Urdu Afsana Shangal Episode 6 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal

(اردو افسانہ شانگل (چھٹی قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

بالاچ کا گھر سے چلے جانا سردار روئیداد خان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا بالاچ اسکی اکلوتی اولاد تھا۔ بالاچ کا زخم رس رہا تھا کہ پریامرس عارب خان کے لشکر کو شکست اورعارب خان کی موت کی روح فرسا خبریں سن کر سردار روئیداد خان کے اوسان خطا ہوگئے۔ اس نے جلدی اپنے قبیلے کے معزیزین ومعتبرین کو بھلایا۔ تاکہ سنگور کے سردار محبت خان کے لشکر کی جارحیت کا سدباب کیا سکے۔

سون پور کے تمام معزیزین ومعتبرین جو اپنے اپنے علاقوں کے پریامرس اور ٹکری تھے۔( سردار کے نمائندے جو اپنے اپنے علاقوں کا انتظام سنبھالتے ) سردار روئیداد خان کے ڈیرے پر جمع تھے۔ سردار روئیداد خان نے انکو ساری صورت حال سنا دی اور انکو جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ سردارروئیداد خان خود پریامرس کے لواحقین سے تعزیت کرنے کے لیے روانہ ہوا اور روایت کے مطابق پریامرس کی پگ عارب خان کے بڑے بیٹے کے سر پرباندھنی تھی جسکے بعد وہ سردار روئیداد خان کا نمائندہ اورعلاقے کے انتظام کی بھاگ دوڑ کی زمے داری سنبھالتا۔

Urdu Afsana Shangal

سردار روئیداد خان اپنے مشیروں کے ساتھ پریامرس کے گھر پہنچا تعزیت کے بعد علاقہ معتبریں اور اپنے مشیروں کی موجودگی میں عارب خان کے بیٹے کی پگ بندی کی تقریب ہوئی۔ سردار روئیداد خان نے وہاں کے لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا تاکہ سنگور کے قاتلوں سے عارب خان اور دوسرے مقتولوں کا بدلہ لیا جائے اوران سے اپنے علاقوں کا قبضہ ختم کرایا جاسکے۔ یہاں کے لوگ پہلے ہی اپنے اپنے پیاروں کے مارے جانے سے غم وغصے میں بھرے بیٹھے تھے کہ سردار روئیداد خان کے بڑھاؤے کے بعد وہ اور بھی پرجوش نظر آنے لگے۔

سردار روئیداد خان واپس آکر لشکر تیار کرنے لگا۔ قریبی علاقوں سے بھی جنگی سازو سامان کے کئی گروہ پہنچ چکے تھے۔ سون پور کی فضاؤں میں جنگ کی بو رچی ہوئی تھی لوگ سہمے سہمے نظر آرہے تھے کیونکہ جنگ کی صورت میں کئی ماؤں کی گود اجڑ جاتی، کئی سہاگ چھن جاتے، کئی بوڑھوں کے بڑھاپے کی لاٹھیاں ٹوٹ جاتی۔ آخرکار لشکر سازوسامان سے لیس ہوکر سارونہ کے لیے روانہ ہوا۔ لڑائی کے فن میں ماہر سمجھے جانے والے جنگجو جو ہرطرح کے جنگی سامان سے لیس تھے سردار روئیداد خان کا علم ہاتھوں میں لیے سارونہ پہنچ گئے۔

Urdu Afsana Shangal

اب آگے کا علاقہ سردار محبت خان کے قبضے میں تھا دونوں لشکر آمنے سامنے تھے اس مرتبہ بظاہر سون پوری لشکر کا پلڑا بھاری نظر آرہا تھا۔ سنگور کے لشکر نے جب دیکھا کہ سون پوری پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں توانھوں نے دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔ سنگور کے سردار محبت خان کا بھائی لشکر کا سپہ سالار تھا۔ اس نے بلاتاخیر اپنے بھائی کے پاس قاصد بھیجا۔ سونپوری لشکر نے چاروں طرف سے شدید حملے کیے۔ مقتول عارب خان کا بیٹا پریامرس اللہ داد بھی شامل تھا اور اپنے باپ کے بدلے کی آگ میں جل رہا تھا۔

سنگور کے لشکر کے دفاعی حربے بھی ناکام ثابت ہورہے تھے شام تک سون پوری لشکر نے سنگور کے لشکر کو کافی پیچھے دھکیل دیا تھا اور انکے کافی لوگ مارے جاچکے تھے۔ رات کو قبائلی جرگے کا وفد سورش زدہ علاقے میں پہنچ گیا اورجنگ روک دی۔ سنگور کا لشکر کافی نقصان اٹھا چکا تھا۔ اس لیے اس نے بلا تامل جرگہ کے وفد کے کہنے پر مورچے ختم کر دیئے۔ سردار روئیداد خان کا لشکر غالب تھا اس لیے وہ جرگہ کے وفد کی آمد سے خوش نہیں تھا لیکن مجبورن جنگ بندی کرنا پڑی اگرجرگہ کے وفد کی موجودگی میں پیش قدمی کرتے تو سراسر گھاٹے میں جاتے۔

بالاچ نے رکے بغیر سفر جاری رکھا تاکہ وہ جلد شم ٹکری شاہ مراد کی بستی پہنچ سکے شانگل سے ملنے کی خوشی نے اسے بھوک پیاس اورتھکاوٹ کے احساس سے عاری کردیا تھا۔ محبت کی چنگھاڑی شعلہ بن کر بھڑک رہی تھی شانگل کے خیالوں گم وہ اپنی منزل تک پہنچ گیا۔ اسے پتہ تھا اس وقت شانگل پہاڑوں پربکریوں کے ساتھ ہوگی اس لیے وہ سیدھا اسی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ چشمے پررک گیا گھوڑے سے اتر کر اس نے پانی پیا اور منہ دھویا گھوڑے کو بھی پانی پلایا اور آگے بڑھا اب اسکی نظریں شانگل کو ڈھونڈ رہی تھیں اس نے سوچا کہ اب شام کا وقت ہورہا ہے اب وہ واپسی کی تیاری میں ہوگی۔

Urdu Afsana Shangal

اس لیے دور جانے کے بجائے آس پاس قریبی پہاڑیوں میں ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔ بالاچ نے جلد ہی اسے دیکھ لیا۔ شانگل اسی پتھرپربیٹھی تھی جہاں دونوں نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور بچھڑے تھے۔ بالاچ نے دیکھا کہ شانگل آس پاس سے بے خبر گھٹنوں میں سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اسکے قریب پہنچا تھا لیکن شانگل نے ابھی تک دیکھا نہیں تھا۔ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر آواز دی۔ شانگل ! آوازسن کر شانگل نے گھٹنوں سے سر اٹھایا اورآس پاس نظر دوڑائی، جب اسکی نظر بالاچ پر پڑی تو ایک جھٹکے میں کھڑی ہوگئی اور بالاچ کی طرف قدم بڑھا لیے۔

شانگل بالاچ کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی جس دن بالاچ واپس اپنے گھر چلا گیا تھا شانگل کو کسی پل چین نہیں مل رہا تھا ۔ بالاچ کی محبت اسکی روح میں رچ بس چکی تھی اور اسے وہم ستانے لگا تھا کہ کہیں بالاچ اسے دھوکہ نہ دے دے کیونکہ وہ بڑے شہر میں رہنے والا پڑھا لکھا خوبصورت اورسُکھی گھرانے کا نوجوان لڑکا تھا۔ اس کے لیے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی جبکہ شانگل پہاڑوں میں رہنے والی غریب لڑکی تھی جس کے شب وروز اس بستی کے اطراف پہاڑوں میں بھیڑ بکریوں کے پیچھے رُلتے گزر رہے تھے۔

لیکن اب تو اسے بالاچ کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا اسکے ساتھ گزرے چند پل جس میں اظہار محبت ہی ہوا تھا وہ اسے یاد کرتی رہتی اور سارا دن اسی پتھر پہ بیٹھی رہتی تھی۔ شانگل گھٹنوں میں سردے کراسی پتھر پر بیٹھی بالاچ کو یاد کرکے رو رہی کہ کسی نے اسکا نام لے کر پکارا جب مڑ کر آواز کی سمت نظر دوڑائی تو اسے یقین نہیں آرہا تھا ابھی ابھی شدت سے جسے یاد کرکے سے آنسو بہا رہی تھی وہ اسکے سامنے کھڑا ہوگا۔

شانگل نے بالاچ کو دیکھا تو دوڑ کر اسکے گلے سے لگ گئی اسکی آنکھوں سے کچھ دیر قبل بالاچ کی یاد میں بہنے والے آنسو اچانک اتنی خوشی ملنے کے سبب اور بھی تیزی سے رواں ہوگئے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ کوئی غم ملے یا خوشی لیکن اسکی آنکھ سے آنسو ضرور بہتے ہیں۔ اسوقت شانگل بھی اسی کیفیت سے دوچار تھی پہلے غم میں بہنے والے آنسو اب خوشی میں بہہ رہے تھے۔ بالاچ نے شانگل کو اپنی بانہوں میں بھرلیا اور شدت کے ساتھ بھینچ لیا تھا جسے وہ شانگل کے وجود کو اپنے آپ میں سمو لینا چاہتا ہو۔

Urdu Afsana Shangal

بالاچ کو محسوس ہوا کہ شانگل سسک رہی ہے اور اپنے سینے پرنمی کا احساس ہورہا یہ شانگل کے آنسو تھے جسکی وجہ سے بالاچ کی قمیض بھیگ کر اسکے سینے سے چپک گئی تھی۔ کافی دیر دونوں آس پاس سے بیگانہ ہوکر ایک دوسرے میں کھوئے رہے دونوں خاموش تھے۔ بالاچ نے اپنے بانہوں کے گھیرے سے آزاد کرکے اپنے دونوں ہاتھوں کو اسکے کندھے پر رکھ کہ کہنے لگا ۔ دیکھو شانگل میں نے اپنا وعدہ پورا کرلیا ہے تمھاری محبت مجھے کھینچ کر تمھارے پاس لے آئی۔ میں اب ہمیشہ کے لیے تمھارے پاس آگیا ہوں۔

بابوجی! میں بہت خوش ہوں اور مجھے یقین نہیں ہورہا کہ میرے اللہ نے اتنی جلدی میری دعائیں قبول کرلی ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *