Urdu Afsana Shangal By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal

(اردو افسانہ شانگل (قسط نمبر1

تحریر: قیصر حمید رونجھو

سہہ پہر ڈھل رہی تھی بالاچ کے چہرے پہ سوچ و فکر کے ساۓ گہرے ہوتے جارہے تھے ابھی سورج ڈھلنے اور اندھیرا ہونے میں کافی سمے تھا لیکن بالاچ جو کہ اس علاقے نیا اور اجنبی تھا اسے جلد اپنے رات بسر کرنے کیلیۓ ٹھکانے کی تلاش تھی۔ لیکن پہاڑوں کے بیچ رواں اس کچی بل کھاتی سڑک پر کہیں بھی آبادی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے وہ سوچوں میں گم آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک اسے سڑک کے آس پاس پہاڑی پر بھیڑ بکریاں چرتی نظر آئیں۔

انکے ساتھ کوئی تو ضرور ہوگا اس سوچ نے بالاچ کے تھکے ہوۓ وجود میں توانائی بھر دی اور بالاچ نے گاڑی روک دی اوراترکراطراف کا جائزہ لینے گا۔ اچانک اس کے کانوں میں نغمے کی مدھر سریلی نسوانی آواز آئی وہ جو کوئی بھی تھی پتھر کی اوٹ میں ہونے کی وجہ سے بالاچ کو نظر نہیں آرہی تھی۔ بس آواز سنائی دے رہی تھی جو لمحہ بہ قریب آتی جارہی تھی۔ نغمے کے بول تو بالاچ کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے لیکن لہجے کی مٹھاس اورگانے کا انذار اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔

Urdu Afsana Shangal

وہ جب سامنے آگئ تو بالاچ اسے دیکھتے رہ گیا پہاڑوں کے حسن کی کہانیاں وہ سن چکا تھا لیکن آج حقیقت بن کر اسکی آنکھوں کے سامنے تھا۔ لڑکی کی نظر جیسے ہی بالاچ پر پڑی وہ ٹھٹھک کررک گئ اور گھور گھور کر بالاچ کی جانب دیکھنے لگی جو کہ اس اپسرا کی حسن میں مہبوت ہوکر رہ گیا تھا۔

کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو ! لڑکی کی آواز جب اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ اپنے حواس میں لوٹ آیا۔ میں مسافر ہوں مجھے آج رات رہنے کیلیۓ ٹھکانہ چائیے، آس پاس کوئی آبادی ہے تو مجھے بتا دیجیۓ۔ بالاچ ایک سانس میں سب کچھ کہہ کر دوبارہ لڑکی کے سراپے میں گم ہوگیا۔ اس پہاڑی کے پیچھے گاؤں ہے تم وہاں چلو تو تمھیں رات گزارنے کے لیۓ جگہ مل جاۓ گی۔

Urdu Afsana Shangal

لڑکی کی آواز سن کر بالاچ نے نظر دوڑائی جہاں وہ اشارہ کر رہی تھی۔ بالاچ واپس مڑا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی آگے بڑھا دی لڑکی اب تک اس کے حواسوں پہ چھائی ہوئی تھی وہ خود سوچنے لگا کہ اسے کیا ہورہا ہے۔ بالاچ نے گاڑی لڑکی کے بتاۓ ہوۓ رستے پر موڑ دی لیکن اس کے دماغ میں ابھی تک لڑکی کا سراپا گھوم رہا تھا۔ مصعوم چہرے پر بلا کی سادگی پریوں کو مات دے رہی تھی۔

بالاچ سوچوں کے بھنور میں ڈھولتا بستی تک پہنچ گیا جھونپڑے نما مکانات جنکی دیواریں پتھر کی تھیں، چھت لکڑی اور گھاس کے موڑھے سے بنائی گئ تھی۔ جھونپڑوں کے باہر ننگ دھڑنگ بچے نجانے کونسا کھیل کھیلتے ہوۓ شور مچا رہے تھے بالاچ اب گاڑی روک کر ان بچوں کو دیکھ رہا تھا جو اپنا کھیل روک کر گاڑی کے آس پاس جمع ہو چکے تھے۔ بالاچ بچوں سے کچھ کہنا چارہا کہ سامنے والی جھونپڑی سے ایک بزرگ جنکے سر اور داڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے لاٹھی ٹیکتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔

Urdu Afsana Shangal

بالاچ جلدی سے گاڑئ سے اتر کر آنے والے بزرگ کی طرف بڑھا اور سلام کیا بزرگ نے سلام کا جواب دیا اور بالاچ کا ہاتھ چوم لیا۔ بالاچ نے جلدی اپنی کتھا بزرگ کے گوش گزار کر دی، سن کر بزرگ بالاچ کو لیکر ایک طرف بڑھ گیا بالاچ نے اپنے اطراف میں نظر دوڑائی تو اسے چھوٹے چھوٹے بچوں کے علاوہ چند عورتیں نظر آئی۔ بزرگ ایک جھونپڑے کے اندر پہنچا اور بالاچ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا بالاچ کے بیٹھتے ہی وہ بزرگ باہر نگل گیا۔

تھوڑی دیرمیں واپس آیا تو اس کے ہاتھ پانی کا چھوٹا مشکیزہ اور کٹورا تھا، کٹورا بھر کر اس نے بالاچ کو تھما دیا بالاچ نے کٹورا منہ سے لگا کر ایک سانس میں ختم کردیا۔ بزرگ نے دوبارہ کٹورا بھر کے اسکے ہاتھ میں تھما دیا تو بالاچ نے ایک دو گھونٹ بھر کر کٹورا رکھ دیا۔ بزرگ پانی پلانے کے بعد واپس جھونپڑے سے باہر نکل گیا تھوڑی دیر میں واپس آیا تو اس کے ساتھ ادھیڑ عمرکی عورت تھی۔

Urdu Afsana Shangal

عورت کے ہاتھ میں بڑی سی چاۓ کی کیتیلی اور پیالے تھے جو رکھ کر بالاچ کو سلام کیا بالاچ کا ہاتھ چوم لیا۔ پھر چاۓ پیالے میں بھر کر بالاچ کو تھما دی اور دوسرا پیالا اس بزرگ کو دے کر باہر نکل گئ بالاچ چاۓ پینے لگا۔ شام کے ساۓ اب بڑھتے جارہے تھے کیونکہ پہاڑوں میں جلد رات گہری ہوجاتی ہے۔ جھونپڑے کے باہر بچوں کا شور تھا ساتھ ساتھ عورتوں کی باتوں کی آوازیں بھی آرہی تھی۔

کہ بالاچ کی سماعت سے وہی سریلی آواز ٹکرائی جو راستے میں اس نے سنی تھی وہ لڑکی بھی اب ریوڑ لیۓ آ پہنچی تھی بالاچ کا دل چاہا کہ وہ باہر نکل کر اس لڑکی کو دیکھے لیکن بالاچ نے بہ زور جبر اپنی خواہش کا گلہ گھونٹ دیا کیونکہ پاس بیٹھے ہوۓ بزرگ بیچ میں حائل تھے۔ کچھ دیر بعد باباجی باہر چلے گۓ اب چارسواندھیراچھا گیا تھا وہ لڑکی پوری طرح سے بالاچ کے حواسوؤں پہ چھائی ہوئی تھی۔

Urdu Afsana Shangal

اور ابھی بھی اسکی سریلی اور مدھر آواز کی جھنکار بالاچ کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بابا جی ہاتھ میں لالٹین لیۓ چلے آۓ لالٹین کا لپکتا ذرد شعلہ اندھیرے کو نگلنے کی کوشش میں تھا۔ تھوڑی دیرمیں مختلف عمروں کے چند مرد داخل ہوۓ اور بالاچ کو سلام کیا بالاچ بھی اٹھ کر ان سے ملنے لگا وہ بڑے پرتپاک سے بغلگیر ہوکر بالاچ سے ملے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔

اتنے دیر میں بابا جی فرش پر دسترخوان بچھا چکے تھے دو عورتوں نے کھانا لگا دیا ، جوار کی روٹی ، گوشت کا سالن اور بڑے جگ میں چھاچھ تھی۔ جوار کی روٹی اور چھاچھ بالاچ کے لیۓ نئی غذا تھی لیکن جب کھانا شروع ہوا تو بالاچ نے پیٹ کر کھایا اور کھانا اس کے اندازے سے بہت زیادہ لزیذ تھا۔ کھانے کے بعد چاۓ کا دور شروع ہوا وہی بڑی کیتلی آگئ بالاچ کھانے کے بعد چاۓ کا عادی تو نہیں تھا لیکن ان لوگوں کے خلوص کے آگے انکار نہ کرسکا۔

اچانک بابا جی کی آواز آئی جو بالاچ سے مخاطب تھا کہ ! بیٹا اپنے بارے میں کچھ بتاؤ کون ہو، کہاں سے آۓ ہو اور آنے کا مقصد کیا ہے ؟ باباجی خاموش ہوا باقی کے بیٹھے لوگ بھی خاموش ہوکر بالاچ کو تکنے لگے، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اپنی رام کہانی شروع کرو۔ بالاچ نے بولنا شروع کیا ! باباجی میرا نام ہے بالاچ ہے اور سون پور کے سردار روئیداد خان کا بیٹا ہوں۔ ویسے تو میں قاہرو کوٹ شہر کے مدرسے میں پڑھتا ہوں لیکن ابھی چھٹیوں میں اپنے گھر آیا ہوں۔

Urdu Afsana Shangal

اور گھومنے پھرنے نکلا ہوں قسمت آپ لوگوں کے پاس لے آئی۔ بالاچ جیسے رکا بابا جی نے جھٹ سے سوال کیا ! کیا تم سردار روئیداد خان کے بیٹے ہو؟ بالاچ نے جواب دیا! جی بابا جی اچانک ماحول پر سناٹا چھا گیا سب لوگ خاموش تھے بالاچ باری باری سب کے چہروں کو ٹٹولنے لگے جیسے کسی چیز کو کھوج رہا ہو لیکن وہاں پر سوچ اور پریشانی کی گہری پرچھائیوں کو دیکھ کر بالاچ حیران ہوگیا کہ آخر کیا ہوا ؟؟

چند لمحوں میں ہی سب لوگ اٹھ کر چلے گۓ اور بابا جی نے انکے لیۓ فرش پر بستر لگا کر سونے کیلیۓ کہا اور خود بھی باہر نکل گیا بالاچ اس اچانک رونماء ہونے والی تبدیلی پر حیران تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *