Urdu Afsancha Dhamki By Ameen Uderai

Urdu Afsancha Dhamki By Ameen Uderai

دھمکی

از قلم : امین اڈیرائی

نوید ایک امیر گھرانے کا چشم و چراغ تھا اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ایک متوسط گھرانے کی لڑکی سے کورٹ میں شادی کرلی اور جب وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو لیکر جب عالیشان و محل نما گھر میں داخل ہوا تو ایک کڑاکے دار آواز گونجی
” رک جاؤ “

Urdu Afsancha Dhamki By Ameen Uderai

Urdu Afsancha Dhamki By Ameen Uderai

یہ آواز اس کی والدہ سلطانہ بیگم کی تھی۔ تم نے اپنی خاندانی روایتوں سے بغاوت کی ہے تم اس لڑکی کے ساتھ اس گھر میں نہیں آ سکتے ” لیکن ماں! ” خاموش! تم نے ہماری حسرتوں کا خون کیا ہے اب اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جاؤ چلے جاؤ یہاں سے اور یاد رکھنا میں تمہیں اپنا دودھ کبھی نہیں بخشونگی۔

نوید نے ایک آخری نظر گھر پہ ڈالی اور اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا اس کے دل پر کوئی بوجھ نہ تھا کیونکہ وہ ڈبے کا دودھ پی کر بڑا ہوا تھا

 Ameen Uderai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *