sarwar nepali ghazal

محترم سرور نیپالی صاحب کا اجمالی تعارف اور خوبصورت غزل

تعارف

سرور نیپالی ایک معروف اردو شاعر ہے جو 1مارچ 1974ء کو نیپال میں پیدا ہوئے انہوں نے شاعری کا آغاز 1993ء سے کیا اور1995ء سے مشاعروں میں شرکت کی ۔وہ روایتی شاعری جدید مضمون کے ساتھ کرتے ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ،سابق دین ،(بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان پاکستان )پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف اورسابق دین ان کے شاعری کے استاد ہے ۔

وہ بحرین ،انڈیا،افریکہ،نیپال،یواے ای ،اور عمان میں ادبی سفر کر چکے ہیں ۔وہ اس وقت شارجہ میں ایک سیلز مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ان کے پسندیدہ شاعر احمد فرازہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں تا عمرجب بھی اور جہاں بھی ہو سکے میں اردو کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ۔

غزل

بعد مدت کے میرے آنکھ سے آنسو نکلے
خشک صحرا میں جو پانی گرے خوشبو نکلے

اشک سوکھے ہوئے گالوں پہ کجی سے نکلے
رقص کرتے ہوئے صحراؤں میں آہو نکلے

تیرے دیوانے کے دیوانوں کے دیوانے ہیں
تیری کیا بات کریں باتوں سے خوشبو نکلے

تیرے میخانے میں جو آج اچھالا ساغر
ایک قطرے کے میرے سینکڑوں پہلو نکلے

ساقیا تونے جو کل دی تھی مجھے کم دی تھی
آج نکلے تو فقط لے کے ترازو نکلے

نیند سے چور زمانے کی درخشاں ہو حیات
گھر سے انگڑائیاں لیتا ہوا گر تو نکلے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *