Urdu Afsana Shangal Last Episode By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Last Episode

(اردو افسانہ شانگل (آخری قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

ٹکری شاہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ سون پور پہنچ گیا کیونکہ وہ اب سردار بالاچ خان کا مشیر خاص تھا۔ سرداربالاچ خان نے شاہ مراد کی واپس کے دن انگلی پرگن کر پورے کیئے تھے شانگل کی دید کے لیے اسکی آنکھیں بیقرار ہوچکی تھی۔ آخر وہ گھڑی وہ لمحہ آن پہنچا جب شانگل اسکے سامنے تھی لیکن شانگل کے چہرے پر بالاچ کو دور دور تک خوشی کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ اسے فکر لاحق ہوگئی کے آخر کیا ماجرا ہے۔

سردار بالاچ خان کے من میں یہ بات آگئی کہ ہو نہ ہو شانگل اپنی بستی کی جدائی میں افسردہ ہے۔ وہ جلد شانگل سے تنہا ملنے کے لیے بیتاب تھا۔ سون پور میں آۓ شانگل کودودن ہو چکے تھے بالاچ کی نگاہوں میں اپنے لیے والہانہ پیار شانگل سے پوشیدہ نہ تھا اور ساتھ ساتھ بالاچ کے چہرے پرسوچ کی پرچھائیوں کو بھی شانگل بخوبی دیکھ رہی تھی بالاچ نے انکے لیے اچھا بندوبست کیا تھا شانگل کے لیے سب کچھ نیا تھا۔ عالیشان سجا ہوا مکان اور کام کیلیۓ نوکر چاکر وہ سب لوگ مزے میں تھے۔

Urdu Afsana Shangal Last Episode

ان لوگوں کو یہاں آئے ہوئے تیسرا دن تھا جب شام کو وہ گھر میں اکیلی تھی باباجی اور چاچا تو صبح سے کہیں چلے گئے تھے۔ اماں اور چاچی حویلی میں بی بی جی کے پاس گئیں تھیں کہ سردار بالاچ خان چلا آیا۔ بالاچ کو دیکھ کرعجیب کشمکش میں مبتلا ہوگئی سوچ رہی تھی کے کیسے وہ انکا سامنا کرئے۔ بالاچ نے اسے مخاطب کیا شانگل تمھیں یہاں آکر خوشی نہیں ہوئی کیا۔ شانگل سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی بالاچ اسکے سامنے اس سے مخاطب تھا۔

بولو شانگل تم چب کیوں ہو؟ کیا بات ہے تم کچھ پریشان نظر آرہی ہو؟ سردار بالاچ خان دوبارہ گویا ہوئے۔ شانگل سوچ رہی تھی کہ آج وہ اس سے دوٹوک بات کر لے گی تاکہ اسے بھی اپنے باپ روئیداد خان کے کالے کرتوتوں کا علم ہوجائے۔ بابوجی! میں غلط تھی اسوقت جانے بغیر کے آپ کون ہو کہاں سے آئے ہو میں بہک گئی تھی۔ لیکن اب مجھے حقیقت کا پتہ چل چکا ہے کہ آپ کون ہو۔ شانگل نے آہستہ سے لب کشائی کی۔ کونسی حقیقت شانگل!

Urdu Afsana Shangal Last Episode

بابوجی ! سردار روئیداد خان کو تو جانتے ہونگے آپ۔ ہاں جانتا ہوں! بالاچ نے جواب دیا۔ تو یہ بھی جانتے ہو کہ روئیداد خان نے ہمارے اوپر کیسا ظلم کیا۔ تو اسکے بیٹے سے میں کیا امید کروں؟ شانگل نے بالاچ خان سے سوال کیا۔ شانگل! لیکن میرا کیا قصور میں نے کچھ نہیں کیا تو تم مجھے اورمیری محبت کو کیوں ٹھکرا رہی ہو۔ بابوجی اب مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا میں کسی طور آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھ سکتی۔ سردار بالاچ خان کو جواب دے کر شانگل اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

بیٹھو شانگل! مجھے تم سےکچھ کہنا ہے سرداربالاچ خان نے شانگل کو واپس بیٹھایا اور پوری داستان خراسان بھیجنے سے لیکر اپنا گھر چھوڑنے تک سنا دی۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے اورکوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اتنا یاد رکھنا کہ بالاچ نے کل بھی تمھارے لیے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور آج بھی تمھیں پانےکے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ سردار بالاچ خان اپنی بات ختم کرتے ہی اٹھا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔

Urdu Afsana Shangal Last Episode

شانگل ابھی تک اسی جگہ کو تک رہی تھی جہاں تھوڑی دیر قبل بالاچ بیٹھا ہوا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے وہ بالاچ کی محبت پرایمان لے آئی تھی۔ غلط فہمی سے جنہم لینے والی نفرت بالاچ کی سچی محبت کی شدت سے پگھل کرآنسوؤں کی صورت میں بہہ رہی تھی۔ شانگل جیسے حساس طبع لوگ دل میں زیادہ دیر کدورتوں کو نہیں پالتے۔ شانگل کے گھر سے نکل کرسردار بالاچ خان ڈیرے پر پہنچا۔ ٹکری شاہ مراد نے اسکے تیور دیکھ کر بھانپ لیا تھا کہ ضرور کوئی بات اسکے مزاج کے خلاف ہوئی ہے۔

آج سردار بالاچ خان کو اپنے حواس شل ہوتے محسوس ہورہے تھے۔ اس لیے جلدی حویلی کا رخ کیا۔ بی بی جی کے پاس عورتیں بیٹھی ہوئی تھی تو وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازے کو اندر سے کنڈی لگا کر ٹہلنے لگا۔ شانگل اسکی نس نس میں سما چکی تھی اب اس سے دوری بالاچ کو اپنی موت لگ رہی تھی۔ آج ایک بارپھر اسے اپنے والد سردارروئیداد خان کے لیے نفرت سر اٹھا رہی تھی جسکی وجہ سے وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی شانگل کی نظر میں مجرم ٹھہرا تھا۔

Urdu Afsana Shangal Last Episode

سردار روئیداد خان کی موت کے بعد اس نے پچھلی باتوں کو یکسر بھلانے کی کوشش کی تھی لیکن آج شانگل نے پھر سے یاد دلا دی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کس طرح شانگل کو منائے اسکے زخم اتنے گہرئے تھے کہ سالوں بیت جانے کے باوجود دل سے لگائے بیٹھی تھی۔ کتنی دیر وہ کمرے میں ادھر ادھر ٹہلتا رہا اچانک دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے سوچوں کے بھنور سے باہر نکالا۔ تھوڑی دیر رک کر اس نے اپنی حالات درست کی اور دروازہ کھولنے لگا۔

جیسے ہی بالاچ نے دروازہ کھولا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی اس یقین نہیں ہورہا تھا کہ حقیقت ہے یا کوئی خواب۔دروازہ کے بیچ شانگل کھڑی تھی جھکی پلکوں سے موتیوں کی لڑیاں رواں تھی۔ بالاچ گینگ کھڑا شانگل کو گھور رہا تھا کہ شانگل بڑھ کہ بالاچ کے وجود میں سمٹ گئی۔ بابوجی مجھے معاف کردینا میں نے غلط سمجھا آپکو، مجھے معاف کردینا بالاچ کی بانہوں میں شانگل کا سسکتا وجود معافی مانگ رہا تھا۔

Urdu Afsana Shangal Last Episode

بالاچ کو ایسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اسکی پیاسی روح کے صحرا میں پھوار برس رہی ہو! کافی دیر بعد جب جذبات کا دریا کچھ سرد تو بالاچ نے شانگل کو خود سے الگ کیا اور اسکے آنسو پونچھے۔ بابوجی میں آپکے بغیرنہیں رہ سکتی مجھے اپنا نام دے دو میں آپ ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ شانگل کا کھلا اعتراف بالاچ کےغصے کوجذب کرچکا تھا۔ دونوں پریمی عہدوپیماں میں مگن تھے۔ انہیں پتہ نہ چلا کہ کب بی بی جی (بالاچ کی والدہ) آکر دروازے پر کھڑی انکو دیکھ رہی تھی۔ ہوش تب آیا جب بی بی جی نے آگے بڑھ کر دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھے۔ وہ چونک کر ایک دوسرے کو دیکھنے۔

Urdu Afsana Shangal Last Episode

شانگل کے چہرے پر حیا کے ڈورے تیرنے لگے۔ میرے بچو! اللہ تم دونوں کو سدا سکھی رکھے میں کل ہی شانگل بیٹی کے گھر والوں سے بات کرتی ہوں۔ بی بی جی مخاطب ہوئیں۔ شانگل وہاں سے بھاگ گئی بی بی جی کافی دیر بالاچ سے بات کرتی رہی اورآخر وہ بھی چلی گئیں بالاچ خدا کے حضور سجدہ ریز ہوگیا کہ اسے اسکی محبت واپس مل گئی اورجلد وہ ہمیشہ کیلیۓ اس کے پاس ہوگی۔ بی بی جی نے شانگل کے گھر والوں سے بات کی تو وہ لوگ خوش ہوگئی انکے کیلیۓ فخر کی بات تھی ساری زندگی جھونپڑی میں گزارنے والی انکی بیٹی حویلی کی مالکن بنے گی۔

شانگل اور بالاچ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ان دونوں نے ایک دوسرے کو پا لیا تھا باقی دنیا کا کوئی ہوش نہ تھا۔ کچھ عرصے بعد بالاچ بڑی دھوم دھام سے شانگل کو بیاہ کر حویلی لے آیا۔ یوں پہاڑوں سے شروع ہونے والی محبت آج حقیقت بن گئی۔
(ختم شد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *