آج کی بات اہلِ علم

آج کی بات اہلِ علم

      No Comments on آج کی بات اہلِ علم




انتخاب: صائمہ جبین مہکؔ

شکر الحمد للہ یہ نور جو اللہ کا نور ہے جو زمین کو آسمان کو یہاں کے مکینوں کو ان کے دلوں کو روشن کر رہا ہے۔ اور اس روشنی میں رب کائنات کا جلوہ نبی کریمﷺ کا جلوہ اور اللہ کی رحمتیں نظر آ رہی ہیں۔ ایک اور خوبصورت دن کے آغاز کی نوید دے رہی ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے ہمیں تحفہ ملا ہے۔ ایک اور دن ملا ہے کوئی نیا کام کرنے کا اور فیض یاب ہونے کا۔ تو اس مبارک دن میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، عاجزی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم جو کام سیکھیں وہ تیری رضا کے لیے ہو جو علم حاصل کریں وہ تیرے لیے ہو جو علم سکھائیں وہ بھی تیرے لیے ہی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اے پیغمبر کہہ دیجیے۔ اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے کہہ دیجیے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تم میں سے ان لوگوں کے درجات بلند کرتا ہوں جو ایمان لائےاور جنہیں علم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ اُس کے بندوں میں سے صرف علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ یہ روشن دن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر کرم اور فضل فرماتا ہے جو اس کی خاطر علم کو سیکھتے ہیں، سکھاتے ہیں پھیلاتے ہیں اور خود اُس پر عمل پذیر بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ کیا اندھے اور آنکھوں والے برابر ہو سکتے ہیں؟ یہاں علم والوں کی مثال آنکھوں والوں سے اور نادان اور جاہلوں کی مثال اندھوں سے دی گئی ہے۔ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے۔ اور یقیناًوہ لوگ بہتر ہیں جو اللہ کا دیا ہوا علم نافع دنیا میں پھیلاتے ہیں اور اللہ انکے درجات کو بلند فرماتا ہے۔ انھیں علم بھی عطا فرماتا ہے۔عقل و شعور بھی عطا فرماتا ہے۔ اُنکو ایمان کی دولت سے بھی نوازتا ہے۔ جب کسی بندے کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے تو اُسے دین کی بھی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ صرف علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ یعنی جو شعورو آگہی رکھتے ہیں جو جانتے ہیں اور جو وصف محمدی کو اپناتے ہیں۔ بے شک عشق اپنی جگہ اور علم اپنی جگہ۔ ایسا ضرور ہے کہ
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

لیکن یہ عشق بھی عقل سکھاتی ہے ۔عشق کے لیے رستہ ہموار کرتی ہے تو یہ علم ہی ہے جو عقل کو بڑھاتا ہے اور اُسکو اُس رستے کی طرف لے جاتا ہے جب اُسے اپنے خالق حقیقی پہچان ہوتی ہے۔ یہ پہچان اُس کو جب ایک مکمل انسان بنا دیتی ہے اُس کے یقین کو کامل کر دیتی ہے جب اُس کا رب کی ذات پر یقین پختہ ہو جاتا ہے اور پھر جب وہ اپنے آپ کو رب کے سپرد کر کہ درمیان سے نکل جاتا ہے تو پھر وہ مقام عشق آتا ہے کہ جب اُس کا یقین کامل ہو جاتا ہے۔ پہلے تو وہ سیکھتا ہے دیکھتا ہے کہ رب کہاں ہے ،کیوں ہے، کیا کررہا ہے۔ اُس کو کیا کرنا ہے یہ ساری تعلیمات اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں اور ایک عاشق کو ہی عطا ہوتی ہیں۔ یعنی عاشق وہ ہوتا ہے جو جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے وہ کیا ہے، وہ کہاں ہے جو یہ نظام ہستی چلا رہا ہے۔ اور پھر جب اُس کا یقین کامل ہو جاتا ہے تو وہ پھر ہر چیز کی پرواہ کیے بغیر اپنے آپ کو اُس کے سپرد کردیتا ہے اور یہ سپرد کر دینا اُس کے یقین کامل کی نشانی ہے اور جب وہ مکمل اپنے آپ کو رب کے سپرد کر دیتا ہے تو رب اُس کا ہو جاتا ہے جو اُس کا منتہائے مقصود ہے۔تو پھر جس کا رب اُس کا سب۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *