Zulfiqar Naqvi Interview By Touseef Turanal

Zulfiqar Naqvi Interview

ذوالفقارنقوی صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: توصیف ترنل

س: لفظوں سے رشتہ کب جڑا ؟ پہلا شعر کونسا کہا اگر یاد ہو ؟
ذوالفقار نقوی: یوں تو یہ شوق بچپن ہی سے دامن گیر تھا لیکن 1987 ء میں پہلی مکمل غزل کہی تھی۔ جسکا مطلع یہ تھا
سلام ان کا مدت سے آیا نہیں ہے
انہیں اب جو میری جو میری تمنا نہیں ہے

س: اگر کوئی کتاب شائع ہوئی تو اسکا نام اورسنِ اشاعت؟؟
ذوالفقار نقوی: پہلا شعری مجموعہ “زاد ِ سفر ” جو نعت سلام اور مناقب پر مشتمل ہے،عباس بک ایجنسی لکھنؤ نے 2012 میں شائع کیا۔ دوسرا شعری مجموعہ “اجالوں کا سفر ” جس میں 75 غزلیں اور چند نظمیں شامل ہیں، اردو فاؤنڈیشن ممبئی نے 2013 میں شائع کیا۔ اورمزید دو مجموعے زیر ِ اشاعت ہیں۔ جن میں غزلوں پر مبنی ایک مجموعہ “سرِ دشتِ بلا “اور ایک مذہبی کلام پرمبنی شامل ہے۔

س: والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزادہ شعر کہتا ہے تو انکا ردِ عمل کیا تھا؟
ذوالفقار نقوی: والدین کواسوقت پتہ چلا جب میں نےغزل کو چھوڑ کرنعت شریف کہنا شروع کردیاتھا۔ نوے کی پوری دہائی میں مذہبی شاعری ہی کی اوریہ جان کر والدین نے دعاوں سے نوازا۔ اورجب مکمل طورپرغزل کی طرف رخ موڑا تومیری غزل عام عشقیہ اورسطحی موضوعات سے اوپر اٹھ چکی تھی۔

س: آپکا قلمی نام ذوالفقار نقوی ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟
ذوالفقار نقوی: قلمی نام کا پہلا حصہ میرا اصلی نام ہے اور دوسرا حصہ میری نسبت۔
س: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں ؟
ذوالفقار نقوی: بد قسمتی سے شاعری میں کوئی استاد نہیں ہے اورنا کسی سے کوئی اصلاح لی البتہ اصلاح کرنے پربعض عزیزوں واقارب نے مجبور کررکھا ہے۔ حالانکہ مجھے اس امر حقیقی کے اعتراف میں کوئی عارنہیں کہ میں ایک ادنی سا طالب علم ہوں اس بحر بیکراں کا۔

Zulfiqar Naqvi Interview

س: شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو ؟
ذوالفقار نقوی: شاعری اپنے محسوسات کو لفظوں کے حسین اور دلکش پیکر میں ڈھالنے کا نام ہے۔ اگر یہ ملکہ خدا داد نہ ہو تو خود سے کوئی شاعر نہیں بن سکتا۔ اسکے لئے حساس دل اور نقطہ بین آنکھ چاہیئے۔ اورپھرفن کے نکھار کے لئے مطالعہ اورمشق کی اشد ضروری ہے۔ میری شاعری میری زندگی کے اتار چڑھاؤ اور تلخ تجربات کا ہی نتیجہ ہے۔

س: کیا طنز و مزاح سے لگاؤہے؟اور کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا؟؟
ذوالفقار نقوی: طنزومزاح سے اگرچہ زیادہ لگاو تونہیں لیکن ہرشاعراپنے کلام میں معاشرے کی برائیوں اورآجکل کے انسانی اقدار کی تنزلی کے حوالے سے کچھ نہ کچھ طنزیہ ضرور کہتا ہے۔ جی ہاں بطورمدیر نثر بھی لکھی اورمتعدد کتب پرتبصرہ بھی۔ فروغ نعت سرگودھا پاکسان کے تمام آن لائن نعتیہ ردیفی مشاعروں میں بطور تنقید نگار مدعو کیا جاتا ہوں۔ اپنے محدود علم کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہوں۔

Zulfiqar Naqvi

س: موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپکی پسند کا شاعر؟؟
ذوالفقار نقوی: یہ ایک طویل اور بحث طلب موضوع ہے۔ ہمارے نئے شعرا زیادہ پڑھنے کے بجائے زیادہ لکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مطالعہ کو بالائے طاق رکھ کر کسی شارٹ کٹ سے بڑا شاعر بننے کی کوشش میں ہیں۔ اورایک خاص بات ہندوستان کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ ہماری نئی نسل اردو رسم الخط سے بالکل نا بلد ہے۔ جب اردو پڑھنا تک نہیں آتی تو اکابرین کو کیسے پڑھا جائے گا۔ اقبال، غالب، میر کیونکر درک ہو سکتے ہیں۔ اردو رسم الخط سے دوری کا سیدھا مطلب ہے کہ فارسی اورعربی سرے ہی سے نہیں آتی۔ فارسی شعرا اور فارسی شاعری کا علم ضروری مانتا ہوں۔ موجودہ شعراء میں علی زریون، عرفان ستار، رفیع رضا، لیاقت علی عاصم۔ اورجو ملے پڑھ لیتا ہوں۔

س: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟
ذوالفقار نقوی: کئی ادبی گروپ ہیں جن سے منسلک ہوں۔ کم از کم دس ادبی گروپ ایسے ہیں جو فیس بک پرعمدہ کام کر رہے ہیں۔
س: محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟
ذوالفقار نقوی: ہاہاہاہا شاعری کی اصل اساس محبت ہی ہے جناب محبت کی کئی جہات ہیں۔ میں کافی دور نکل چکا ہوں جہاں عام انسان کا درد ناگ بن کر ڈس رہا ہے۔

س: جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پر کتب سے دوری بھی دی ہے۔ آپکے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے ؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟
ذوالفقار نقوی: سوشل میڈیا کے توسط سے ہم ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ اسے برقی انقلاب سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال کے ساتھ ساتھ کتابوں سے بھی منسلک و مربوط رہنا چاہیئے ورنہ ہم علم سے دور Zulfiqar Naqvi Interviewہوتے جائیں گے۔

س: کس بحر میں غزل پسند ہے؟ آپ کا اپنا کوئی پسندیدہ شعر؟
ذوالفقار نقوی: میں نے مختلف بحور کا استعمال کیا ہے۔ ہر باپ اپنے بیٹوں سے برابر پیار کرتا ہے۔ مجھے اپنے سارے اشعار پسند ہیں۔ ہاں قارئین کو کوئی پسند ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا۔

س: پہلی ملاقات میں سامنے والی شخصیت میں آپ کیا دیکھتے ہیں؟
ذوالفقار نقوی: طرز تخاطب، اخلاق حسنہ، خلق نہیں تو تخلیق بے معنی۔
س: غالب کے بارے میں آپکی رائے؟
ذوالفقار نقوی: غالب کو کوئی مانے یا نہ مانے، غالب ہر کسی پرغالب ہے اور اردو ادب پرغالب ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *