے ہیں اُس کی نورانی کرنوں سے اندھیرے میں راستہ تلاش کر رہے ہیں اور اپنے دلوں کو منور کر کے اپنے رب کو دل کے اندر تلاش کر رہے ہیں اور اس نور کو دور تک پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں تو یہ سب اُس کی رحمت ہے کہ وہ ہر روز ایک نئے خوبصورت صبح جو ہر پچھلے دن سے بہتر ہوتی ہے ،طلو ع کرتا ہے اور انسان کو ایک اور موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکے کچھ اور اچھا کام کر سکے اپنا احتساب کر کے خود کو پہچان سکے اُس کی مخلوق کے لیے کوئی نیک کام کر سکے اور اس کی مخلوق سے محبت کر سکے اور تاکہ وہ رب کہ محبت حاصل کرے اور اللہ ہی نے انسان کو عقل عطا فرمائی تو فی زمانہ اگر آپ نظر ڈالیں تھوڑے ہی پچھلے دور پر تو جہاں مواصلات کا ذریعہ گھوڑے تھے، خط تھے ،تار تھے ٹیلی گرامز تھے تو پھر ٹیلی فونز آئے اور آپ دیکھیں موبائل فونز ہیں اور ان کی بھی کئی قسمیں ہیں لیپ ٹاپس ہیں اور الیکٹرونک میڈیا اتنا ترقی کر گیا ہے کہ ہم ابھی گھر بھی نہیں پہنچتے اور اگر کسی تقریب میں ہم نے شرکت کی تو اس کی رپورٹ ہم سے پہلے اس میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔تو یہ عقل کس نے عطا فرمائی ؟ اور اب ہر چیزمنٹوں میں ہماری رسائی میں ہے جو چاہیں آپ انفارمیشن حاصل کرنا چاہیں اُس تک رسائی حاصل کرنا اب مشکل نہیں رہا۔ہمارے ہاتھوں میں ہر چیز موجود ہے اور اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس کو اچھی طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ اچھے کام کے لیے استعمال کرتے ہیں یا اس کو تخریب کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یہی موبائلز تخریب کاری کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔دہشت گردی کا بھی ذریعہ بنتے ہیں غلط پیغام رسانی کا بھی ذریعہ بنتے ہیں اب یہ انسان بھی کیسا سیانا ہے یہی نہیں پتہ کہ عقل کے گھوڑے اس نے کہاں تک دوڑا دیے اور یہ ایک طرح سے فائدہ مند بھی ہے کہ بے شمار انفارمیشن اور ہم بطورِ مسلمان اپنی انفارمیشن بھی پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں اور دوسرے اسلامی ممالک سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ آپ دیکھیں کہ اب ریموٹ کنٹرول سے دروازے کھل جاتے ہیں ریموٹ سے آپ کا ٹی وی چل جاتا ہے۔ریموٹ سے آپ کی گاڑی کھل جاتی ہے۔ تو یہ انسان کا سیانا پن ہے اس کو عقل اللہ نے دی اور انسان کیسا ہے کہ وہ سب کچھ کر تا ہے سردی آنے سے پہلے گرم لباس کا بندوبست کر لیتا ہے رات کو گھر آنے سے پہلے کھانے کے لیے انڈے ،ڈبل روٹی اور جو سامان وغیرہ چاہے وہ لے آتا ہے۔ کس قدر منتظم ہے یہ انسان اور بچے کی پیدائش سے پہلے ہی کپڑے وغیرہ تیار کر لیتا ہے اور اب تو یہاں تک بھی ہے کہ اکژ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی سکول تک بھی داخلہ کروا لیا جاتا ہے۔اور جب روزے آتے ہیں رمضان آتا ہے تو افطار کے لیے عصر سے ہی چیزیں جمع کر لیتا ہے ۔بارش میں نکلنے سے قبل چھتری لے لیتا ہے ،لمبے سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے گاڑی کی ہوا، تیل ، پانی، پٹرول، چیک کر لیتا ہے اور اندھیرے میں نکلنے سے پہلے ٹارچ تھام لیتا ہے اور اس طرح سے وہ بہت سارے کام اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ اور ہر چیز تک رسائی بے حد آسا ن ہو گئی ہے۔

اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فہم عطا فرمائی جس کے ذریعے اس نے کیسی کیسی حیرت انگیز ایجادات کر لی ہیں۔ آپ ہوائی جہاز کو دیکھیں کہ منٹوں میں کس طرح سے اتنا لمبا فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے اور ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں اور آج کل کی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ ہماری عقل حیران ہے۔ لیکن کیا انسان نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس کا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے کیا ان چیزوں سے لطف اندوز ہونا اور ان کو حاصل کرنا اس کے لیے غلط یا صحیح ذرائع استعمال کرنا ،ہر چیز کے حصول کے لیے لالچ اور طمع کا پیدا ہونا یہ سب چیزیں ہمیں جہاں فائدہ پہنچا رہی ہیں وہاں نقصان بھی پہنچا رہی ہیں لیکن ایک بات جو ہم اپنا سب سے بڑا نقصان کر رہے ہیں ہم انسانیت کے رستے سے بھٹک گئے ہیں ہمیں روز اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نت نئے طریقے جو لوگوں میں تباہی پھیلانے کے، لوگوں کی چیزوں کو تباہ کرنے کے طریقے، چوری کرنے کے طریقے ، ڈاکے ڈالنے کے طریقے ،آگ لگانے کے طریقے، اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی چیزیں اور کس طرح سے ہم نت نئے طریقے سے قتل کرنے کے طریقے اور ہر طرح کی چیزیں انسان نے ایجاد کر لی ہیں۔ انفارمیشن یہ ہمیں ریڈیو ،ٹی وی اور نیٹ کے ذریعے سے ،یہ انفارمیشن ملتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان اپنے آنے والے کل کے لیے انتظام میں مصروف رہتا ہے کہ اب کل شادی ہے تو میں یہ کپڑا پہنوں گا،کل سکول جانا ہے تو یہ کپڑے ہونے چاہیءں ،یو نیفار م ہونا چاہیے۔سب کچھ کھانا، پینا، ہرچیز کا انتظام کرنا ہے لیکن کیانہیں کرتا وہ قبر میں اُترنے کی تیاری نہیں کرتا، وہ یہ نہیں سوچتاکہ جو اس کا اصل ٹھکانہ ہے جب وہ وہاں پہنچے گا تواس کی تیاری بھی بے حد ضروری ہے اور وہ تیاری کیا ہے، خود کو پہچان کے خود سے محبت کر کے اپنے رب سے محبت کریں اللہ کے انسانوں سے پیار کریں ۔ اور علم نافع ان تک پہنچائیں۔ اور سب کا بھلا مانگیں ،سب کی خیر مانگیں۔ امن و امان مانگیں۔ اور اتنی محبت دیں کہ نفرت کی دیواریں ٹوٹ جائیں اور یہ سب ہم نہیں کرتے اپنے دل کے بتوں کو نکا ل کہ رب کو تلاش کریں اور پھر ان سب چیزوں سے مستفید ہوں تو پھر دیکھیں اس کا مزہ دو چند ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب آپ کا عمل مثبت ہو جاتا ہے ان چیزوں کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو مثبت طریقے سے استعمال کریں ان کا مثبت فائدہ اٹھائیں۔منفی فائدے کو ختم کریں منفی کوئی سوچ نہ اپنائیں مثبت سوچ اپنائیں۔محبت کریں ،پیار کریں معاف کریں، کیونکہ محبت پھیلے گی تو معاشرے میں ہر قسم کی بھلائی ا ور بہتری آئے گی۔ اور ہر کام اچھے طریقے سے انجام دیا جائے گا۔اور پھر جو شخص قبر میں اُترنے کی تیاری کرتا ہے اس کو پتہ ہے کہ مجھے زندگی ختم ہونے سے پہلے اپنے رب کو راضی کرنا بڑا ضروری ہے اور رب جو راضی ہو تا ہے وہ اس طرح کہ آپ اُس کی رضا میں راضی ہو جائیں ۔اور آپ خیال کریں کہ جو بھی کام میں نے کرنا ہے وہ ایسے کرنا ہے کہ اس سے میرا رب راضی ہو گا۔ اور پھر جب رب راضی ہو گا تو وہ آپ کا بن جائے گا۔تو پھر جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *