Zia Mazkoor Beautiful lyrics | Zia Mazkoor Poetry In Urdu

Zia Mazkoor Beautiful lyrics

لوگ آیات پڑھ کے سوتے ہیں
آپ کے خواب دیکھنے کے لیے

تم اگر پہلے بتا دیتے کہ تم سید ہو
اپنے حصے کا بھی پانی میں تمہیں دے دیتا

ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ
عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے
ویسے بھی کون سی زمینیں تھیں
میں بہت خوش ہو عاق نامے سے

Zia Mazkoor

اس کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے
ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے
میں اس شخص سے تھوڑا آگے چلتا ہوں
جس کا میں نے پیچھا کرنا ہوتا ہے

Zia Mazkoor Beautiful lyrics

اتنی خوشیاں نہیں فضاؤں میں
جتنی مقدار میں غبارے ہیں
پھر کوئی بات چھیڑ دیتا ہے
اٹھ کے جیسے ہی جانے لگتے ہیں

ایسے تیور دشمن ہی کے ہوتے ہیں
پتہ کرو یہ لڑکی کس کی بیٹی ہے
میں اس شہر کا چاند ہوں اور یہ جانتا ہوں
کون سی لڑکی کس کھڑکی میں بیٹھی ہے

وصل کے بھید کھولتی مٹی
چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ
اس کبوتر نے اپنی مرضی کی
سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ

لوگ تو کرتے ہوں گے اس کے بارے میں
لیکن وہ جو درزی باتیں کرتے ہیں

ہم کو عادت ہے دھیمے لہجے کی
اور بزرگوں کو اونچا سنتا ہے
ویسے بھی عشق کے دفاتر میں
تیرے بھائی کا نام چلتا ہے

زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر
آج کے بعد کوئی فلم نہیں دیکھیں گے
صیغہ_راز میں رکھیں گے نہیں عشق ترا
ہم ترے نام سے خوشبو کی دکاں کھولیں گے

Zia Mazkoor

ایک دیوار باغ سے پہلے
اک دوپٹہ کھلے گلے کے لیے
سینکڑوں کنڈیاں لگا رہا ہوں
چند بٹنوں کو کھولنے کے لیے

Zia Mazkoor Beautiful lyrics

گفتگو بعد میں ہوتی تھی ترے بارے میں
پہلے پستول کو ٹیبل پہ رکھا جاتا تھا

پہلے سنجیدگی سے سنتی رہی
پھر وہ لڑکی بہت ہنسی مجھ پر

بہشتوں سے نکالے جانے والے
زمیں پر موج مستی کر رہے ہیں
میں جن کے غم میں آدھا رہ گیا ہوں
وہ اپنی بات پوری کر رہے ہیں
جنہوں نے آپ کو آقا نہ مانا
وہ دنیا کی غلامی کر رہے ہیں

دور دراز سے آنے والے خط میری ہمسائی کے تھے
اک دن اس نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا
ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا
گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا

Zia Mazkoor

مجھے اب اور کتنا رونا ہو گا
ترا کتنا بقایا رہ گیا ہے
خوشی محسوس کرنے والی شے تھی
پرندوں کو اڑا کر کیا ملا ہے

مجھے سپاہ کا سالار چن لیا اس نے
میں بادشہ سے ترا ہاتھ مانگنے لگا تھا
کچھ اس طرح کی بلاؤں نے بال کھولے تھے
مجھ ایسا شخص بھی تعویذ باندھنے لگا تھا
پھر ایک بات چچا جان نے بتائی مجھے
میں اپنے باپ کی تلوار بیچنے لگا تھا
کسی نے اس کو بتایا کہ میں مصور ہوں
وگرنہ وہ تو مرے ہاتھ کاٹنے لگا تھا

میں اور ہجر کے صدمے نہیں اٹھا سکتا
وہ اب جہاں بھی ملا ہاتھ جوڑ لوں گا میں

وہ اکیلا ہی چل دیا اٹھ کر
میں نے دو چار کا سہارا لیا

Zia Mazkoor

یہ سرحدیں تو ابھی کل بنی ہیں میرے دوست
ہزاروں سال اکٹھے رہے ہیں ہم دونوں
تم ایسی بات کسی کو نہیں بتاؤ گی
مجھے لگا تھا بڑے ہو چکے ہیں ہم دونوں

Zia Mazkoor Beautiful lyrics

گھٹن بھی گھٹتی کھڑکی کھولنے سے
تماشے کا تماشہ دیکھ لیتے
ذرا پہلے جنم لیتے تو ہم بھی
چراغوں کا زمانہ دیکھ لیتے

وہ کوئی قافلہ ہوتا تو میں سمجھتا بھی
اب ایک شخص بھی روکا نہیں گیا تم سے

آپ کا کام.ہو گیا صاحب
لاش دریا میں پھینک دی میں نے
ایک وہ بے حجاب اور اس پر
ڈال رکھی تھی روشنی میں نے

وہ خود پرندوں کا دانہ لینے گیا ہوا ہے
اور اس کے بیٹے شکار کرنے گئے ہوئے ہیں
کرا تو لوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر
مگر جو اس نے دلوں پہ قبضے کیے ہوئے ہیں

Zia Mazkoor

اس جگہ جا کے کیا کرو گی تم
تم سے پہلے ہی روشنی ہے جہاں
اس نے باندھا ہے ایسے پلو سے
ایک دھاگہ بھی ہتھکڑی ہے جہاں

Zia Mazkoor Beautiful lyrics

تم اس کے سامنے کیسے بھی بیٹھ سکتی ہو
یہ میرا دوست ہے اور اتنا محترم نہیں ہے
ادھار مانگ کے شرمندہ کر دیا اس نے
وگرنہ یہ کوئی اتنی بڑی رقم نہیں ہے

اتنے اونچے رتبے والا
سیڑھیاں کیسے اترا ہو گا

موت نے عورت کے سر کا سائیں بدلا
سوٹ کس کا تھا مگر پہنا کسی نے

ترے اس گاؤں میں آنے سے پہلے
ہمارے آستانے چل رہے تھے
ہدف تو اور ہی کوئی تھا میرا
پرندے مفت میں مارے گئے تھے

Zia Mazkoor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *