Wasi Shah Beautiful Poetry

      No Comments on Wasi Shah Beautiful Poetry
Wasi Shah Beautiful Poetry

آنکھوں سے مری اِس لیے لالی نہیں جاتی

آنکھوں سے مری اِس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اِس دِل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مانگے تُو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے کوئی آکر یہ ترے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی

Wasi Shah Beautiful Poetry

معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصے
پر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
ہمراہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اَب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی

Wasi Shah Poetry In Urdu

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

Wasi Shah Beautiful Poetry

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں
تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں
خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں
کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں
تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا ہے اپنا
کسی کا خط ہو اُسے بھی سنبھال رکھتے ہیں
خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں
زمانے بھر سے بچا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں
کچھ اس لیے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں

Wasi Shah Romantic Ghazal

Wasi Shah Beautiful Poetry

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اَشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے
ترے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے
بجا کے خار ہیں لیکن بہار کی رُت میں
یہ طے ہے اَب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے
تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے
تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے
ہماری رُوح پہ جب بھی عذاب اُتریں گے
تمہاری یاد کو اِس دِل کی ڈھال ہونا ہے
کبھی تو روئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں
کبھی تو اُس کی ہنسی کو زوال ہونا ہے
ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں
بس اِ نتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے
ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر
محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے
زمانہ جس کے خم و بیچ میں الجھ جائے گا
ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے
وصیؔ یقین ہے مُجھ کو وہ لوٹ آئے گا
اُسے بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے

Wasi Shah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *