Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Episode1 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

اردو غزل میں تصورِ عشق  کی قسط اول قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے۔

غزل اردو زبان کی مشہور و معروف صنفِ شاعری ہی نہیں بلکہ اسے سرتاج الشاعری کہا جا سکتا ہے۔جسے رشید احمد صدیقی نے اردو شاعری کی آبرو قرار دیا ہے۔پروفیسر حامد حسن قادری غزل کے آغاز ،مزاج اور تاریخی ارتقاء کے بارے میں رقمطراز ہیں۔

’’غزل کے معنی ہیں عشق اور جوانی کا ذکر کرنا۔شاعری میں غزل اس نظم کو کہتے ہیں جس میں حسن و عشق ،اخلاق و تصوف وغیرہ مضامین ہوں اور ہر شعر الگ مضمون کا ہو۔اردو شاعری فارسی شاعری کی تقلید ہے اور فارسی عربی کی۔عربی قصائد میں غزل بھی شامل تھی یعنی قصیدوں کی تمہیدمیں عاشقانہ مضامین لکھتے تھے

اور اس کو غزل یا تغزل کہتے تھے لیکن یہ تمہید مسلسل ہوتی تھی ۔فارسی والوں نے اس ٹکڑے کو غزل کے نام سے مستقل صنفِ شاعری بنا لیا۔اردو غزل کے آغاز اور ابتدا کے متعلق متعدد آرا پائی جا تی ہیں ۔ا س صنف کی ابتدا کب اور کہاں پیدا ہوئی ۔اس کا تشفی بخش جواب ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر وزیر آغا اپنے مضمون’’ شعر و غزل‘‘میں لکھتے ہیں۔

’’ غزل نے قصیدے کی پسلی سے جنم لیا ۔پسلی سے پیدا ہونا اپنے اندر ایک گہری معنویت رکھتا ہے۔نہ جانے کب سے غزل بے چاری قصیدے کی قید میں تھی ،بالکل اسی طرح جیسے کسی داستان کی نرم و نازک شہزادی کسی ہیبت ناک دیو کے طلسم میں گرفتار ہو۔مگر ایک روز قصیدے کے ڈھانچے سے منحرف ہو گئی

اور اس نے کسی بادشاہ یا امیر وزیر کو چھوڑ کر ایک نرم و نازک محبوب کو اپنا لیا اور پھر اپنے محبوب کی تعریف میں رطب اللسان ہوئی اور پھر معاملہ بندی کے میدان میں غلو کی حد تک پیش قدمی کرتی چلی گئی۔‘‘اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس صنف کو غزل کا نام اس لئے دیا گیا کیونکہ حسن و عشق ہی اس کا اصل موضوع ہوتا تھا۔

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

غزل کے معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی باتیں کرنا کے ہیں۔مجنوںؔ گورکھپوری لکھتے ہیں۔غزل کے معنی عورت یا محبوب کی باتیں کرنے کے ہیں۔‘‘(اردو شاعری کا فنّی ارتقاء مجنوں ؔ گورکھپوری ص 60 )زمانے کے ساتھ ساتھ وقت کی ضروریات اور حالات کے پیشِ نظر اس کے موضوعات میں تنوع اور وسعت پیدا ہوتی گئی اور آج غزل میں ہر طرح کے مضامین پیش کئے جاتے ہیں۔

مگر مضامینِ حسن و عشق کو مرکزیت اور اولیت حاصل ہے۔ابتدا سے ہی حسن و عشق کی جلوہ ریزیاں اور جلوہ سامانیاں پورے آب و تاب کے ساتھ اس میں موجود ہیں۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو غزل کا سنگِ بنیاد عشق پر رکھا ہوا ملے گا ۔اگر حسن و عشق کے پرکیف اور پر مسرت بیان کو اس سے نکال دیں تو یہ بے جان ، بے کیف اور بے مزہ ہوجائے۔بقول ڈاکٹر سید محمد حسین۔

’’غزل درحقیقت عشق کی آئینہ دار ہوتی ہے کسی بوالہوس کی داستان نہیں۔ مطربِ حسن ہے۔شاعر کے اپنے تصورات و وارداتِ قلبی کی پر خلوص عکاسی ہے اور آبروئے سخن بھی۔‘‘(اردو میں عشقیہ شاعری از ڈاکٹر سید محمد حسین ص 60 )ہر دور میں دنیا کی تمام زبانوں کے شعری سرمایہ میں عشقیہ ادب ہی شہرت اور مقبولیت کا حامل رہا ہے حسن و عشق کا موضوع درا صل فارسی اور اردو ادب کی روح ہے۔

فارسی کی طرح اردو شعرا بھی عشق کو سطحیت سے بلند تر دیکھتے ہیں وہ اسے کامل،متحرک جذبہ اورقوت عمل گر دانتے ہیں۔کبھی عشق سے ہٹ کر کچھ کہنا چاہیں بھی تو وہ ذہنی طور پر تصور عشق کی روایت سے انحراف نہیں کر پاتے۔لہذا فارسی شعرا کی طرح اردو شعرا بھی اظہارِ عشق کے لأعموماََساقی،بادہ وساغراور مؤ کدہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اوراس کے بغیر تشنگی محسوس کرتے ہیںجیسا کہ غالبؔ کا خیال ہے کہ

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

بقول فراق ؔ گورکھپوری۔ ’’زندگی کے مرکزی اور اہم حقائق ومسائل غزل کے موضوع ہوتے ہیں ان حقائق میں وارداتِ عشق کو اولیت حاصل ہے کیونکہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں جنسیت اور ان سے پیدا ہونے والی کیفیتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے‘‘۔(مضمون غزل کی ماہیئت مشمولہ اردو شاعری کا فنی ارتقا ص 19 )اردو غزل کا ہرایک شاعر عشق کے متعلق اپنا نجی تصور نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ کسی طرح تصورِعشق کی روایت کو آگے بڑھاتا ہے ۔

اس کے باوجود وہ رسمی طور پر حسن وعشق کا ذکر اپنی غزلوں میں کرتا ہے۔اس طرح عشق کا براہِ راست تجربہ ہر شاعر کے یہاں پوری آب و تاب کے ساتھ نہ ہونے کے باوجود کچھ نہ کچھ عشقیہ بیان ہوتا ہے۔جیسا کہ سراج ؔ اورنگ آبادی،میرؔ ،دردؔ ،غالبؔ ،مومنؔ ،امیرمینائی ،اقبالؔ ، حسرتؔ ،جگرؔ ،فرا قؔ اور فیض وغیرہ کے یہاں پایا جاتا ہے۔

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq
اب یہ عشق کیا ہے اور اس کے اقسام کیا ہیں تو اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ عشق دو قسم کا ہوتا ہے۔عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی۔عشقِ حقیقی سے مراد محبتِ خداوندی اور عشقِ مجازی سے مراد ظاہری عشق ہے۔عشقِ مجازی کسی حسنِ مجسم کو دیکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔اس میں اگر جسموں کی چاہت نہ ہو بلکہ اس سے بلند وبالا جذبہ کار فرما ہو تو وہ عشقِ حقیقی کے قریب تر ہوجاتا ہے اور اگر کسی مجسم کودیکھنے سے نفسانی تحریک اجاگر ہوتو وہ ’’عشقِ حیوانی‘‘ کہلاتا ہے۔

عشق ایک کیفیت یا جذبہ کا نام ہے جو کسی کے دل میں کسی دوسرے شخص کے لئے پیدا ہوتا ہے جسے پیار،محبت،چاہت،پریت،پریم اور انگریزی میں لو  یاErotic کہتے ہیں یہ تمام جذبات جب شدت اختیار کرجاتے ہیں تو عشق کے حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔غزل میں شاعر عشق کو کبھی آگ کا دریا کہتا ہے تو کبھی جان کا روگ

اورکبھی بلائے جان،کبھی عبادت کا درجہ دیتا ہے تو کبھی اپنے محبوب کے عشق میں کھوجانے کو حاصلِ زیست سمجھتا ہے۔عشق کا جذبہ حد سے گذرجاتا ہے تو اپنے محبوب کی خاکِ پا کو بوسہ دیتے ہوئے اس کے نقشِ قدم پر سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور کبھی عشق میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ دنیاومافیہا سے بے خبر ہو کر سوائے عشق کے وہ اپنے آپ کو کسی قابل نہیں سمجھتا۔

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq

عشق ہی بے شک عبد ہے حسن ہی معبود ہے
اس کے ہی زیروزبر سے یہ جہاں سارا ہوا

عشق نے غالب نکما کسر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

دوسری قسط کے لئے جاری ہے پر کلک کریں

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *