امیر مینائی کے ضرب المثل اشعار

امیر مینائی کے ضرب المثل اشعار

امیر مینائی کے ضرب المثل اشعار

انتخاب: مہر خان

آھوں سے سوزِ عشق مٹایا نہ جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

اچھے عیسیٰ ھو مریضوں کا خیال اچھا ھے
ھم مرے جاتے ھیں تم کہتے ھو حال اچھا ھے

امیر اب ھچکیاں آ نے لگی ھیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ھوں

گاھے گاھے کی ملاقات ھی اچھی ھے امیر
قدر کھو دیتا ھے ھر روز کا آنا جانا

ھوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

Urdu Zarb ul Misal Ashaar

امیر مینائی کے ضرب المثل اشعار

کون سئ جا ھے جہاں جلوہ معشوق نہیں
شوق دیدار اگر ھے تو نظر پیدا کر

لطف آنے لگا جفاؤں میں
وہ کہیں مہرباں نہ ھو جائے

قریب ھے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رھے گی زبانِ خنجر ، لہو پکارے گا آستین کا

شاعر کو مست کرتی ھے تعریفِ شعر امیر
سو بوتلوں کا نشہ ھے اس واہ واہ میں

تیر کھانے کی ھوس ھے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ھے تو سر پیدا کر

تیر پہ تیر لگاؤ تمہین ڈر کس کا ھے
سینہ کس کا ھے مری جان جگر کس کا ھے

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالون سے یہی ایک سوال اچھا ھے

تجھ کو آتا ھے پیار پر غصہ
مجھ کو غصے پہ پیار آتا ھے

وصل ھو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ھے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ھے

وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے

زیست کا اعتبار کیا ھے امیر
آدمی بلبلہ ھے پانی کا

zarb ul misal ashaar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *