Walid Mohtaram Ki Dard Bhari Baat By Shoiab Sadiq

Walid Mohtaram Ki Dard Bhari Baat By Shoiab Sadiq

والد محترم کی درد بھری بات

ازقلم: شعیب صادق

آج اباجی کی طبیعت ناسازگار تھی تو نماز مغرب ادا کرنے کے بعد چارپائی پر لیٹ گئے۔ طبیعت میں بوجھ محسوس کر رہے تھے۔ تو مجھ سے فرمانے لگے۔ کہ قریب ہو جاو میری پنڈلیاں دباؤ۔ میں نے تھوڑا سا آگے بڑھ کرمٹھی بھرنا شروع کر دی۔ تو ابا جان کی اشکبار آنکھوں کو دیکھ کر میں نے عرض کیا… اباجی کیا ہوا ؟

تو بڑی دکھ بھری آہ لیکر فرمانے لگے ۔۔۔۔۔ کہ ساری جوانی ضائع کردی ••• افففف

Walid Mohtaram Ki Dard Bhari Baat By Shoiab Sadiq

اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ابا جان نے ساری زندگی نماز نہیں چھوڑی اوراکثر فرمایا کرتے ہیں کہ میں نے میٹرک سے پہلے ہی نماز شروع کر دی تھی۔۔۔۔ اورمیٹرک 1956 میں گجرات سے کیا تھا۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ وقتاََ فوقتاً تہجد کی نماز کا بھی اہتمام فرماتے رہتے ہیں۔۔ اور الحمدللہ شروع سے علماء کرام کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔

اور مشائخ عظام کی صحبت کو پسند فرمایا ۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود کہہ رہے ہیں۔۔۔ کہ میں نے ساری جوانی ضائع کر دی ہے۔۔۔۔ ۔اس وقت الحمدلله ابا جان کی عمر 81 برس ہونے کو ہے مجھ پراس بات کا کیا اثر ہوا اور یہ تحریر کیوں لکھی

میرے محترم بھائیو۔۔۔۔۔

Walid Mohtaram Ki Dard Bhari Baat By Shoiab Sadiq

وقت کی قدر کرو اور خصوصاً اپنی جوانی کو قیمتی بناو۔۔۔ ضائع مت کریں۔۔۔ ہرانسان کو آخری عمر میں ایسا ہی پچھتاوا ہوتا ہے۔۔۔۔ کہ ہائے کاش کاش کچھ کر لیتا۔ ہمیں چاہئے کہ اس پچھتاوے سے بچنے کے لئے اپنی جوانی کو ضائع مت کریں۔

جیسے عربی زبان:- کا مقولہ ہے
ليت الشباب يعود يوماً کاش ایک دن کے لئے جوانی لوٹ آئے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ پر جوانی لوٹتی ہے نہ زندگی لوٹتی ہے

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ذات ہمیں صحیح سمجھ اور فہم عطاء کریں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *