Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Last Episode By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

اردو غزل میں تصورِ عشق کی آخری قسط قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے

اقبالؔ نے محض غزل کی روایت کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ اسے وسعت عطاکی۔ انہوں نےغزلوں میں عشق مجازی کے پردے میں عشق حقیقی کے جلوے دکھائے
بدلتے ہوئے عقائد و نظریات اور ضروریات نے عشق کے انداز بدل دیئے۔ محبوب کی آنکھوں میں کھوجانے اوراس کی زلفوں میں اسیر ہونے، ہجر و وصال کے سوز و گداز قصوں کو بیان کرنے ، محبوب کے گلی کوچہ کو اہمیت دینے اور رقیب کی شکایت کرتے رہنے الغرض عشق کو ہی حاصلِ زیست سمجھنے والے شعرا نے غمِ دوراں کو محسوس کیا۔

غم دوراں کو غم جاناں پر فوقیت دینے لگے۔ بالآخرانہوں نے غم دوراں کو غم جاناں میں ملادیا۔ حالانکہ یہ سلسلہ حالیؔ اور محمد حسین آزادؔ کے قائم کردہ اصولوں کے تحت وجود میں آچکا تھا۔آگے چل کر ترقی پسند تحریک کے متوالوں نے یہی رویہ اختیار کیا۔ترقی پسند تحریک کے متوالوں اور حلقۂ ارباب ذوق کے حواریوں کو عشق تو دور انہیں غزل سے ہی چڑ تھی اس لئے انہوں نے غزل کو پس پشت ڈال دیا۔ان کے سامنے عشق و حسن کے فسانوں سے زیادہ روزی روٹی کا مسئلہ در پیش تھا اور انقلاب اور تحریکِ آزادی کے نعرے تھے محبوب کے حسن کو بیان کرنے سے زیادہ انہیں نوجوانوں میں تحریک آزادی کا جذبہ پیدا کرنا تھا

لہذا انہوں نے اپنا انداز بدل دیا۔ فیض احمد فیضؔ کے یہاں یہ رنگ دیکھا جا سکتا ہے ان کے یہاں غم جاناں اور غم دوراں کا امتزاج موجود ہے۔ فیض ؔ معشوق کی آنکھوں میں کھوجانے کی بجائے غم دنیا میں گم ہونے اور قوم و وطن کے سلگتے مسائل کو اجاگر کرنے کو اہم جانتے ہیں اور اپنی محبوب سے اوربھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
کا تقاضہ کرتے ہیں انہیں احساس ہے کہ ان کا محبوب مل بھی جائے تو دنیا کے غم یوں ہی رہیں گے۔ کیفی اعظمی اپنے محبوب کو اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

زندگی جہد میں ہے صبر کہ قابو میں نہیں
نبضِ ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں ہے
اڑنے کھلنے میں ہے نکہتِ خم گیسو میں ہے
جنّت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں ہے
اس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ چلنا ہے تجھے
مجروح ؔ سلطان پوری اپنے محبوب کو متنبیٰ کرتے ہیں کہ رقص کرنا ہےتو پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ،حتیٰ کہ رومانیت کا شہید مجاز ؔ اپنے محبوب کے آنچل کو پرچم کے روپ میں دیکھنا پسند کرتا ہے۔

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
اس طرح عشق کا تصور نئی کروٹیں لینے لگتا ہے۔کیونکہ اب نہ وہ عشق تھا اور نہ ہی وہ عشّاق تھے ،جو عشق تھا اس میں وہ تپش تھی اورنہ وہ حرارت ،وہ سوز و گداز تھا اور نہ ہی درد جو قدماء کا اثاثہ تھااور نہ ہی وہ دربارتھے جہاں شعرا کی خوب سر پرستی ہوا کرتی تھی۔ اب زندگی کا شیراز ہ بکھرنے لگا تھاجس کی بدولت شعرا کو زندگی کا احساس ہو چلاتھا۔ اسی لئے ترقی پسند تحریک کے شیدائیوں نے اپنے اصولوں کے تحت ادب تخلیق کرنا شروع کیا جو انسان کی فلاح و بہبودی کے لئے تھا اورجس سے تعمیری کام لیا جا سکتا تھا۔

لہذا انہوں نے غزل کی بجائے نظموں کو اہمیت دینی شروع کی۔ان کی نظروں میں غزل محض تفریح کا سامان تھی ۔اس دور میں حسرتؔ ، فانیؔ ، جگرؔ اور اصغر ؔ نے غزل کی ڈوبتی نیّا کو سہارا دیا اور اس کی روایت کو آگے بڑھایا۔الغرض فانیؔ زندگی کے درد و سوز کے ساتھ عشق کا بیان کرتے رہے۔حسرت ؔ نے بھی اپنی غزلوں میں عشق کا ایک جامع تصو رپیش کیا۔ اسی کشمکشِ زندگانی کے درمیان جگرؔ نے بڑی بے باکی سے عشق کا مظاہرہ کیا اور ایک منظم رنگ عشقیہ شاعری کو عطا کیا۔Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

فراقؔ بھی زندگی کے دیگر مسائل بیان کرتے ہوئے عشق وعاشقی کی باتیں کرتے رہے۔
وہ سوز و درد مٹ گئے وہ زندگی بدل گئی
سوالِ عشق ہے ابھی یہ کیا کیا یہ کیا ہوا؟ فراقؔ
پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھا
پھر فسانہ بحدیثِ دگراں ہے کہ جو تھا فراقؔ
نام بھی لینا ہے جس کا اک جہانِ رنگ و بو
دوستو ! اس نو بہارِ ناز کی باتیں کرو فراقؔ
دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے فانیؔ
مآلِ سوز غم ہا ئے نہا نی دیکھتے جاؤ

بھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤ فانیؔ
حسن بے پرواہ کو خود بین و خود آرا کردیا
کیا کیا میں نے کہ ا ظہا رِ تمنّا کر دیا حسرتؔ
دیارِ شوق میں برپا ہے ماتم مرگِ حسرت کا
وہ وضعِ پارسا اس کی وہ عشقِ پاک باز اس کا حسرتؔ
اہل ِ رضا کی جان ہے اتنی سی یہ امید
کچھ اور بھی ہے اس ستم برملا کے بعد حسرتؔ
یوں زندگی گذار رہا ہوں ترے بغیر
جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں جگرؔ
کیا عشق نے سمجھا ہے کیا حسن نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے جگرؔ

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq
پروفیسر رشید احمد صدیقی اپنے مضمون’’ جگرؔ میری نظر میں‘‘ میں حسرتؔ اور جگر ؔ کی عشقیہ شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔حسرت ؔ اور جگرؔ دونوں اصلاً حسن و عشق کے شاعر ہیں لیکن ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ ایک محبوب کی موجودگی میں اور دوسرا محبوب کی دوری پر غزل خواں ہوتا ہے۔ جگرؔ محبت کے شاعر ہیں حسرتؔ محبوب کے !جگرؔ دوری اورمہجوری کی عظمت کے قائل ہیں۔ جگرؔ متاع اور قیمت کے نازک اور گراں بہا رشتہ کو خوب سمجھتے ہیں اور نباہتے ہیں۔ اب تک یہ روایت چلی آتی تھی کہ شعرا ء عاشق کے جذبات و احساسات کی ترجمانی پر پورا زور صرف کر دیا کرتے تھے۔جگرؔ کے یہاں محبوب کے جذبات و احساسات کی بھی ترجمانی ملتی ہے۔

عشق کی یہ کیفیت ان کے بعد کے اکثر شعرا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔مگر کسی کے یہاں کم تو کسی کے یہاں زیادہ ۔ ملک آزادہوا اور تقسیم بھی ہوا۔زندگی کا رخ بدل گیا۔نئے نئے مسائل پیدا ہوگئے۔شعبہ ہائے زندگانی میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ادب میں بھی تبدیلیاں رونما ہو گئیں۔نئے نئے رجحانات شروع ہوئے۔ جنہیں جدید ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت اور جدید تر کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔جب سے ان رجحانات کا آغاز ہوا ،غزل گو شعرا کی ذہنیت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوگئی۔اس طرح دیکھا جائے تو آج کی غزل میں خالص عشقیہ عناصر خال خال ہی ملیں گے۔

آج کی غزل میں زندگی کے نئے اور پیچیدہ میلانات و مطالبات سے متعلق بلیغ اشارے دکھائی دیں گے۔یہ سلسلہ ترقی پسند تحریک کے زمانے میں شروع ہو چکا تھا۔ لہذا اب نئے تقاضات کے تحت غزل میں عشق کا تصور پیش کیا جانے لگا۔دورِ حاضر کی غزل میں حسن و عشق کے جلوے اور محبت کے جذبات و محسوسات دیکھنے کی سعی کی جائے تو یہاں شاعر کا رویہ خاصہ بدلا ہوا پائیں گے۔حالانکہ زندگی میں عشق و محبت کی اولیّت اور مرکزیت سے انحراف کرنا غالبؔ نے سکھایا تھا ۔اس تصور کو فراقؔ اور یگانہؔ نے آگے بڑھایا۔Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

الغرض آج کی تیز رفتار زندگی کی کشمکش کے سامنے غزل کے آداب اور عشق کے آداب شکست کھا چکے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ آج کےشعرا بھی عشق وعاشقی کی باتیں کرتے ہیں اور حسن کے گیت گاتے ہیں لیکن نہ ان کے عشق میں وہ حرارت اور وہ وجدانی کیفیت ہے اور نہ ہی عشق میں جلنے کی تڑپ اور امنگ۔ پھر بھی چند ایک شعرا کے یہاں ایسی عشقیہ شاعری مل جائے گی جسے پڑھ کر قدیم شعرا کی یاد تازہ ہوجائے گی۔ مثلاً
یہ نہ سوچو کہ بے ثبات ہو تم
میرے حصّے کی کائنات ہو تم ساغر کرناٹکیؔ
یہ مہر و ماہ نہ چمکیں تو غم نہیں کوئی
وہ مسکرائیں تو ہر سمت نور ہوتا ہے ڈاکٹر داؤد محسنؔ

آج کے اس پُر خطر اور پُر فتن دور میں جہاں ذ ہنی سوچ بدل گئی ہے۔شعرا نے بھی اپنا تصور بدل دیا ہے۔حسن و عشق کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کا اب انداز بدل گیا ہے۔
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
سرائے دل میں جگہ دے تو کاٹ لوں اک رات
نہیں یہ شرط کہ مجھ کو شریکِ خواب بنا حسن نعیمؔ
اظہرِ عاشقی سے ڈرتا ہوں
حسن کی برہمی سے ڈرتا ہوں ڈاکٹر داؤد محسنؔ
تو کون ہے تیرا نام کیا ہے
کیا سچ ہے کہ تیرے ہو گئے ہم ناصر ؔ کاظمی
نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی شکل ہے کوئی
اک ایسی شئے کا کیوں ازل سے انتظار ہے شہر یار
اب ملے ہم تو کئی لوگ بچھڑ جائیں گے
انتظار اور کرو اگلے جنم تک میرا بشیر بدر

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq
موجودہ دور کی غزل میں محبت کی دھیمی دھیمی کسک تو ضرور ملتی ہے مگر تصور عشق کی وہ وسعتیں نہیں ملیں گی ۔اب نہ عشقِ حقیقی کی بہاریں دکھائی دیتی ہیں اور نہ عشقِ مجازی کی جگمگاہٹیں۔اس لئے کہ فی زمانہ انسانیت دم توڑ رہی ہے جہاں زندگی کی ساری قدریں پامال ہو چکی ہیں۔دنیا خوفناک دور سے گذر رہی ہے۔آج کا شاعر حیات اور موت کی کشمکش میں اپنا وجود کھو چکاہے۔اس کے پاس نہ تو متاعِ حیات ہے اور نہ متاعِ حسن و عشق۔

تیسری قسط کے لئے یہاں پر کلک کریں

1 comment on “Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Last Episode By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

  1. Pingback: Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Episode 3 By Dr Bi Muhammad Davood

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *