talib hashmi ghazal

طالب ہاشمی کا مختصر تعارف اور غزل

تعارف

طالب ہاشمی صاحب ایک مشہور اردو شاعر ہیں ۔ ۔ انکا اصلی نام عابد احمد خا ن ہے مگر جب قلم سے رشتہ جُڑا تو انہوں نے اپنانام طالب ہاشمی رکھ لیا ۔طالب ہاشمی 15فروری1981میں پیدا ہوئے۔آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی پھر اُسی وکالت کو اپنے لئے ذریعہ روزگار بنا لیا۔آپ کو احسان اللہ احسان خلیقی کا شرفِ تلمذ بھی حاصل ہے۔طالب ہاشمی کا آبائی وطن افغانستان کا علاقہ یوسف زئی ہے۔

پھر آپ ہجرت کر کے انڈیا آ گئے اور تا حال آپ انڈیا کے ضلع برہان پور مدھیہ پردیش مقیم ہیں۔ طالب ہاشمی صاحب نے شاعری کا آغاز 2012میں کیا ۔آپ بزمِ راغب برہانپور کے سیکرٹری ہیں۔

غزل

بڑھ گئیں خود غرضیاں خوئے وفا باقی نہیں
جو دلوں کو راس آئے وہ فضا باقی نہیں

اُف یہ آوارا مزاجی اور یہ فیشن کا جنون
شرم کا احساس آنکھوں میں حیا باقی نہیں

اب کرےگا کون بیمارِ غمِ دل کا علاج
چارہ سازوں میں کوئی اہلِ دعا باقی نہیں

اب بھی ہے کانٹوں میں دامن تھام لینے کی صفت
ہاں مگر پھولوں میں خوشبوئے وفا باقی نہیں

بے وفائی بن گئی ہے آج دنیا کا مزاج
اب کسی کردار میں بوئے وفا باقی نہیں

ہوگیا قابض یہاں ہر اک شجر پہ اژدہا
اس لئے چڑیا کا کوئی گھونسلہ باقی نہیں

ظالموں کے سامنے ہوجائے جو سینہ سپہر
ہند میں ایسا کوئی مردِ خدا باقی نہیں

اپنے ہی دم سے تھیں صحنِ گلستاں میں رونقیں
“اب بہار آنے کا کوئی راستہ باقی نہیں”

کیوں نہ طالب ہم جلائیں اپنی پلکوں کے دیئے
جب اجالوں کے لئے کوئی دیا باقی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *