Women’s Day Poetry In Urdu

      No Comments on Women’s Day Poetry In Urdu
shehzad nayyar Women's Day

عالمی یومِ خواتین کے حوالے چند شعراء کرام کا کلام  پیش خدمت ہے۔

ورکنگ وومن

دو نازک سے کاندھوں پر تم
کتنا بوجھ اُٹھاتی ھو
گھر کی چھت کا
کمر توڑ مہنگائی، بھاری ٹیکسوں کا
دفتر کی ذمہ داری کا
تیز کسیلی باتوں، میلی نظروں کا
انگ انگ پر چلتی پھرتی آنکھوں کا
گلی میں بیٹھے وزنی فقروں
آنے والی، کل کی بوجھل فکروں کا
کتنے بھاری پتھر ھیں

بیتی یادوں
نئی مُحبّت کے وعدوں کا
گھنی گھنیری زلفوں کا!
دو ننھے سے کاندھوں پر تم اتنا بوجھ اُٹھاتی ھو
صِنفِ نازک کہلاتی ھو!
شہزاد نیر

Women’s Day Shayari In Urdu

shehzad nayyar Women's Day

میں عورت ذات ہوں

دیکهو
ہوں کہنے کو بہت حساس
میں اپنی خود اکیلی آس
مگر کب ہوں میں اپنے پاس
محبت ہوں،شرافت ہوں
صداقت ہوں، امانت ہوں
میں عورت ذات ہوں دیکهو
میں بابا کی پری بهی ہوں
لہکتی سی کلی بهی ہوں
زمانے سے سنا ہے یہ
کہ تم تو صنف نازک ہو
میں کہنہ مشق ہوں لیکن
کہ سہنا مجهہ کو آتا ہے
سنو! میں عافیہ بهی ہوں
مرے سب دکهہ مرے سب رنج
اشکوں میں برستے ہیں
کسی کو کچھ نہیں کہتے
میں یوں تو محترم بهی ہوں
نظر کے وار سہتی ہوں
کسی سے کب میں کہتی ہوں
زمانے دیکهہ لے پهر بهی
بهلی ہوں یا بری ہوں میں
تری رگ رگ میں بہتی ہوں
سنا ہے عالمی دن ہے
میں “مستورات” کے اس عالمی دن کو
منانا چاہتی تو ہوں
مگر پهر یاد آتا ہے
کہ کیسا دن، کہاں کا دن
کہ میں تو عافیہ بهی ہوں
ہاں میں تو عافیہ بهی ہوں

اروی سجل

Women’s Day Poetry In Urdu

shehzad nayyar Women's Day

تم نے مجھ کو جنم دیا

اور ماں کہلائیں
سینے سے لگ کر جب تم نے ” بابا” بولا
تم بیٹی تھیں
میں ٹوٹا تو تم نے مجھ کو گلے لگایا
دل کہلائیں
راکھی اور چادر نے مجھ کو رشتوں کی تہذیب سکھائی
میں پتھر تھا
تم کونپل کے جیسے میرے اندر پھوٹیں
اور آدم نے شبد لکھا تھا
جیون کے سارے رشتوں میں تم بہتر ہو
وہ جو تم کو ” آدھا بہتر” کہتے ہیں
وہ خود آدھے ہیں
تم پوری ہو !
پوری عورت
اپنے پورے پن میں کوئی شک مت کرنا !
جتنے دن ہیں
سارے دن عورت کے دن ہیں
جتنے دل ہیں
سارے دل عورت کے دل ہیں
جب تک دن ہیں
جب تک دل ہیں
تم پوری ہی کہلاو گی
تم جیون کو مہکاو گی !

علی زریون

Women’s Day Shayari In Urdu

shehzad nayyar Women's Day

اکسویں صدی کے شاہ دولے کے چُوہے

مجھے الزام دیتے ہیں
وہ میرے نام دھرتے ہیں
وہ مجھ سے سخت نالاں ہیں
وہ کہتے ہیں
میں اک گُستاخ عورت ہوں
میں باغی ہوں
میں اُن ساری حدوں کو توڑنے کی بات کرتی ہوں
جو صدیوں کی مسلسل محنتوں سے
مرد نے
مذہب
سیاست
اور کلچر کے مُرکب سے تراشی ہیں
وہ اکسویں صدی کی
آج کی عورت کو
اُس پنجرے میں بند کرنے کو ہر بازی لگاتے ہیں
جو صدیوں جبر سہہ کے
اُس نے اپنے علم کی طاقت سے توڑا ہے
وہ خُود چاہے
کسی عورت کی چھاتی
اُس کی آنکھوں
اور بالوں پہ غزل لکھیں
کمر کے خم پہ مر جائیں
حنائی اُنگلیئوں کے لمس کو
ترسی نظر سے دیکھنا اپنا دھرم سمجھیں
وہ اُس کی چال پہ
تیکھی نظر پہ قتل کر ڈالیں
مگر عورت کو یہ حق ہی نہیں کہ وہ
کبھی اُن چھاتیوں کی
جن سے اپنی نسل کو سیراب کرتی ہے
مُقدس کوکھ کی
جس سے وہ اُن کے نام کو آگے بڑھاتی ہے
ماہانہ وقت کی
جو اُس کی زرخیزی میں اپنا کام کرتا ہے
کوئی اک بات بھی کر دے
میں عورت ہو کے
عورت ذات کے مسئلوں پہ کوئی بات کر دوں تو
مجھے بے شرم کہتے ہیں
ارے ایسی کی تیسی اس مُنافق سوچ کی
اور ایسے سسٹم کی
بڑے آئے کہیں سے
ہونہہ
ثمینہ تبسُم

Women’s Day

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *