Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

(اردو افسانہ شانگل (ساتویں قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

شانگل سے ملنے کے بعد بالاچ بستی کی جانب روانہ ہوا۔ باباجی سے مل کر بالاچ کی تھکاوٹ دور ہوچکی تھی۔ باباجی کی جہاندیدۂ نظروں نے بھانپ لیا کہ کوئی بات ضرور ہے تبھی بالاچ اتنی جلدی واپس لوٹ آیا ہے۔ لیکن چپ رہا کیونکہ بالاچ انکا مہمان تھا۔ رات کھانے کے بعد باتوں کا دور چلا تو بالاچ نے باباجی سے بات کرنے کی ٹھانی۔ باباجی! بالاچ ٹکری شاہ مراد سے مخاطب ہوا۔

جی بیٹا کہو کیا کہنا ہے کوئی پریشانی ہے ؟ باباجی نے جواب دیا۔ باباجی وہ دراصل بات یہ ہے کہ اس رات میں نے آپ لوگوں کی ساری بات سن لی تھی۔ بیٹا کونسی باتیں ؟ باباجی چونک اٹھے۔ جب آپکا بیٹا مجھے مارکر میرے باپ سردار روئیداد خان سے اپنا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ مجھے سب کچھ پتہ چل چکا ہے اپنے باپ کے کالے کرتوتوں کا۔ وہ انسان نہیں حیوان ہے مجھے اس سے نفرت ہوچکی ہے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

میں جب یہاں سے واپس سون پور اپنے گھر پہنچا، اسے پتہ چلا کہ میں آپکے پاس ٹھہرا ہوا تھا تو اس نے مجھے پڑھائی کے بہانے خراسان بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ میں یہاں سے دور چلا جاؤں۔ اسے ڈرتھا کہ کہیں میں واپس آپ لوگوں کے پاس نہ جاؤں اور آپ لوگ مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔ میں خراسان جانا نہیں چاہتا تھا اورگھر میں رہتا تو مجھے زبردستی وہاں بھیج دیتے۔ اور میرے پاس ایسی کوئی جگہ نہ تھی جہاں میرا باپ مجھے ڈھونڈ نہ سکے۔ کافی سوچ و بچار کے بعد مجھے آپکا خیال آیا یہاں پر وہ نہیں آسکتا کیونکہ اسے آپ لوگوں کا خوف ہے۔

اب گھر چھوڑ کر آیا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کیلیے آپکے پاس۔ مجھے اب اس شخص سے نفرت ہوگئی ہے جو تین تین معصوم انسانوں کا قاتل ہو۔ ایسے وہ نجانے کتنے گناہ کرچکا ہوگا۔ اللہ کے بعد میں آپ کے بھروسے پرآیا ہوں آپ مجھے انسان نہیں فرشتہ لگے تھے اس رات جس طرح آپ اپنے بیٹوں کے سامنے آگئے یہ کام کوئی اورکر ہی نہیں سکتا۔ آپکے تین معصوم اور بیگناہ بچوں کے قاتل کا بیٹا آپکے سامنے تھا بجائے اسے سزا دینے کے آپ نے نہ صرف میری جان بچائی بلکہ اپنے دشمن کے بیٹے کی اتنی خاطر مدارت بھی کی۔

بالاچ نے ساری کہانی باباجی کو سنا دی جو خاموشی سے سن رہا تھا اوراسکے ساتھ بیٹھے باباجی کا بیٹا اور بستی کے باقی افراد بھی حیرانگی سے بالاچ کی داستان کو سن رہے تھے۔ کچھ دیر ماحول پرسناٹا طاری رہا۔ ایک شخص نے اٹھ کر مشکیزے سے پانی کا کٹورا بھر کر بالاچ کے ہاتھ میں تھما دیا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

قبائلی جرگے کے ممبران اورجنگ زدہ علاقوں کے سرداران بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ سردار روئیداد خان کے ساتھ پریامرس عارب کا بیٹا پریامرس اللہ داد بیٹھا ہوا تھا۔ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جرگہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سنگور کے سردار محبت خان کو سون پور کے مقبوضہ علاقے خالی کرکے جنگ بند کرنے کا حکم دیا۔ سردارروئیداد خان کا لشکر پہلے ہی روانہ ہوچکا تھا۔ جب سردار محبت خان کنڈیری کے مقام پر پہنچا تو پہاڑوں سے اس پر حملہ ہوا وہ بے خبر تھا اس اچانک حملے سے حواس باختہ ہوگیا۔

لیکن کافی دیر تک اسکے آدمی لڑتے رہے۔ وہ جان گیا کہ یہ سردار روئیداد خان کی چال ہے اور شاید وہ پہلے سے تیاری کرکے آیا تھا۔ اس لیے سردار محبت خان نے اپنے ساتھوں کے ساتھ محفوظ غار میں پناہ لی۔ اوراپنے بھائی سے کچھ صلح و مشورہ کرکے سنگور بھیج دیا خود سردار روئیداد خان کے حملہ آوروں کا سامنا کرنے لگا۔ سردارمحبت خان نے کافی دیر سون پوری حملہ آوروں کو الجھائے رکھا۔ روئیداد خان نے جب دیکھا کہ محبت خان دفاعی پوزیشن لے چکا ہے اوراب اسے چھیڑنے میں نقصان کا اندیشۂ ہے تو اس نے اپنے ساتھیوں سے گھیرا ختم کرکے آگے بڑھنے کے لئے کہا تاکہ جلد سے جلد دور نکل سکے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

وہ پہاڑوں میں آگے بڑھتے رہے اب وہ سون پور کے قریب پہنچ چکے تھے اور یہاں سے سون پور اور سنگور کی سرحدیں ملتی تھیں۔ اچانک سردار روئیداد خان کے لشکر کے سامنے گھوڑ سوار آئے اور حملہ کردیا۔ اس اچانک کے حملے سے سنبھل نہ پایا تھا کہ پیچھے سے سردار محبت کا لشکر بھی آپہنچا۔ اب سردار روئیداد خان کے راستے بند ہوچکے تھے اسکے پاس لڑنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

سردار روئیداد خان، سردار محبت خان کی چال کو سمجھ نہ سکا جب روئیداد خان نے اس پر حملہ کیا تو اس نے بھائی کو سنگور روانہ کیا تاکہ وہ تیاری کرکے آگے راستے میں روئیداد خان پر حملہ کرئے اور محبت خان خود بھی اسکا پیچھا کرتا ہوا آئے گا اور دونوں طرف سے حملہ کریں گے۔ اس وقت سردار روئیداد خان کے سامنے محبت خان کا بھائی کھڑا تھا اور پیچھے خود سردار محبت خان۔ اس نے جلدی بازی کرکے خود اپنے لیے مصیبت کھڑی کردی تھی اسے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔

اسکی آنکھوں کے سامنے اسکے جانثار گرتے رہے ، پریامرس عارب خان کا بیٹا پریامرس اللہ داد جو اپنے باپ کا بدلہ لینا چاہتا تھا اس صورتحال سے بوکھلا گیا تھا تاہم سردار روئیداد خان کے پہلو میں اسکی ڈھال بنا جوان مردی سے لڑ رہا تھا۔ میدان میں سون پوری لشکر کی لاشیں اور زخمی پڑے تھے۔ آخر کار سنگور کا لشکر سردار روئیداد خان کی ڈھال پریامرس اللہ داد تک پہنچ گیا تھوڑی دیر میں پریامرس اللہ اپنے باپ کے بدلے کی حسرت لیئ ابدی نیند سوچکا تھا۔

اب باری سردار روئیداد خان کی تھی اسکے سبھی جانثار ایک ایک کرکے گرتے رہے۔ سنگور کے ایک حملہ آور نے آگے بڑھ سردار روئیداد خان کا کام تمام کردیا۔ سردار روئیداد کی موت کے ساتھ ہی جنگ کا فیصلہ ہوچکا اور سنگور کا لشکر فاتح بن کر تیزی سے واپس سنگور کی جانب روانہ ہوچکا تھا۔ سردارروئیداد خان اور اسکے ساتھیوں کی لاشیں پہاڑوں کے بیچ بے یارو مددگار پڑی تھی ایک عرصے تک اپنے رعب دبدبے سے سون پور پر حکومت کرنے والا سون پور سے باہر بے گورو کفن پڑا رہا۔ تاریخ کے پنوں پر ایک اور داستان رقم کرچکا تھا۔

سردار روئیداد خان اور پریامرس اللہ داد کے موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سون پور میں پھیل گئی۔ چارسو ماحول میں سوگواری چھا گئی تھی۔ پورا سون پور بدلے کی آگ میں سراپاء انتقام بن چکا تھا۔ آخر سردار روئیداد خان آٹھ برادریوں کا سردار تھا۔ سردار روئیداد خان کی میت حویلی پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ اب کفن دفن کی تیاریاں ہوری تھی لیکن بالاچ خان غائب تھا سب لوگ تذبذب میں تھے کہاں چلا گیا کسی کو خبر نہ تھی اور سردار کا خاص نوکر پیربخش پیرو بھی موجود نہ تھا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

اچانک صعوبیدار کو چند دن پہلے کا واقعہ یاد آیا۔ تو وہ جلدی سے ٹکری شاہ مراد کی بستی شم کے لیے روانہ ہوا۔ وہ رکے بغیر تیزی سے سفر کرتا ہوا شم پہنچا ٹکری شاہ مراد سے ملاقات ہوئی اوراسے سارا واقعہ سنا کر بالاچ کو ساتھ لیجانے کی بات کی۔ ٹکری شاہ مراد یہ بات سن کر کافی پریشان ہوگیا کہ بالاچ کو کیسے بتایا جائے۔ ٹکری شاہ مراد خود سون پور چلنے کے لیے تیار ہوا۔

بالاچ کے پاس پہنچا اسے چلنے کے لیے کہا۔ بالاچ صعوبیدار کو دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ ضرور روئیداد خان نے بھیجا ہوگا۔ لیکن ٹکری شاہ نے مراد نے اسے تسلی دی کہ میں تمھارے ساتھ چل رہا ہوں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تینوں تیزی کے ساتھ سفر طے کرنے لگے راستے میں ادھر، ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اورآخرکار سون پور پہنچ گئے تو ٹکری شاہ مراد بالاچ سے کہنے لگا!

بالاچ بیٹا تمھارے بابا سردار روئیداد خان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور صعوبیدار صاحب اسی لیے تمھیں لینے آئے تھے اور میں تمھارے ساتھ آیا ہوں۔ شاہ مراد بالاچ کو آگے کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے لگا۔ بالاچ چب رہا اور چہرے سے ناگواری جھلک رہی تھی ٹکری شاہ کی وجہ سے وہ کچھ نہ بولا کیونکہ بالاچ اس پراندھا اعتماد کر رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ صعوبیدار کو دیکھ کر شاہ مراد کے ساتھ چلنے کو راضی ھوا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 7 By Qaisar Hameed Ronjho

حویلی پہنچے تو ہزاروں لوگ جمع تھے جب بالاچ کو دیکھا تو دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ صعوبیدار بالاچ اور شاہ مراد کو لیکر سیدھا میت کے پاس پہنچا۔ سفید کفن میں لپٹے سردار روئیداد خان کی آنکھیں بند تھیں اسکا کفن جگہ جگہ سے سرخ تھا بالاچ اسے گھورے جارہا تھا۔ اچانک وہ صعوبیدار سے مخاطب ہوا کہ کیا ہوا! صعوبیدار نے اسے ساری کہانی سنا دی۔ ٹکری شاہ مراد بالاچ کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل اسکے حوصلے کی داد دے رہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *