(فرزانہ خان نیناں کی گفتگو (قسط اول

farzana-khan-naina-uk

بہت کم ادیب و شاعر ایسے ہوتے ہیں جن سے ایک بار مل لیں تو بار بار ملاقات کو دل کرتا ہے کیونکہ ان کی شخصیت ہی اتنی پیاری اور دلکش ہوتی ہے کو جو ملنے والے پر سحر کی کیفیت طاری کر دیتی ہے ۔

(Farzana Khan Naina Uk )

فرزانہ خان نیناںؔ یو ں برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن دبئی اب ان کا دوسرا مسکن لگتا ہے ۔ میری ان سے پہلی ملاقات تو انٹرنیٹ پر ہوئی جب ان کا

Farzana Khan Niana - Uk

Farzana Khan Niana

بہت سا کلام پڑھنے کو ملا بعدازاں فیس بک نے رابطوں کو اتنا آسان کر دیا ہے جو کبھی تصور میں بھی نہیں تھا ۔ کچھ برس قبل جب وہ یو ۔کے پاکستان جا رہی تھیں تو میری خواہش پر انہوں نے دبئی میں چند روز قیام کیا ان کے اعزا میں منعقدہ پروگرام یو اے ای کی تاریخ کے یادگار پروگراموں میں ہوتا ہے جس کا اہتمام راقم نے ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب کے مشورے سے پاکستان ایسوسی دبئی کے ھال میں کیا۔  اس پروگرام کے بعد

فرزانہ خان نیناں ابوظہبی چلی گئیں . لیکن ان سے ایک ایسا تعلق استوا ر ہوا جو ابھی تک قائم ہے اور دعا ہے کہ جس محبت سے انہوں نے مجھے اپنا چھوٹا بھائی بنایا اللہ کرئے یہ رشتہ تاحیات برقرار رہے ۔آمین آپی فرزانہ نیناں ؔ جس قدر اچھی شاعرہ ہیں اس سے بہت زیادہ اچھی انسان بھی ہیں اس کا اندازہ آپ ان کے انٹرویو کو پڑھ کر باآسانی لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ سلیمان جاذبؔ
There are a very small number of writers when you meet those ones and have a wish to meet them again, because their personality is so impressive and magnificent that captures you into their magic.  Therefore Farzana Khan Nainaa’ lives in UK but it looks as her country is Dubai.
My first meeting with her was through internet but later facebook made it easier to contact with anyone. Some years before, when she is going to Pakistan from UK on my wish she stays in Dubai for some days. There organized a program in her honor which is memorable program, this program is organized by Raaqim on the suggestion of Dr. Sabahat Aasim Wasti, performed in Pakistan association Dubai Hall.
After this Program Farzana Khan Nainaa went to Abu Dahbi but a relation which is started with her is remains till now and such a love with she makes me her brother I pray this relation remain till end. Aameen.
Api Farzana Khan Nainaa is such a good poetess but more than that a good human being, you’ll come to know when you read her this interview… (Suleman Jazib)

سوال :۔ آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا؟

جواب :۔ (Farzana Khan Niana – Uk )

بسا اوقات انسان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو الفاظ کا پیرہن دیا جائے تو وہ الف لیلوی داستان کا روپ اختیار کرلیں گی ، اس میں تلخ و شیریں دونوں ذائقے ہوتے ہیں، میں جب برطانیہ آئی تو وطن کے حوالے سے وہاں کی ہر شئے اور ہر رشتے کے بارے میں یوں محسوس ہوا کہ جیسے کسی طلسم کدے نے انہیں میری دسترس سے چھین لیا ہو، یوں ایک تصوراتی دنیا آباد ہوگئی، انہی مناظر، کرداروں اور ان سے منسلک جذبات نے شاعری کی صورت کاغذ پر اترناشروع کردیا ،اس دور نے میری ذات پر عجب خوابناک سا تاثر چھوڑا ،جب میری ذات اس کیفیت میں ڈوبی تو شعر و نظم تخلیق ہونے لگے۔
سوال :۔ گویا پردیس نے آپ کی شاعری کو جنم دیا ؟
جواب :۔ (Farzana Khan Niana – Uk )

جی بالکل، وطن سے دوری نے میری زندگی تبدیل کردی ، زندگی کے بارے میں ہر انسان کے اپنے تصورات ہوتے ہیں، اپنے خواب و خیال کے جزیرے ہوتے ہیں ایک اپنی کہانی ہوتی ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ ان خوابوں خیالوں کے سمندر میں پرسکون لہروں کے ساتھ رواں دواں ہوتا ہے یا چیختی چنگھاڑتی لہروں میں ڈوبتا ابھرتا رہتا ہے،کہانی کو فقط سیاہ و سفید رنگ بخشتا ہے یا دھنک کے ساتوں رنگ بھرنا چاہتا ہے،کسی کی کہانی چہرے پر لکھی ہوتی ہے تو کوئی دل کی پاتال میں چھپا دیتا ہے،کوئی برس کر سناتا ہے تو کوئی مور سا رقصاں ہوکر،بہرالحال یہ ہماری فطرت ہے کہ دوسرے کی کہانی کو بڑی دلچسپی سے سنتے سناتے حاشیے بھی چڑھا دیتے ہیں

سو میرے شعور اور لاشعور نے تخلیق کی جانب مائل کیا کہ اچھوتی تشبیہیں دوں ، انوکھے خیال اور ترشے ہوئے الفاظ استعمال کروں،سحر انگیز ماحول کو قید کرلوں،جذبات اور الفاظ تو پانی کے چشمے کی مانند ہوتے ہیں کہ شفاف سے بہتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کو مٹھی میں بند کر لینا بڑا کٹھن ہوتا ہے، میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے چند ایک اچھے لوگ ملے جنہوں نے بنا کسی غرض و غایت انھوں نے خود بخود رہنمائی کی

Farzana Khan Niana - Uk

سلیمان جاذب ، مختار عاقل اور فرزانہ نیناں ۔

اورمیں اپنے کسی ایسے محسن کو کبھی نہیں بھولی جس نے مجھے کچھ سکھایا۔
سوال :۔ اپنے حالاتِ زندگی پر کچھ روشنی ڈالیئے؟
جواب :۔ (Farzana Khan Niana – Uk )

والدین چونکہ بہت ہی نوعمری میں داغِ مفارقت دے گئے سو ان کے بارے میں یادوں کی گلیاں کافی سونی سی ہیں،البتہ دادی اور بڑے بھائی کی شفقت و محبت بھری چھاؤں نے احساسِ محرومی کے کسی کانٹے کو اگنے نہیں دیا،میں ان کی لاڈلی بھی بہت تھی،بچپن ہی سے کتابوں کے ساتھ رشتہ رہا،بہن بھائی اور سہیلیاں سبھی کتابوں کے شائق تھے،ہر طرح کے رسائل گھر میں آیا کرتے تھے،لہذا مطالعہ کرتے کرتے بعض اوقات بہت ضروری کام چھوڑ دینے پر خوب ڈانٹ پڑتی ،سفر نامے، طنز و مزاح،افسانوی، مذہبی،دیومالائی،جاسوسی ہر طرح کی کہانیوں سے رغبت تھی
منظر اور موسم مجھ پر ہمیشہ سے بہت اثر چھوڑتے ہیں شاید اسی لیئے میری شاعری میں بھی یہی کچھ غیر ارادی طور پر ابھر آتا ہے، مختلف ممالک کی کہانیوں کے تراجم بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھتی تھی،طالب علمی کا دور کافی سرگرم تھا،ڈرامہ،ڈبیٹ،فیشن شو،ٹیبلواوریونین میں بھی حصہ لیا،نثر لکھ لیا کرتی تھی سوبچوں کے رسالوں میں کبھی کبھار نگارشات بھی شائع ہوئیں مگر اس وقت تک خودشعر نہیں کہا البتہ شاعری سے اس قدر دلچسپی تھی کہ پسندیدہ اشعار سے ڈائریوں کے صفحوں پر صفحے ضرور کالے ہوجاتے تھے ،میرے انکل سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر تھے
ان کی شخصیت میرے لیئے مرعوبیت کا باعث رہی،وہ پاکستان بننے کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی میں ہونے والے اپنے مشاعروں کی تصاویر دکھاتے اور روداد سناتے تو مجھے بھی شمعوں کی جھلملاہٹ نظر آنے لگتی،سارنگ لطیفی بہت خوش لباس شخصیت تھے، لمبی زلفیں،گلے میں بڑی نفاست سے بندھا ہواریشم کا اسکارف اور ان کا انقلابی رنگ میرے لیئے الف لیلوی داستان سے کم نہ تھا،مگر ان کی کتابیں چھونے کی بلکل اجازت نہ تھی، جاسوسی ادب کے حوالے سے پاکستان کی معتبر شخصیت ابن صفی صاحب ہمارے پڑوس میں آتے تھے جب میں ان کے کرداروں پر گہرائی سے گفتگو کرتی تھی تو بڑا خوش ہوتے اور ہر مہینے اپنا پہلا ناول مجھے پڑھنے کے لیئے ضرور دیتے تھے،ان کی صحبت نے ادب سے روشناس ہونے میں بہت مدد دی،پھر میری شادی اچانک ہی طے پائی اور ہوائی جہاز مجھے عقاب کی طرح جھپٹ کر انگلینڈ کی جانب اڑ گیا
وقتی طور پر سات سمندر پار کی کہانیوں والے دیس کو پاکر میں خوش ہوئی لیکن جلد ہی مسلسل بارشوں،چھوٹے چھوٹے اندھیرے دنوں اور سرد راتوں نے احساس دلایا کہ میرے خوابوں کی تتلیاں،آنگن کے چاند تارے ، دور جاتے بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح میری دسترس سے باہر ہوچکے ہیں،انٹر نیٹ معرض وجود نہیں آیا تھا لہذا خط وکتابت ہی ایک ایسا ذریعہ تھا جو کبوتر کی طرح مجھے اپنے پیاروں کی باتیں سناتا،اپنے دیس کی چھوٹی سے چھوٹی بات یاد آتی، اداسی بھرے گیتوں سے دل بہلتا اور یہی وہ وقت تھا کہ جب میرے اندر کی شاعرہ نے اپنا روپ اجاگر کرنا شروع کیا
کوئی قوت مجھے مسلسل اکسانے لگی کہ میں قلم کو اپنی پہچان بنادوں، شوخ وشنگ ،چلبلی سی ظاہری شخصیت کو بھی برقرار رکھا مگر ڈائری نے میرے اندر کی کیفیات کو جذب کرنا شروع کردیا تھا،چھوٹی چھوٹی نظمیں ابھرنے لگیں،فن کی باریکیوں ورموز و اوقاف سے کوئی سروکار نہ تھا ،جذبے خود ہی راہ بناکر چلنے لگے تھے، اس دوران پاکستان آنا جانا ہوتا رہا، مرحوم سارنگ لطیفی اس انکشاف پر بہت حیران
Farzana Khan Niana - Ukاورخوش ہوئے کہ خاندان میں ان کے نقش قدم پر چلنے والا کوئی اور بھی ہے
سوال :۔ *برطانیہ میں اپنی زندگی کے بارے میں آپ کیا کہیں گی ؟
جواب :۔ (Farzana Khan Niana – Uk )
یہاں ازدواجی زندگی کا ایک ایسا دور تھا کہ جہاں بیشتر خواتین اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو پورا کرنے کی خاطر اس طرح کیصلاحیتوں اور مشاغل کو پس پشت ڈال دیتی ہیں تو میں بھی اس جانب سنجیدگی سے دھیان نہ دے سکی ، شادی شدہ زندگی اپنے پورے تقاضوں کے ساتھ حاوی ہوچکی تھی،خیالات تسلسل کے ساتھ آتے رہے اور ذہن کے کسی کونے میں جمع ہوتے رہے،وطن سے دوری کو میں نے بھی اسی شدت سے محسوس کیا کہ جس قدر شدت سے بقیہ لوگ محسوس کرتے ہیں،میں جس شہر سے تعلق رکھتی ہوں وہ دو حوالوں سے بہت مشہور ہے
ایک تو رابن ہڈ اور دوسرا لارڈ بائرن، رابن ہڈ تاریخی حوالے سے سلطانہ ڈاکو والا کردار ہیں ، بائرن ادبی حوالے سے رومانوی شاعری کے ممتاز نام تھے ،جبکہ ان کے دور میں شیلے اور کیٹس بھی انسانی فطرت کا مشاہدہ کررہے تھے،کیٹس متوسط طبقے میں ہوا تھا ،اس کی پیدائش لندن کی تھی خاندانی حالات بچپن میں باپ کی وفات کی وجہ سے انتشار کا شکار رہے اس لیئے اس نے اپنی شاعری میں بھی انسانی قدروں اور رومانس کو بنیاد بنایا،بہرالحال مجھے چونکہ مطالعے کا بہت شوق تھا سو لائبریری سے کتابیں لاکر ان کو بھی پڑھا،رفتہ رفتہ یہاں پر اردو کی کتب اور دوسری زبانو ں کے تراجم بھی دستیاب ہونے لگے سو راتوں کو دیر تک مطالعہ کرتی اور اپنی پیاس بجھاتی
انگلینڈ میں کافی عرصہ تک کسی ادبی ماحول سے شناسائی پیدا نہ ہوئی،جو کچھ سیکھا خود ہی سیکھا،میری ایک اپنی دنیا تھی،گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کی،کبھی کبھار ذہنی پریشر کم کرنے کے لیئے ڈائری سے نظم و نثر میں باتیں ہوجایا کرتی تھیں،گھریلو زندگی میں اپنی حساسیت کو دبانا پڑا لیکن یہ برقرار رہی،یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ عام طور پر بہت لوگوں کے ساتھ ہوا ہے،بہت سی قابلیت رکھنے والی خواتین جن کی علمیت اور تجربہ بھٹی میں تپ کر کندن بنا تھا وہ بھی اس دیارِ غیر میں آکر پتھر کی طرح بے مول پڑی رہیں مگر اس جمود کو کبھی نہ کبھی تو ٹوٹنا تھا
رفتہ رفتہ یہ منجمد برف کچھ پگھلنا شروع ہوئی اور ہماری خواتین نے بھی اپنے اپنے شوق کے مطابق جوہر دکھانے شروع کر دیئے ،میرا بھی کچھ یہی حال ہے،وقت ملتا تو ذہن کے کونوں کھدروں میں جھانک لیا کرتی تھی ، شاعری کو سنجیدگی سے نہیں لیا،آغاز میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھیں جن میں بچپن کی کسی نہ کسی بات یا منظر کو رنگ دے کر سمویا، ان میں سے کئی ریڈیو ایشیا سے گیتوں بھری کہانی کے طور پر پیش ہوچکی ہیں پہلی نظم بھی ایک کہانی کی طرح لکھی تھی۔
جاری ہے……………….

1 comment on “(فرزانہ خان نیناں کی گفتگو (قسط اول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *