Urdu Ghazal Mein Tasawar-e-Ishq Episode 2 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

اردو غزل میں تصورِ عشق

پہلی قسط کے لئے یہاں پر کلک کریں

اردو غزل میں تصورِ عشق کی دوسری قسط قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے

اردو شاعری میں جو عشق کا تصور ملتا ہے وہ دو دروازوں سے داخل ہوا ہے مگر ہمارے یہاں عشق کے تین مکاتیب فکرملتے ہیں۔ اسلامی مکتبہ فکر،ایرانی مکتبہ فکر اور ہندوی مکتبہ فکر۔لہذا اردو غزل میں یہ تینوں مکاتیب عشق پائے جاتے ہیں۔چونکہ اردو غزل کی روایت میں تصورِ عشق دو اہم دروازوں سے داخل ہوا جس کا ایک دروازہ سر زمینِ ہند سے کھلتا ہے اس لئے ابتدائی غزلوں میں ہندوی عشق کا کافی بول بالا دکھائی دیتا ہے۔

اردو غزل میں تصورِ عشق

اس کا رنگ روپ خالص ہندوستانی ہے جو سماجی اور ثقافتی انداز لئے ہوئے ہے جس میں رادھا کرشن،اجنتااورایلوارا کی عشقیہ داستانوں کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔دوسرا دروازہ فارسی ادب کی جانب سے کھلتا ہے جس کی بدولت ہمارےشعرا فارسی شعرا کے کلام سے متاثر ہوئے اور اپنی غزلوں میں شیریں فرہاد،لیلیٰ مجنوں ،یوسف زلیخا کی عشقیہ داستانوں کے پیشِ نظر گل وبلبل کی حکایتوں کو اجاگر کرتے رہے۔علاوہ ازیں اسلامی طرزِ فکر اور عشقِ حقیقی کا تصور بھی ان کے پیشِ نظر آیا۔

اردو غزل میں عشق کا جوتصور ہے وہ صوفیائے کرام کے نظریات کا جزو ہے۔ حقیقی عشق کو غزلوں میں برتنے کا اہم مقصد تصوفانہ نظریات کو پیش کرنا ہے اور اس کے ذریعہ معرفتِ الٰہی سے انسانوں کو آشنا کرنا ہے یہی صوفیائے کرام کا وژن اور مشن تھا۔اسی لئے صوفی شعرا نے خاص طور سے غزل کو اپنایا ،اسے وسعت دی اور اس میں فلسفیانہ افکار وخیالات سموتے گئے۔

اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔لہذا اس کی بنائی ہوئی کائنات کا ہر ایک ذرہ حسین وجمیل ہے۔اس میں نورِ خداوندی کی جلوہ ریزیاں ہیں۔ خصوصاًحضرتِ انسان وہ شاہکار ہے جو سب سے مکمل اور حسین تر ہے اس لئے بھی کہ وہ لفظِ کن سے نہیں بلکہ ید اللہ کی تخلیق ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے حسن کو کائنات کے آئینہ میں دیکھنا چاہا تو تخلیقِ تکوین فرمائی۔

غالبؔ نے ایک جگہ کہا ہے
دہر جز جلو یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود میں
کسی ایک اورشاعر کایہ خیال بھی درست ہے کہ
عشق عشق ہوا آخر حسن میں فنا ہو کر

اردو غزل میں تصورِ عشق
اللہ تعالیٰ اپنے حسن پر فریفتہ ہے ۔خود ہی عاشق ہے اور خود ہی معشوق۔ دراصل عشق میں عاشق و معشوق کا امتیاز نہیں ۔یہ صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہے ورنہ جو طالب ہے وہی مطلوب ہے جو محب ہے وہی محبوب ہے۔مثلاً
کہیں عاشق کہیں معشوق کہیں صورتِ عاشق
ایک ہی نور ہے سو رنگ سے مشہور ہوا

ہمارے صوفی شعرا میں مجازی عشق کا خاص رجحان پایا جاتا ہے۔امیر خسروؔ ،ولیؔ ،سراجؔ ،مظہرؔ جان جاناں،شاہ حاتمؔ ،میردردؔ ،میر تقی میروغیرہ عشقِ مجازی کے پردے میں عشقِ حقیقی بیان کرتے ہوئے ذاتِ حقیقی کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔میر دردؔ اور سراج ؔ اورنگ آبادی وغیرہ بغیر عشق کے کسی شئے کا تصورکرتے ہیں

اورنہ ہی کسی ذات کو عشق سے الگ تصور کرتے ہیں۔عشقِ حقیقی میں عموماََ بندہ عاشق اور اللہ تعالیٰ معشوق ہوتا ہے۔جدائی کی تڑپ اور وصل کی تمنا عاشق کے دل میں ہر لمحہ پائی جاتی ہے وہ اس بات کا قائل ہوتا ہے کہ
وصل حسن و عشق سے جب نور اک افشا ہوا
ایک ہی جلوہ کہیں مجنوں کہیں لیلیٰ ہوا    سر قاضی سیدقمرالدّین قمرؔ

اردو غزل میں تصورِ عشق
سراج کا عشق انہیں جنوں کی حد تک لے گیا اسرار و معرفت کی راہیں ان پر روشن ہوئیں۔ان کا عشق آتش گیر تھا شدتِ عشق میں تپ کر سراجؔ نے شاعری کو ایک ایسا رنگ وبو بخشا جس کی مہک آج بھی ہر طرف موجود ہے مثلاً
بھڑکے ہیں میرے دل میں برہ آگ کے شعلے
وہ جانِ سراج ؔ آکے بجھا دے تو بجھارہے
جل گیا معشوق کے شعلوں میں سراجؔ
اپنی دا نست میں بے جا نہ کیا سراجؔ اورنگ آبادی

میر درد ؔ بھی عشق حقیقی کی آگ میں تپ کر کندن بن گئے اورانہوں نے عشق کا ایک منظم تصور پیش کیا۔ان کے یہاں عشق میں ایک سوزو گداز پایا جاتا تھا۔برہ کی آگ میں تڑپنے کی کیفیت موجودہے۔ان کے عشق حقیقی کا رنگ ملاحظہ فرماےئے۔
مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہماں تھے واں،اک تو ہی صاحبِ خانہ تھا
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

ہماری غزلیہ شاعری میں عشق مجازی کا جو تصور ملتا ہے اس میں ایک طرف عاشق،معشوق اور رقیب کا مثلث ہے تو دوسری طرف اس میں وصل، فراق اور انتظار کے ثلاثتی زاوےئے بھی ملتے ہیں۔محبوب کی موجودگی باعثِ مسرت اور عدم موجودگی آرزوؤں،تمناؤں اور خواہشوں کو جگاتی ہے۔وصلِ محبوب سے قبل عاشق کا دل لذت عشق کی کیفیت اور امید وبیم،حسرت ویاس اور دل شکستگی کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔

محبوب کا لطف و کرم حاصل ہونے کے بعد بھی اس کے ذہن میں فرقت کا خوف رہتا ہے۔وہ معشوق کی بے وفائی اور طرزِ تغافل سے خوف زدہ رہتا ہے۔
یاس ہی یاس گِرد ہے دل کے
اب کوئی آس پاس نہیں میر حسنؔ
کچھ آج نہیں رنگ یہ افسردہ دلی کا
مدت سے یہی حال ہے یارو میرے جی کا امیر مینائیؔ

اردو غزل میں تصورِ عشقاردو غزل میں تصورِ عشق
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا میرؔ
ہم تم سے چشم رکھتے تھے دلداریاں بہت
سو التفات کم ہے دل آزاریاں بہت میرؔ
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک غالبؔ

اردو غزل میں جو تصورِ عشق ہے اس میں مسرت و انبساط سے زیادہ رنج و الم اور درد و کرب پایا جاتا ہے۔عاشق عموماً حسرت و یاس اور حزن و ملال کا شکار،رنجیدہ اور آزردہ پریشان حال اور چاک دامن ہوتا ہے مگر حرفِ شکایت معشوق کے خلاف لانے سے ہمیشہ گریز کرتا ہے۔اس عشق کے کھیل میں روٹھنا معشوق کی شان تومنانا عاشق کی آن ہے۔

عاشق کے حصہ میں درد و کرب کی کسک اور فراق کی تڑپ ہوتی ہے لہذا اس محبت میں خوشی کم اور غم زیادہ ہے بالفاظِ دیگر محبت میں خوشی اور غم کا ساتھ چولی دامن کا ہے۔اردو غزل میں معشوق کو مرکز باندھنے کا رواج عام ہے جو عربو ں سے فارسی میں آیا اور فارسی سے اردو میں۔پہلی صدی عیسوی میں ایران پر جب عربوں کا غلبہ ہوا تو فوج میں ترک نوجوان سپاہی کے طور پر بھرتی کئے جانے لگے جو عموماً خوبصورت،حسین اور جمیل ہوتے اور معشوقانہ صفات رکھتے تھے۔

اعلیٰ افسران کے ساتھ رزم اور بزم،خلوت و جلوت میں وہی رہتے تھے جس کا اثر یہ ہوا کہ معشوق کا سراپا بیان کرتے وقت ترک سپاہیوں اور آلاتِ جنگ کو خاص طور پر ذہن میں رکھا جانے لگا۔یہ وہ دور تھا جب کہ فارسی میں شاعری کی شروعات ہورہی تھی لہذا فارسی شعرا بھی معشوق کے لئے ’’ترک‘‘ استعمال کرنے لگے اور معشوق کے لئے تشبیہات و استعارات آلاتِ جنگ سے متعلق پیش کرنے لگے۔ شبلیؔ نعمانی اس ضمن میں لکھتے ہیں۔

اردو غزل میں تصورِ عشق
.خیالات پر اس کا اثر یہ ہوا کہ عشقیہ شاعری پر بھی یہی رنگ چڑھ گیا۔معشوق کے اوصاف اور سراپا کی تشبیہات اور استعارات میں تمام تر فوجی سامان ہے۔ یہاں تک کہ حسن کا مرقع میدانِ جنگ نظر آتا ہےزلفیں کمندہیں،ابر و خنجر،پلکیں تیر،آنکھیں قاتل وغیرہ وغیرہ…….ان خیالات نے رفتہ رفتہ یہ وسعت حاصل کی کہ غزل کا بڑا حصہ سامانِ جنگ اور قتل و خون کے لوازمات ہیں۔

‘‘( شعر العجم مولانا شبلیؔ جلد چہارم ص 198-197 )مولانا شبلیؔ کے مذکورہ اقتباس کو ذہن میں رکھ کر درجِ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

بھوا ں تیغ ،پلک خنجر، نگاہ تیر
ہے کس کے قتل کا ساماں ہوا ہے ولی ؔ اورنگ آ بادی
بھنویں تنی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
کسی سے آج بگڑی ہے جو یوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
کسی کی شامت آئے گی کسی کی جان جائے گی
کسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں

غرض یہ کہ ہماری عشقیہ شاعری میں خنجر،تلوار،بھالا،برچھی،تیر،نشتر اورانی، نوک کے علاوہ مقتل،خونِ ناحق،زنداں و قفس اور صلیب و دار وغیرہ لوازمات در آئے ہیں۔  جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *