megi asnani ghazal

محترمہ میگی اسنانی صاحبہ کا اجمالی تعارف اور خوبصورت غزل

تعارف

میگی اسنانی کا تعلق انڈیا سے ہے اور وہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں بسلسلہ روزگا مقیم ہیں ۔میگی اسنانی صاحبہ 1980میں دوارکا،ضلع گجرات انڈیا میں پیدا ہوئیں ۔میگی اسانی صاحبہ نےشاعری کا سفر 2007 میں شروع کیا۔2008میں مشاعرے پڑھنے شروع کئے ۔آپ نے انڈیا کے علاوہ دبئی ،شارجہ اور ابو ظہبی کی طرف بھی کئی ادبی سفر کر چکی ہیں ۔

میگی اسنانی صاحبہ اردوکے ساتھ ساتھ ہندی اور گجراتی میں بھی بہت اچھی شاعری کرتی ہیں ۔آپ کے پسندیدہ شعراء جون ایلیا ،بشیربدر اور مرزاغالب ہیں۔

بشیر بدر صاحب کا ایک شعر جو آپکو بہت پسند ہے

صدیوں سے اک بچی بھاگتی ہے رات میں ؎
یادوں کی تاک پر کہاں رکھی ہیں بالیاں

غزل

اکیلی چل رہی ہوں جل رہی ہوں تم نہیں آنا
میں غم کی پرورش میں پل رہی ہوں تم نہیں آنا

تمہارے نام کی مہندی لگا کر خوب مہکے تھے
میں ان ہاتھوں کو بیٹھی مل رہی ہوں تم نہیں آنا

مجھے ہی شوق تھا تم کو میری آنکھوں میں رکھنے کا
سو اب میں آئینوں سے ٹل رہی ہوں تم نہیں آنا

مسیحا کچھ دنوں کا اور ہے یہ خاکستر بھی
میں اپنے آپ کو ہی کھل رہی ہوں تم نہیں آنا

جہاں جس کے کنارے ہم کبھی اک ساتھ بیٹھے تھے
اسی ندیاں کے جل میں رل رہی ہوں تم نہیں آنا

انتخاب: عادِلفہیٖم، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *