Zahoor Ul Islam Javeed Jashan

      No Comments on Zahoor Ul Islam Javeed Jashan
Zahoor Ul Islam Javeed Jashan

جشنِ ظہور السلام جاوید صاحب

رپورٹ و تصاویر: مسرت عباس ندرالوی

اے زندگی مجھے سارے جواب آتے ہیں
ہوں منتظر ترا اگلا سوال کیا ہو گا

دوبئی جمعرات 9 فروری کو بزمِ اردو نے امارات میں مقیم مشہور و معروف شاعر ظہور السلام جاوید صاحب کی سترھویں سالگرہ کے موقع پر ایک شام ظہورالسلام جاوید کے نام کے عنوان کے تحت کل امارات مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں ظہورالسلام جاوید صاحب کی اردو ادب کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مشاعرے میں بزمِ اردو کے ساتھ ذیلی تنظیم انوارِ اردو نے بھی تعاون کیا۔

مشاعرے میں امارات بھرسے شعرا اور ادب کی دلداہ شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔ بزمِ اردو پچھلے چارسال سے امارات میں اردو کی ترویج کے لیے کوشاں ہے اورمشاعروں کے ساتھ ساتھ بچوں میں اردو کے فروغ کے کام میں پیش پیش ہے۔ مشاعرے کی صدارت صاحبِ شام جناب ظہورالسلام جاوید صاحب نے کی اورعربی، اردو کے مشہورشاعر ڈاکٹر زبیر فاروق مہمانِ خصوصی تھے جب کہ بزم اردو کے صدر محترم شکیل خاں اور ہر دل عزیز رکن ندیم احمد صاحب بھی سٹیج پرتشریف فرما تھے۔

Zahoor Ul Islam Javeed Jashan

جشن کے اولین حصے کی نظامت انوارِ ادب کے احیاء السلام نے کی جس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قران پاک سے کیا گیا جسکی سعادت اقرا فضیلت نے حاصل کی بعد از تلاوت مشہور نعت خوان شاعر جناب آفتاب عالم نے اپنا نعتیہ کلام خوبصورت اور مترنم آواز میں پیش کیا۔ ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے ظہورالسلام جاوید صاحب کی زندگی اورادب کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی بہت ساری یاداشت حاضرین کے گوش گزار کی اور انکی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ذکر کیا کے عرصہ دراز سے ابوظہبی میں رہنے کے باوجود وہ خود ظہورالسلام جاوید کے لیے جشن کا اہتمام نہ کر سکے۔

جس کا انہیں بہت افسوس اور شرمندگی ہے لیکن ساتھ ساتھ اس بات کی خوشی بھی ہے کہ بزمِ اردو کے نوجوانوں نے ان کی خدمات کو سراہنے کا اتنا خوبصورت اہتمام کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ظہور السلام جاوید صاحب کے بہت سارے خوبصورت اشعار بھی سنائے اور ان کا پسِ منظر بھی بیان کیا۔ دیگر مقررین میں بزمِ اردو کے صدر محترم شکیل خان صاحب، انوارِ اردو کے محترم ریحان خان صاحب، سید آصف سروش صاحب اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر زبیرفاروق صاحب نے بھی ظہورالسلام جاوید صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

بزمِ اردو کی جانب سے صدر محترم شکیل خان صاحب نے اپنے دستِ مبارک سے ظہورالسلام جاوید صاحب کو اعزای شیلڈ پیش کی۔ جبکہ ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب نے منتظمین کی طرف سے ظہورالسلام جاوید صاحب کی سالگرہ کے لیے خصوصی تحفہ آئی فون پیش کیا۔ ظہور السلام جاوید صاحب کی خدمات میں برابر کی شریک ان کی شریکِ حیات محترمہ فہیم جاوید صاحبہ اور ان کے بیٹے منصور انعام کو بھی تحائف سے نوازہ گیا۔

Zahoor Ul Islam Javeed Jashan

مشاعرے میں شریک تمام شعراء کو بزمِ اردو کی جانب سے یادگار لوحِ سپاس صاحبِ شام جناب ظہور السلام جاوید کے دستِ سخن سے پیش کی گئی۔ ایک مختصر سے وقفہ کے بعد محفلِ اردو کے سال 2016 کے کامیاب مشاعرے کی ڈی وی ڈی کا اجرا بھی کیا گیا جسکی کاپیاں تمام مہمانوں کو بھی پیش کی گئیں۔ ڈی وی ڈی کے اجرا پر ریحان خان نے بتایا کہ یہ مشاعرہ بلکل نئے آہنگ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا جس کی پذیرائی ادبی حلقوں میں ابھی تک جاری ہے۔

جشن کے آخری حصے میں مشاعرے کے آغاز کے لیے احیاء السلام نے نظامت کے فرائض مشہور ومعروف شاعر محترم ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کے حوالے کیے جنھہوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں انجام دئیے اور شعراء محفل کو ان کے اشعار کے ساتھ سٹیج پر مدعو کیا۔ شعراء جن میں موسی ملیح آبادی، سلمان خورشید، عائشہ جنتی، مسرت عباس ندرالوی، الفت شاداب، احیاء السلام بھوجپوری، ندیم احمد ذیست، سید آصف سروش، تابش زیدی، سرور نیپالی، جاوید صدیقی، سلمان خان، فرہاد جبریل، آصف رشید اسجد، ڈاکٹر ثروت زہرا، یعقوب عنقا، ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر زبیر فاروق شامل تھے۔

اپنے اپنے خوبصورت انداز میں کلام پیش کیا جس کو حاضرینِ محفل نے خوب سراہا اور داد و تحسین سے نوازا۔ آخر میں صاحبِ شام ظہورالسلام جاوید صاحب نے اپنے ابوظہبی میں قیام اوراردو ادب کے سفر پرنہ صرف سیر حاصل گفتگو کی بلکہ اپنے خوبصورت اشعار بھی پیش کیے اورحاضرین کی فرمائش پراپنی کئی پرانی اور شہرۂ آفاق غزلیں بھی سنائیں۔ ظہور السلام جاوید صاحب کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ نہ صرف انھوں نے 1981 میں ابوظہبی کے پہلے عالمی مشاعرے سے لے کر آج تک کے امارات کے سارے مشاعروں میں شرکت کی ہے۔ بلکہ پچھلے بارہ سالوں سے مسلسل عالمی مشاعرہ منعقد بھی کروا رہے ہیں جس میں دنیا بھر سے اردو کے مشہور شعرا شرکت کرتے ہیں۔

Zahoor Ul Islam Javeed Jashan

ظہورالسلام جاوید صاحب نے بزمِ اردو اوردیگر منظمین، تما م شعراء اور حاضرینِ محفل کا شکریہ ادا کیا۔مشاعرے کے اختتام پربزمِ اردو کی جانب سے تمام شرکاء کی تواضع سپیشل بریانی سے کی گئی۔ تمام شعراء اور شرکاء محفل نے بزمِ اردو اور انوارِادب کے اراکین اور خاص طور پر شاداب الفت صاحب کی انتھک محنت اور کوششوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کامیاب جشن پر مبارک باد بھی دی۔

ظہور السلام جاوید صاحب کے کلام سے کچھ منتخب اشعار حاضرِ خدمت ہیں۔

کتنا آسان مدینے جانا ہے
کتنا مشکل وہاں سے آنا ہے

ہمیں معلوم ہے اس سے محبت کیسے کرنی ہے
کہاں پر بھول جانا ہے کہاں پر یاد رکھنا ہے

دل کو آباد کیوں نہیں کرتے
مجھے تم یاد کیوں نہیں کرتے
جس سے فریاد تم کو کرنی تھی
اس سے فریاد کیوں نہیں کرتے

whatsapp-image-2017-02-16-at-1-50-36-pm

انا پرست تھا لیکن امیرِ شہر کے پاس
میں اس کو دیکھ رہا تھا کمان ہوتے ہوئے

چپ نہیں رہتے جذبات میں آ جاتے ہیں
ایک جھٹکا لگے اوقات میں آ جاتے ہیں
کم نسب لوگ ہیں جب کچھ نہیں بنتا ان سے
اور تو کچھ نہیں سادات میں آ جاتے ہیں

اس طرح ضبط کا معیار سنبھالے ہوئے ہیں
ہم تری تلخیِ گفتار سنبھالے ہوئے ہیں
دل سنبھالا ہے تری یاد میں ایسے ہم نے
جیسے گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
کوفہء شعر و سخن ہے یہاں بیعت کیسی
آج بھی ہم وہی انکار سنبھالے ہوئے ہیں

زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گے
دوستوں ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے
میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہنچی
غور سے دیکھا تو وہ پاوں کے چھالے نکلے

سروں کی فصل کٹنے کا یہ موسم تو نہیں لیکن
سروں کی فصل کٹنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *