اردو انٹرنیشنل کینیڈا کے زیراہتمام ادبی تقریب کا انعقاد

img-20190824-wa0008

برامپٹن، کینیڈا (نمائندہ خصوصی) اردو انٹرنیشنل کی جانب سے ایک عالیشان ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی گراں قدر ادبی شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ اس تقریب میں اردو بستی کینیڈا کی نمایاں شخصیات سمیت کئی ادبی ستارے جگمگا رہے تھے۔ پروگرام کی نظامت اردو انٹرنیشل کے روحِ رواں اشفاق حسین صاحب نے کی۔ حسبِ روایت اردو انٹرنیشل کی اس تقریب کا آغاز بھی ٹھیک شام 6:30 بجے مہمانوں کے اعزاز میں عشائیے سے ہوا اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئےرات ۱۰ بجے یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

img-20190824-wa0007

پروگرام کا پہلا حصہ پاکستان سے تشریف لائے مایہ ناز آرٹسٹ طلعت حسین سے گفتگو پر مشتمل رہا۔ کینیڈا کی نامی گرامی ادبی شخصیات شہناز شورو، عرفان ستار اور اشفاق حسین پر مشتمل ایک پینل طلعت حسین سے ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر ان سے بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران یہ جان کر خوشی ہوئی کہ طلعت حسین ایک گہری اور سنجیدہ ادبی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے اداکاری کی باقاعدہ تعلیم و تربیت انگلینڈ سے حاصل کی ۔ انہوں نے بھی بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی ڈرامہ مکمل اسکرپٹ پڑھے بغیر نہیں کیا اور جس سے مطمئن نہیں ہوئے اس کے لئے ہمیشہ انکار کیا۔ ان کے پاس کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

img-20190824-wa0005

اس کے بعد پروگرام اپنے اپنے دوسرے حصے میں داخل ہوا جس میں اسلام آباد پاکستان سے تشریف لائے مشہور افسانہ نویس ڈاکٹر مجید امجد صاحب نے اپنا افسانہ اپنی زبانی سنایا۔ تقریب میں موجود تمام مہمان انتہائی انہماک سے انہیں سنتے رہے اور افسانے کو بہت سراہا گیا۔

تقریب کے تیسرے اور آخری حصے میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ مسند صدارت پر جناب فرحت احسا س کو بٹھایا گیا۔مہمان شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ سب سے پہلے ڈاکٹر حنا امبرین طارق کو، جو خاص طور پر ونڈزر سے تشریف لائیں تھیں، دعوت سخن دی گئی ۔ انہوں اپنا کلام پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی ۔

تارے مری زمین پہ جو سارے اتار دے
میں اس کے سنگ سنگ اڑوں آسمان پر

حالانکہ اونچ نیچ  سے واقف نہیں مگر
ہم کر رہے غرور  ہیں  اردو زبان پر

ان کے بعد ہوسٹن سے تشریف لائی تسنیم عابدی صاحبہ کو دعوت کلام دی گئی ۔ تسنیم عابدی صاحبہ نے بھی اپنے اشعار پیش کئیے اور سامعین نے انہیں سے بہت سی داد سے نوازا۔ ان کے دو اشعار یوں ہیں،

وہ تبسم بھرے لب اور وہ چشم پرنم
بات کچھ اور ہے کچھ اور بتائی گئی ہے

شہرِ آشوب میں کردار نئے ہیں لیکن
یہ کہانی ہمیں پہلے بھی سنائی گئی ہے

آخر میں دہلی سے تشریف لائے ریختہ کے روح رواں جناب فرحت احساس کو بحیثیت صدر محفل مدعو کیا گیا، انہوں نے بھی اپنے کلام سے محفل میں خوب سماں باندھا اور اپنے بہترین اشعار عطا کیے۔

زیادہ کون ہے دونوں میں، میرا خواب کہ میں
تو شایہ کون ہوا ہے مری کتاب کہ میں

مری بلا سے کھلے بابِ عشق یا نہ کھلے
یہاں ہمیشہ رہے گا یہی جواب کہ میں

اس طرح قریب رات دس بجے یہ رنگارنگ ادبی کہکشاں اپنے اختتام کو پہنچی۔

img-20190824-wa0009

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *