Urdu Afsana Shangal Episode 8 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Episode 8

(اردو افسانہ شانگل (آٹھویں قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

آہوں اور سسکیوں میں روئیداد خان کی تدفین ہوگئی۔ سون پور کے لوگ سردار کی موت کا بدلہ لینے کیلیۓ بیتاب ہورہے تھے۔لیکن اس سے پہلے مشیرومعتبرین بالاچ خان کی پگ بندی کے منتظر تھے تاکہ باقاعدہ اسکی سرداری کا اعلان ہوسکے۔ کمسن بالاچ خان سون پور کا نیا سردار تھا لیکن رسمی کاروائی ابھی باقی تھی۔ سردار روئیداد خان کی موت کے تیسرے دن بالاچ خان کے سرپر سرداری کا تاج سجایا گیا۔

ٹکری شاہ مراد اسکے ساتھ تھا حالانکہ وہ تدفین کے فورا بعد واپس جانا چاہتے تھے لیکن سردار بالاچ نے زبردستی روک لیا تھا۔ رات ہوئی تو سب لوگ اٹھ کر چلے گئے سردار بالاچ خان ڈیرے پر ہی اپنے کمرۂ خاص میں براجمان تھےجواس سے قبل اسکے والد سردار روئیداد خان کے زیرِاستعمال تھا۔ سردار بالاچ خان نے ٹکری شاہ مراد کو اپنے پاس بلا لیا۔ شاہ مراد کمرے میں پہنچا تو بالاچ نے آگے بڑھ کر اسکا سواگت کیا شاہ مراد نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دعا دی۔

Urdu Afsana Shangal Episode 8

دونوں اپنی اپنی جہگوں پر بیٹھ گئے۔ تو سردار بالاچ خان بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہ مراد سے مخاطب ہوئے۔ بابا جی! آپکو لوگوں کے تاثرات کا علم ہے وہ لوگ چاہتے ہیں کہ مقتولیں کا بدلہ لینے کیلیۓ سنگور پرحملہ کیا جائے اور آپکو میں نے اسی سلسلے میں بلایا ہے تاکہ آپ سے مفید مشورہ لے سکوں۔ بالاچ خان بات ختم کرکے ٹکری شاہ مراد کی طرف دیکھنے لگے۔ کچھ دیر کے توقف کے بعد ٹکری شاہ مراد کی آواز آئی !

بالاچ بیٹا اس سلسلے میں آپ نے خود کیا سوچا ہے؟ باباجی میراجنگ، خون فساد کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بالاچ بیٹا اگرحقائق پر نظر ڈالی جائے تو آپکےوالد نے جرگے کے فیصلے کی خلاف ورزی کرکے محبت خان پر حملہ کیا اور بدقسمتی سے اپنی جان گنوا بیٹھا، اس لیے پہلے سے قبائلی جرگے کے شرکاء اس اقدام کے خلاف ہیں۔ اب دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا فیصلہ کچھ بھی ہو لیکن جرگے کی ساری ہمدردیاں محبت خان کے ساتھ ہونگی۔ باقی آگے آپکی اپنی مرضی ہے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 8

آپکی قوم کی کیا رائے ہے وہ آپ سے کیا توقع کر رہے ہیں۔ وہ الگ بات ہے۔ ٹکری شاہ مراد خاموش ہوئے تو سردار بالاچ خان کہنے لگے! بابا جی آپکا مشورہ مجھے بیحد پسند آیا ہے میں کل ہی مشیروں اور معتبرین۔ سون پورکو ڈیرے پربلا کر بات کرتا ہوں اوراسکے علاوہ کچھ اور فیصلے کرنے ہیں اسکے لیے آپکا میرے ساتھ موجود رہنا بیحد ضروری ہے۔ سردار بالاچ خان ڈیرے پر اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اسکے ساتھ ہی ٹکری شاہ مراد بھی بیٹھا تھا۔ سون پور کے تمام معتبر و معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

سردار بالاچ خان مخاطب ہوئے ! میں نے تم سب کو اس لیے بھلایا ہے کہ کچھ دن قبل رونماء ہونے والے واقعے میں پریامرس اللہ داد اور بابا سائیں کی غلطی تھی اوراسوجہ نہ صرف وہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ سنگور کے سردار محبت خان سے بھی دوشمنی پیدا ہوگئی۔ اسکے علاوہ قبائلی جرگے کے فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے بھی ناراض کر دیا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس معاملے کو یہیں پر ختم کر دیتے ہیں۔

Urdu Afsana Shangal Episode 8

اسکے ساتھ ساتھ میں نے ٹکری شاہ مراد کو اپنا مشیر خاص مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سے ٹکری شاہ مراد مشیر بن کر ہمارے ساتھ ہونگے۔ سب لوگ اٹھ کر ٹکری شاہ مراد کو سردار کا مشیر خاص مقرر ہونے کی مبارک باد دینے لگے۔ کچھ لوگ جواپنے آپکو اس منصب کیلیۓ موزوں سمجھ رہے تھے انکی امیدوں پر پانی پھیر گیا لیکن سردار کے فیصلے کے بعد وہ لوگ خاموش ہوگئے۔

کچہری برخاست ہوئی تو سردار بالاچ خان اپنے کمرے میں پہنچے ٹکری شاہ مراد بھی ساتھ تھے۔ بالاچ بیٹا آپ نے یہ کیسا فیصلہ کیا ہے؟ کیوں باباجی آپکو اس فیصلے پر اعتراض ہے؟ بالاچ نے سوال کیا! بیٹا بات یہ ہے کہ جو پہلے سے آپکے والد سائیں کے ساتھ تھے ان میں سے کسی کو منتخب کرنا تھا اور اسکے علاوہ میرا گھر بار وہاں پر ہے میں تو اکیلا یہاں نہیں رہ سکتا۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 8

باباجی اب تو میں فیصلہ کرچکا ہوں میں نے آپ سے پہلے مشورہ اسی لیے نہیں کیا تھا کہ میں جانتا تھا کہ آپ کبھی نہیں مانو گے۔ ایک اور بات میں نے سوچ رکھی ہے کہ آپ اپنے گھر والوں کو یہاں لے آؤ۔ آپ آج ہی واپس جاؤ اور ایک دو دن میں سب کو لیکر یہاں آؤ۔ بابا جی جب میں گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرکے آپکے پاس آیا تھا تو مجھے یقین تھا کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے اورآج بھی اسی یقین کے ساتھ میں نے فیصلہ کیا ہے اور اس میں رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سردار بالاچ خان کی بات سن کر ٹکری شاہ مراد خاموش ہوگئے۔ ٹکری شاہ مراد کو سردار بالاچ خان کے فیصلے نے عجیب دورائے پر لاکھڑا کردیا تھا۔ وہ واپس اپنے گھر پہنچا تو سب لوگوں نے اس طرح اچانک چلے جانے کی وجہ پوچھی تو ٹکری شاہ مراد نے ساری رام کہانی گھر والوں کے گوش گزار کردی۔ شانگل اپنے محبوب بالاچ کے اس طرح اچانک غائب ہونے سے کافی پریشان ہوگئی تھی اسے تو پہلے ہی کسی پل قرار نہیں تھا کہ بالاچ دوگھڑی تسلی دے کر غائب ہوگیا ابھی اس نے اپنے تشنہ دید کی پیاس نہیں بجھائی کہ پھر سے جدائی اس کے نام کر گیا۔

اب کی بار تو کچھ خبر نہ تھی اچانک کہاں چلا گیا اوراس کے باباجی بھی غائب تھے۔ شام کو جب پہاڑوں سے ریوڑ کو لیکر بستی پہنچی تو باباجی پر نظر پڑی اسکے ساتھ بالاچ کی واپسی کی امید سر اٹھانے لگی۔ لیکن بالاچ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ رات کو سب لوگ کھانا کھا کر بیٹھے ہوئے تھے باباجی نے سب کو سردار بالاچ خان کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ شانگل باباجی کی بات سن کر ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی کہ بالاچ سردار روئیداد خان کا بیٹا ہے۔

جو اسکے خاندان کی کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ دکھ کی لہر اسکی رگ وپے میں دوڑنے لگی اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔ اسکی آنکھوں میں اپنے بابا، چاچا اور پھپھو کی لاشیں گھومنے لگیں، اسے اپنی ماں کے چہرے پردکھ کی وہ پر چھائیاں نظر آنے لگیں جو بھری جوانی کی بیوگی نے اسکے چہرے پررقم کردی تھیں۔ وہ ساری رات اپنے بستر میں آنسو بہاتی رہی۔ اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ایک طرف بالاچ کی والہانہ محبت تھی اور خود شانگل بھی اسے ٹوٹ کر چاہنے لگی تھی اور اسکے بغیر اسے زندگی ادھوری لگ رہی تھی۔

تو دوسری طرف اسے اپنے پیاروں کی لاشیں نظرآرہی تھی فیصلہ کرنا اسکے لیے مشکل ہوگیا۔ ٹکری شاہ مراد نے سون پور جانے کی تیاریاں شروع کر دیں ایک دو دن تمام ضروری اقدامات میں لگ گئے کئی لوگ اس فیصلے کی مخالفت کررہے تھے لیکن وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔

شانگل کوایک چپ سی لگ گئی تھی اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بالاچ کو یکسر بھلا چکی تھی اس نے عہد کر لیا کہ وہ کسی طور بالاچ سے کوئی تعلق نہیں رکھے گی۔ صبح سے شام تک چپ چاب آنسو بہاتی رہتی اس بات سے بے خبر کہ باباجی کیا فیصلہ کر چکے ہیں اور قسمت اسکے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے

Urdu Afsana Shangal Episode 8

سردار بالاچ خان کو ٹکری شاہ مراد کی واپسی کا شدت سے انتظار تھا۔ ڈیرے کے ساتھ ہی ایک مکان کو آرائستہ کرکے ضرورت کی ہر چیز مہیا کر دی گئی تھی۔ شانگل کی یاد اسے کسی پل چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی۔ شانگل کی محبت میں پور پور ڈوبا سردار بالاچ خان ٹکری شاہ مراد کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ ادھر ٹکری شاہ مراد بھی اپنے مختصر گھر بارکو سمیٹ کر سون پور جانے کی تیاریوں میں تھا اسکے فیصلے کی سب نے مخالفت بھی کی تھی لیکن وہ اپنی بات پر قائم رہا۔

شانگل یہ سب چپ چاپ دیکھ رہی تھی۔ وہ ہر وقت چپ بیٹھی گہری سوچوں میں گم قسمت کے بھنور میں ڈولتی اپنی زندگی کے سفینہ کو کنارے پر لانے کیلیۓ کوشاں تھی۔ یوں تو اسکی زندگی رنگ و بو سے مبرا انہی پہاڑوں میں گزری تھی لیکن بالاچ کی آمد ایک خوشبو کے جھونکے کی طرح اسکی زندگی میں بہار کا پیام لائی تھی۔ بالاچ کی محبت نے زندگی کے رنگ آشکار کر دیئے تھے۔ وہ محبت کی پرخار راہ پر ننگے پاؤں دور تک چلی آئی تھی۔ لیکن جب اسے پتہ چلا کہ بالاچ اسی روئیداد خان کا بیٹا ہے جس نے انکے ہنستے بستے گھروندے کو غموں کے گہرے ساگر میں ڈبو دیا تھا۔

تو بالاچ کی یاد کے ساتھ ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اسکے بابا، پھپھو اور چاچا کی لاشیں گھومنے لگتیں، اسے رات کی تنہائیوں میں اپنی ماں کا سسکنا اور دادا کے چہرے پر رقم درد کی کہانیاں سر ابھارنے لگتی۔ اس نے عہد کر لیا کہ وہ بالاچ سے کوئی تعلق نہیں رکھے گی بلکہ اسے بھلا دے گی۔ لیکن معصوم شانگل یہ نہیں جانتی تھی کے محبت کی آکاس بیل اگر وجود سے لپٹ جائے تواسے نچوڑ کر ہی دم لیتی ہے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 8

اور شانگل کے وجود کو بھی محبت کی آکاس بیل نے پوری طرح سے لپیٹ میں لے لیا تھا وہ آکاس بیل اب شانگل کے لہو کو چوس کر پروان چڑھ رہی تھی۔ آخر وہ گھڑی آن پہنچی جب ٹکری شاہ مراد اپنے گھر والوں کے ساتھ اس بستی کو الوداع کہہ کر سون پور کیلیۓ روانہ ہوا۔ سب لوگ اداس تھے بستی سوگوار نظر آرہی تھی۔

سفر شروع ہوا تو شانگل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اس بستی سے جدائی پریا اپنی بے بسی پر لیکن آنسوؤں رواں تھے۔ بچپن سے آج تک وہ اس بستی سے باہر نہیں نکلی تھی۔ کبھی کبھی اسکا دل تو چاہتا تھا کہ وہ بھی باہر کی دنیا کو دیکھے اور آج وہ اس بستی سے نکل چکی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *