maqsood wafa ghazal

محترم مقصود وفا صاحب کا اجمالی تعارف اور خوبصورت غزل

تعارف

مقصود وفا کا تعلق لائلپور سے ہے ۔ آپ اس وقت بھی لائلپور میں مقیم ہیں ۔مقصود وفا 6 مئی1962کو لائلپور میں پیدا ہوئے۔آپ ذریعہ معاش کے لئے کاروبار کا انتخاب کیا ۔مقصود وفا نے اپنی شاعری کا آغاز آٹھ ،دس سال کی عمر ہی کر لیا تھا شروع میں آپ چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھتے تھے ۔طالب علمی کے دور ہی سے مشاعرہ میں پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔آپ نے کویت ،عراق ،ایران ،یو اے ای،اور امریکہ کی طرف کئی ادبی سفر کئے ہیں ۔آپکے پسندید شعراء میں جناب اختر حسین جعفری ،مجید امجد،اور جو ن ایلیا شامل ہیں ۔

جناب مقصود وفا کے کئی مجموع کلام شائع ہو چکے ہیں جن میں سے درِ امکان 1994 ،علاحدہ2012 اورتالیف 2014میں شائع ہوئےآج آپکے خوبصورت کلام میں سے ایک غزل قارئینکرام کے لئے پیش خدمت ہے ۔

غزل

تھک کے بیٹھوں، تو مجھے رستہ نظر آئے گا
شام اِس دشت میں گزرے گی تو گھر آئے گا

سوچ کر میری محبت میں قدم رکھنا تم
اِس سے آگے تو بہت لمبا سفر آئے گا

منتظر آنکھیں کسی طاق میں بجھ جائیں گی
کوئی ہو گا ہی نہیں، کوئی اگر آئے گا

سیکھ جاؤں گا ترے بعد بھی جینا لیکن
مجھ کو اے دوست ترے ھجر سے ڈر آئے گا

مجھ تک آتے ہوئے دنیا اُسے روکے گی بہت
رک بھی جائے گا کسی راہ میں، پر آئے گا

عمر کے دن تو اِسی آس میں کٹ جاتے ہیں
رات ڈھل جائے گی اور وقتِ سحر آئے گا

وقت کی قید سے آزاد ، مہ و سال سے دور
اِک زمانہ ہے کہ جو بارِ دگر آئے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *