Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Episode 3 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

Urdu Ghazal

 آخری قسط کے لئے یہاں پر کلک کریں

اردو غزل میں تصورِ عشق کی تیسری قسط قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے

دکن میں یوں تو مثنوی کو عروج حاصل رہا، لیکن غزل کا رجحان بھی بڑھتا رہا ۔عادل شاہی اور قطب شاہی ادوار میں غزل کو صرف عورتوں سے باتیں کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ اس کے ذریعے معشوق کی ہر ایک ادا اور اس کے خد و خال بیان کئے جاتے رہے اور حسن و عشق کا کھل کر اظہار کیا جانے لگا۔اس طرح خالص غزل کے نقش و نگار حسن شوقیؔ کے یہاں ابھرتے ہیں وہ اس روایت کی نمائندگی کرتا ہے جس کے بانی گولکنڈہ کے محمودؔ ،خیالؔ ،فیروز اور قلی قطب شاہ ہیں۔

شاہی و نصرنی کی غزلوں میں لذتِ جسم اور عشق کا جنسی پہلو کھل کر ظا ہر ہوتاہے۔ ہاشمیؔ نے غزل میں عورت کے جذبات کو عورت کی زبان میں اور عورت کے انداز میں بیان کیا ہے جو ہندی شاعری کا طریقۂ کار ہے۔اردو کی ابتدائی غزلوں میں محبوب کے حسن کی تعریف اورسراپا نگاری میں فطری حسن پایا جاتا ہے۔ان شعرا کا معشوق ’’عورت‘‘ ہے اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ عورت ہی کے تصور میں کہا ہے۔یہ انداز ولیؔ کے دور تک دیکھا جاسکتا ہے۔

ولیؔ کے یہاں عشق فرحتِ حیات اور نشاطِ روح ہے۔ولیؔ کا ایمان بھی عشق پر ہے۔فارسی کی تقلید کرتےہوئے ولیؔ نے اپنےمحبوب کو کافر ایمان،بتِ کافر،دشمنِ ایمان و جاں وغیرہ جیسے القاب و خطابات سے نوازا۔ان کے یہاں حزن و ملال کم ہے وہ نشاط انگیز ڈھنگ میں معشوق کے حسن اور وارداتِ عشق کو بیان کرتے ہیں۔ ولیؔ اور دیگر شعرا کا اس زمانے میں عورت کے تصور میں غزلیں کہنے کا انداز دیکھئے۔

Urdu Ghazal
تجھ گال کی سرخی انگیں یا قوت رومانی کدھر
تجھ اشک کے لالے انگیں لال بدخشانی کدھر ولیؔ
لب پہ دلبر کے جلوہ گر ہے جو خال
حوضِ کوثر پہ جوں کھڑا ہے بلال ولیؔ
تجھ زلف کے رین میں جھمکے برنگ عذرا
کوئی چاند کوئی زہرا کوئی مشتری کتے ہیں
جانا تجھے جو دیک کر بہو چھند بھرکتے ہیں
کوئی حور کوئی پدمنی کوئی شہ پری کتے ہیں حسن شوقیؔ

زمانے کی تیز رفتاری اور بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر غزلیات میں نئے نئے موضوعات پیش کئے جانے لگے۔غزل کی تنگ دامنی کا احساس غالبؔ کو شدت سے ہوا۔چونکہ غالبؔ کے دور تک اردو غزل کا دائرہ حسن و عشق کی کیفیت،ہجر و وصال کے بیان اور گل و بلبل کی داستان اور چاکِ گریباں کے قصوں تک محدود تھا۔غالبؔ نے غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کو اردو غزل میں جگہ دی اور کہا۔
سنبھلنے دے مجھے اے نامرادی کیا قیامت ہے
کہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے

غالبؔ کے یہاں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کی آمیزش ہے۔عشق ان کے یہاں ایک مکمل وجدان ہے۔ان کے عشق میں ایک اضطرابی کیفیت ہے جس کی سوز و تپش سے دل پگھل جاتے ہیں۔
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گراندیشے میں ہے
آبگینہ تندئ صہبا سے پگھلا جائے ہے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے
ہر بو الہوسی نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ ا ہلِ نظر گئی
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

Urdu Ghazal
غالبؔ سے پہلے میر تقی میرؔ نے غزل کو آسمانِ ادب پر پہنچادیا تھا۔میرؔ اپنے والد کی اس بات کے قائل تھے کہ ’’بیٹا عشق کرو عشق ہی اس کارخانۂ ہستی کا چلانے والا ہے……بغیر عشق زندگی وبال ہے۔‘‘ لہذا میرؔ نے عشق کو اعلیٰ وارفع سمجھا۔ میرؔ فطری طور پر عاشق مزاج تھے۔ڈاکٹر خوشحال زیدی میرؔ کے تصورِ حسن و عشق کے بارے میں لکھتے ہیں۔ایک طرف ہمیں میر ؔ کا دل گداختہ نظر آتا ہے۔دوسری طرف ان کے جذبات اور محبت کے درمیان تصادم۔

تیسری طرف اخلاقی اور جذباتی کی آزادی کے درمیانی فاصلوں کو طے کرنے کی کوشش۔میرؔ شکستِ محبت کے شاعر ہیں۔‘‘الغرض میرؔ کے ہیاں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے دونوں رنگ ہیں۔میرؔ کی توجہ کا مرکز حسن رہا ہے۔ان کے یہاں عشق کا انداز دیکھئے۔
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیمارئ دل نے آ خر کام تمام کیا
ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن
مرضِ عشق کا علاج نہیں
دل پر خوں کی ایک گلابی سے
عمر بھر ہم رہے شرابی سے

Urdu Ghazal
یہ وہ دور ہے جب دلّی اجڑتی اور بستی رہی۔اس کا بارہا استحصال ہوتا رہا۔اس دور میں دو اہم دبستانوں دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنوکا وجود ہوا۔دبستانِ دہلی کے شعرا تصوف کے قائل ہوکر فلسفۂ وحدت الوجود کے ساتھ ساتھ دیگر مضامین غزلوں میں سموتے گئے۔ان کے یہاں عشق و عاشقی کا بیان بھی خوب ہوتا رہا لیکن ان کے کلام میں پاکیزہ خیالات و جذبات ہمیشہ کارفرما رہے۔وصل سے زیادہ ہجر کی لذت تھی اور محبوب قابلِ احترام تھا۔اس عہد میں محبت کا نہایت بلند اور پاکیزہ تخیل پیش کیا گیا ۔

مرے سلیقے سے مری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
دور بیٹھا غبارِ میرؔ اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

اس کے برعکس اہلِ لکھنو فارغ البالی کی وجہ سے عیش و عشرت کے دلدادہ تھے ان کے یہاں عیش کے دیگر لوازمات کے علاوہ طوائفوں کی کثرت تھی حسن کی جلوہ آرائیاں عام تھیں اور حسن بے نقاب تھا شعرائے لکھنو اپنی غزلیات میں عورت کے حسن کو کھل کر بیان کرنے لگے۔اس کے زیورات اورملبوسات کا،مسّی ،کاجل، زلفوں،گیسوؤں،ابروؤں،پلکوں،لبوں،رخساروںیہاں تک کہ کمروں اورچوٹیوں کا تذکرہ کھل کر کیا جانے لگا۔Urdu Ghazal

جس کی بدولت غزلوں میں سطحیت تو ضرور پیدا ہوگئی لیکن اردو غزل جو اب تک نسوانی کردار سے کسی حد تک محروم تھی اس میں صنفِ نازک کے بدن ،خد و خال نمایاں ہونے لگے۔تعیش کا رنگ شاعری کی روح بن گیا۔ شوخیانہ معاملات و جذبات کا اظہار بھی نمایاں ہوگیا۔شاعری ابتذال کی حد تک پہنچ گئی ۔ زنانہ محاورات اور ضرب الامثال کا استعمال بیگماتی زبان میں ہونے لگا۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔
جومیٹھی میٹھی نظروں سے وہ دیکھے
کہوں آنکھوں کو میں بادام شیریں ناسخؔ
دے دوپٹہ تو اپنا ململ کا
ناتواں ہوں کفن بھی ہو ہلکا نامعلوم
وصل کی شب پلنگ کے اوپر
مثل چیتے کے وہ مچلتے ہیں خلیلؔ
ہے شب ہجر وادئ وحشت
دیدۂ غول ہے چراغ اپنا نامعلوم
یہی کہہ کہہ کے رند روتا ہے
پھوٹیں آنکھیں جگا دیا کس نے نا معلوم

Urdu Ghazal

شعرائے لکھنوء کی ایسی ہی شاعری کی پیشِ نظر ناقدین نے اسے کنگھی چوٹی کی شاعری قرار دیا ۔غزل کی عشقیہ شاعری میں یہ تصور اور رواج اتنا زور پکڑا کہ بیشتر شعراء اس کی تتبع میں شعر کہنے اوراسی کی پیروی کرنے لگے۔ بالآخر غزل گل و بلبل کی حکایتوں،عشق و عاشقی کی کیفیتوں اور ہجر و وصال کی داستان بن کر رہ گئی۔اسی نوعیت کی شاعری پر حالیؔ نے کاری ضرب لگائی اور اسے ناپاک دفتر قرار دیا ۔

آگے چل کر کلیم الدین احمد نے اس کو نیم وحشی صنف کہا اور عظمت اللہ خان نے گردن زدنی کا فتویٰ صادر کیا ۔غزل کی سخت جانی دیکھئے کہ اس پر شدید حملوں کے باوجود نہ صرف آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے بلکہ مسلسل ترقی کے مراحل طے کرتی جا رہی ہے۔ جہاں دیگر مضامین کو اپنے دامن میں جگہ دیتی رہی وہیں عشقیہ مضامین سے لیس ہوتی رہی ہے۔

 (دوسری قسط) (پہلی قسط)

1 comment on “Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Episode 3 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

  1. Pingback: Urdu Ghazal Mein Tasawar e Ishq Last Episode By Dr Muhammad Davood

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *