وجیہ نظامی کی ایک خوصورت غزل

%d9%88%d8%ac%db%8c%db%81-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c

وجیہ نظامی کی ایک خوصورت غزل

دِل کو دِل کا پتہ نہیں ہوتا.

.. دھڑکنوں کا خُدا نہیں ہوتا..

. جس طرح تُم نے توڑ پھینکا ہے

ایسے کوئی جُدا نہیں ہوتا.

.. تُو مجھے چھوڑ کر چلا جا

یار مجھ سے تو بے رِدا نہیں ہوتا..

. دِل نے چاہا تھا تُو ہی میرا ہو

دِل کا چاہا سدا نہیں ہوتا..

اس غزل کی وڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

. سانس تیرے بغیر لیتا ہوں

.. کیا یہی معجزہ نہیں ہوتا….؟؟؟

چِیختا ہوں میں طاق راتوں میں .

.. کوئی پھر آسرا نہیں ہوتا.

.. جس نے سمجھا نہ ہو چراغ کا دُکھ.

.. وارثِ کربلا نہیں ہوتا..

.. (وجیہ نظامی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *