Urdu Inshaiya Enzo Professor Jameel Azer

      No Comments on Urdu Inshaiya Enzo Professor Jameel Azer
Urdu Inshaiya Enzo
بعض لوگوں کو کُتے بِلیّاں پالنے کا جنون کی حد تک ہوتا ہے۔ مجھے اس قسم کے جانوروں کا پالنا تو دور کی بات ہے دیکھنا تک گوارا نہیں۔ میری رہائش گاہ کے قریب ایک نوجوان نے چار پانچ کُتے پال رکھے ہیں ۔ یہ سب ولایتی ہیں اور خوبصورت بھی۔ صبح سویرے جب عبادت گزار مسجدوں کا رخ کرتے ہیں، یہ ان کے گلے میں چمڑے کے پٹے ڈال کر ان کو قابو کر کے سیر کو نکلتا ہے۔
میں یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ اس شخص کو کتوں سے اتنی محبت ہے کہ دسمبر کی شدید سرد ہوا میں علی الصبح انہیں سیر کرانے کیلئے باہر نکلا ہوا ہے۔ محلے کے تمام لوگ ان جانوروں سے تنگ آ گئے ہیں۔ یہ کم بخت اپنے آقا کو خوش کرنےاور اپنی وفاداری کا دم بھرنےکیلئےصبح شام وقت بے وقت بھونکنے کا راگ الا پتے رہتے ہیں۔ ہمسائے کا سکون برباد ہوا ان کابلا سے۔ ان کا کام تو صرف بھونکنا اور مالک کے سامنے دم ہلانا اور پاؤں کو نمسکار کرنا ہے۔
Urdu Inshaiya Enzo
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مجھے تمام جانور نا پسند ہیں۔ گھوڑا، گائے، بیل وغیرہ حیوانات مجھے پسند ہیں۔ لیکن پالتو جانوروں میں سے جسے میں پسند کرتا ہوں وہ طوطا ہے۔ دیسی نسل کے طوطوں سے لے کر ولایتی طوطے مجھے مرغوب ہیں۔ طوطے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ خوبصورت ہونے کے علاوہ کچھ دانش کی شُد بُد بھی رکھتا ہے۔ مثلاً سڑک کے کنارے ایک شخص اپنے بزرگ طوطے کے ساتھ کچھ کارڈ لیے ہوئے بیٹھا ہوتا ہے جو اس کے سامنے پڑے ہوتے ہیں۔
ان کارڈوں پر قسمت کے حال لکھے ہوتے ہیں۔ یہ ترتیب وار الٹے رکھے ہوتے ہیں۔ بعض مفلوک الحال لوگ اپنے مستقبل کا حال معلوم کرنے کیلئے اس طوطے سے فال نکلواتے ہیں۔ اور طوطا نہایت مہارت سے ان پتوں میں سے ایک پتہ اپنی چونچ سے پکڑ کر باہر نکالتا ہے اور اپنے مالک کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔مفلوک الحال شخص اپنے اچھے مستقبل کی نوید سن کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ قسمت کا حال بتانے کی یہ صفت کسی اور جانور یا پرندے میں نہیں۔
Urdu Inshaiya Enzo
طوطے میں ایک اور صفت بھی یہ ہے کہ اپنے مالک کی زبان سمجھتا ہے اور اس کی زبان میں بولتا بھی ہے۔ مجھے زبان کے حوالے سے ایک طوطے کی کہانی یاد آگئی۔ ایک پنساری نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ طوطا بھی نک چڑھا تھا۔ اس کے ساتھ گفتگو اور سلام دعا کرتا تھا۔ گاہکوں کا استقبال خندہ پیشانی سے کرتا۔ اتفاق سے ایک روز اس سے بے خبری میں روغن بادام کی بوتل گر گئی۔ مالک نے اس نقصان پرطیش میں آ کر اس کے سر پر جوتے سے ٹھکائی کر دی۔ طوطے کو اس کا اتنا غم ہواکہ اس نے بولنا چھوڑ دیا اور اسے چپ لگ گئی۔
مالک کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ اس نے طوطے کو بولنے کی طرف راغب کیا۔ مگر وہ بولنے کا نام تک نہ لیتا۔ ایک روز ایک گاہک آیا۔ اتفاق سے وہ گنجا تھا۔ اسے دیکھ کر طوطا بول اٹھا۔ ’’ کیا تم نے بھی اپنے مالک کی روغن بادام کی بوتل گرائی تھی؟ طوطا خوددار ہے ۔ اپنی عزت نفس کا بڑا خیال رکھتا ہے ۔ اس معاملے میں وہ اپنے مالک کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ طوطا چشم کا اسی لیے زبان زدِ خاص و عام ہے۔
Urdu Inshaiya Enzo
اسے اتفاق کہیے یا تقدیر۔ لکھی کو کون ٹالے۔ میر ی چھوٹی پوتی کو اس کی بڑی بہن نے ایک ولایتی بلا تحفتاً دیا ۔ حالانکہ وہ آرکیٹیکچر کی سینیئر سٹوڈنٹ ہے مگر یہ بلے کو پاکر بہت خوش ہوئی۔ یہ ایک دو ماہ کا ننھا منا سا بلا ہے نہایت خوبصورت، بھورے رنگ کا۔ اس کے آنے سے گھر میں سب خوش ہیں۔ مگر اس کی موجودگی سے میں پریشان ہوں کیونکہ کتے بلیاں مجھے ہر گز گوارہ نہیں۔ مجھے ان سے کراہت آتی ہے۔
میری پوتی یونیورسٹی جانے سے پہلے اور واپس آنے پر اس کوپیار کرتی ہے، چومتی ہے اور اپنی والدہ سے خاص طور پر کہتی ہے کہ اس کا خیال رکھے۔ وہ بھی اس سے اتنا مانوس ہو گیا کہ اس کے واپس آنے کا منتظر رہتا ہے۔ اس کیلئے سپیشل فوڈ آتا ہے ۔ جب اسے نیند آتی ہے تو مخصوص جگہ پر سوتا ہے رفع حاجت کیلئے بھی اس کیلئے ایک علیحدہ گوشہ ہے جہاں یہ اپنی رفع حاجت پوری کرتا ہے کیا مجال جو کسی اور جگہ یہ کام کرے۔
چند ہی دنوں میں اتنا شوخ اور پھر تیلا ہو گیا کہ وہ سوائے میرے، سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اپنی اداؤں سے سب کے دل جیت لیے اور گھر کی ہر چیز کو فتح کر لیا۔ ایک روز شوخی میں گھر سے باہر نکل گیا۔ یہ ساعت اس کیلئے نیک ثابت نہ ہوئی، باہر ایک آوارہ بے نسلے بلے نے اسے دبوچ لیا اور دانت اس کی پشت میں پیوست کر دیئے۔ زخمی حالت میں اندر لائے ۔ زخم اتنا زیادہ تھا کہ چند ہی روز میں پک گیا۔
Urdu Inshaiya Enzo
یہ اس کیلئے تکلیف دہ تھا۔ وٹرنری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جہاں اس کے زخم کی سرجری ہوئی۔ وہاں دو تین ہفتے میں شفایاب ہو کر واپس گھر آیا۔ اس دوران میں میری پوتی بہت اداس رہی اور تقریباً ہر روز اسے دیکھنے کیلئے اسپتال جاتی اور مطمئن ہو کر آتی۔ یہ ایک پرائیویٹ اسپتال ہے جہاں پالتو جانور پالنے والے لوگ اپنے کتوں اور بلیوں کو علاج کیلئے لاتے ہیں۔ ہسپتال سے شفایاب ہونے کے بعد اب یہ اور بھی شوخ و طرار ہو گیا۔ گھر کا کونہ کونہ اس کی دسترس میں ہے۔ کبھی وہ اس صوفے پر بیٹھتا ہے کبھی اس پر۔
 سخت سردی کی وجہ سے اب یہ ہیٹر کے سامنے بھی کارپٹ پر استراحت فرماتا ہے۔ میرے کمرے میں ضرور آتا ہے۔ مجھے پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔ میں اسے دھتکار دیتا ہوں تو وہ ایک دو چجلانگیں مارتا ہوا میرے بستر پر چڑھ جاتا ہے اور مجھے تنگ کرنے کے تمام حربے استعمال کرتا ہے۔Urdu Inshaiya Enzo
ایک روز اس نے مجھے اتنی پیار بھری نظروں سے دیکھا کہ میرا دل خود بخود اس کی طرف کھینچنے لگا۔ میں نے اس کے سامنے اپنی ناپسندیدگی کو خیر آباد کیا۔اسے گود میں اٹھایا اور دست شفقت سے اس کے سر کو سہلا نے لگا۔ اب اس بلے سے مجھے محبت ہو گئی۔ وہ ہمارے کنبے کا فرد بلکہ اہم فرد بن گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *